جب سرکار فیصلہ لے چکی ہے تو پھر تماشہ کیوں؟

 جموں //پنچایتی انتخابات کے حوالہ سے وزیر اعلیٰ کی صدارت میں منعقد ہونے والی ’کل جماعتی میٹنگ‘کوتماشہ قرار دیتے ہوئے ممبر اسمبلی خانیار علیٰ محمد ساگر نے کہا کہ اگر سب کچھ سرکار نے پہلے تہہ کر دیا ہے تو پھر کل جماعتی میٹنگ منعقد کرنے کا کیا مقصد ہے ۔ایوان زیرین کی کارروائی ہفتہ کو جیسے ہی شروع ہوئی توعلی محمد ساگر اپنی نشست سے کھڑے ہوے اور ایک اخبار کی کاپی کو ہاتھ میں لہراتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری کی طرف محاطب ہو کر کہا کہ پنچایتی انتخابات کے حوالہ سے آپ نے سب کچھ طے کر دیا ہے ، پھر کل جماعتی میٹنگ بلانے کا کیا فیصلہ ہے۔ ساگر کے احتجاج پر عبدلرحمان ویری نے کہا کہ کل جماعتی میٹنگ میں سبھی ممبران کی رائے کے بعد جوفیصلہ ہوگا ،اس کو کابینہ اجلاس میں زیر غور لاکر پنچایتی چناؤ کے بارے حتمی فیصلہ لیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس میں کابینہ کو فیصلہ لینا ہوتا ہے اور یہ فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا ہے ۔وزیر نے کہا کہ ہم کل جماعتی میٹنگ کیلئے سنجیدہ ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ خود اس کی صدارت کر رہی ہیں ۔