جبری افطار پارٹیاں منعقد کرنے کا کیا مقصد؟

سرینگر//تحریک حریت،لبریشن فرنٹ، ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی،تحریک مزاحمت،ڈیمو کریٹک پولٹیکل مومنٹ ،ووئس آف وکٹمز اور پیروان ولایت نے شوپیان میں افطار پارٹی کے موقع پر فوج کی طرف سے نہتے عوام کو گولیوں کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔تحریک حریت نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جبری افطار پارٹیاں منعقد کرنے کا کون سا جواز ہے۔ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ چانکیائی سیاست عوام کو راس نہیں آتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ فورسز نے سال بھر عوام کے ساتھ کون سا رویہ اختیار کیا ہوا ہے، جس کی وجہ سے پوری وادی بالعموم اور جنوبی کشمیرکو بالخصوص خون کے آنسو رونے پر مجبور کیا گیا۔ شوپیان کے ہر گاؤں سے لاشوں کے ڈھیر لگا کر قیامت صغریٰ بپا کی گئی۔ ابھی فورسز کی گولیوں سے مارے گئے یا زخمی ہوئے نہتے شہریوں کا خون خشک نہیں ہوا ہے تو وہ کیسے فورسز کی افطار پارٹیوں میں شریک ہوں گے۔بیان کے مطابق اس طرح کی جبری افطار پارٹیاں منعقد کرنا بھی ایک قسم کا ٹارچر ہے اور پھر لوگوں کی ناراضگی پر گولیاں برسانا ظلم عظیم ہے۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افطار کے وقت ڈی کے پورہ شوپیان میںفائرنگ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوجی جن کے ہاتھ معصوم کشمیریوں کے خون سے رنگے ہیں اب ہمیں ــــ’’جبری افطار آپریشن ‘‘ میں شامل کرانا چاہتے ہیں اور گزشتہ شب جب شوپیاں کے لوگوں نے اس میں شمولیت سے انکار کیا تو ان پر اندھا دھند گولیاں اور پیلٹ کی بارش کردی گئی۔ اس خونین واقع نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کردی کہ بھارتی فوج و فورسز کے نزدیک نہ ہی کشمیریوں کے مذہبی احساسات کی کوئی قدر و قیمت ہے اور نہ ہی انسانی زندگی ان کیلئے کوئی معنی رکھتی ہے۔ ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ظالمانہ حرکت سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بھارت کو کشمیری عوام نہیں بلکہ صرف کشمیر کی زمین سے دلچسپی ہے۔ پارٹی ترجمان نے شوپیان میں پیش آئے اس واقع کو جابرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈی کے پورہ گائوں کے لوگوں نے فوج کی افطارپارٹی رد کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگیا ہے کہ کشمیری عوام کو محض سطحی یا دکھاوے کے اقدامات سے مائل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ڈی کے پورہ میں پیش آیا واقعہ بھارت کیلئے نوشت دیوار بن جانا چاہئے اور نئی دلی کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ جب تک جموں کشمیرکے عوام کامسلمہ حق خود ارادیت تسلیم نہیں کیا جائے گا ،اُنہیں کسی بھی صورت میںخاموش نہیں کرایا جاسکتا ہے اور نہ افطار پارٹیاں جیسے اقدامات سے اُنہیں لبھایا جاسکتا ہے۔تحریک مزاحمت کے محبوس سربراہ بلال احمد صدیقی نے واقعہ کو انتہائی بزدلانہ اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے غیور عوام کی جدوجہد نے نہ صرف یہ کہ بھارتی فوج کو اخلاقی شکست سے دوچار کیا ہے بلکہ اس کا ذہنی توازن بھی پوری طرح سے بگڑ چکا ہے جس کا ثبوت امام صاحب شوپیان کا یہ دلدوز واقع ہے۔ڈیمو کریٹک پولٹیکل مومنٹ کے جنرل سکریٹر ی خواجہ فردوس نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کی یہ کاروائی ہر لحاظ سے انسانیت کش  ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈی کے پورہ گائوں کے لوگوں نے فوج کی افطارپارٹی رد کرکے ایک مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ظلم و ستم کے خاتمے اور مسئلہ کشمیر کے دائمی اور منصفانہ حل کی خاطر اپنے اثر و رسوخ کا مؤثر استعمال کریں۔ووئس آف وکٹمز کے کوارڈی نیٹر عبدالرئوف خان نے شوپیان واقعہ کو بھارت کی جمہوریت پر ایک دھبہ قرار دیتے ہوئے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ پیروان ولایت نے شوپیان واقعہ کوفوج کی بوکھلاہٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیٹی بچاو بیٹی پڑھائو کا ڈھنڈورا پیٹنے والے کشمیری بیٹیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا نظارہ کررہے ہیں جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بھارت میں جمہوریت نام کی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔ ماس مومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی نے کہا ہے کہ دہلی سے لیکر سرینگر تک جنگ بندی دعوئوں کی قلعی کھل چکی ہے۔فریدہ بہن جی نے شوپیاں کے عوام کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انہوں نے فوج کی افطار پارٹی کو مسترد کیا،وہ دیگر لوگوں کیلئے ایک سبق ہے۔