جاہلانہ رسمِ جہیز اور اس کی حقیقت

اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں محیط ہے ۔ زندگی کے تمام امور و معاملات میں اللّہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل اطاعت کانام اسلام ہے ۔ اللّہ تعالی کی نازل کردہ ہدایات اور رسول اللہ صلی اللہ کی سنن دونوں سے مل کر شریعت بنتی ہے۔ اللّہ تعالی کا ارشاد ہے :’’ جو لوگ اللّہ تعا لیٰ کی نازل کردہ ہدایات کے مطابق فیصلہ نہ کریں، ایسے ہی لوگ دراصل کافر ہیں ‘‘۔(سورہ المائدہ)یعنی کسی مسلمان کے لے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اللّہ کی نازل کردہ تعلیمات کی خلاف ورزی کرے ۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشِ نفس شریعت کے تابع نہ ہو جائے، جسے میں لے کر آیا ہوں‘‘۔ (حدیث) ہر اہل ایمان کو اپنے تمام امور و معاملات کو اسی شریعت کے تابع کردینا لازمی ہے اور وہ مسلمان رہنا اور مسلمان مرنا چاہتا ہو، اُسے وہ جاہلانہ اور غیر اسلامی رسوم و رواج اور غلط طریقوں کو چھوڑ دینا ہوگا جو شریعت اسلامی کے خلاف ہوں اور اسلامی تعلیمات سے ٹکراتے ہوں ۔ یہی ترکِ جاہلیت اسلام چاہتا ہے اور اس کے خلاف عمل حرام ہے۔ آج شادیوںکے اندر جن جاہلانہ اور غیر اسلامی رسوم کا رواج ہوچکا ہے، ان میں ایک ’جہیز‘ ہے جو مہر کی ضد میں شریعت اسلامی کے خلاف پروان چڑھ چکی ہے ۔
شریعت میں لڑکی پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے، مرد کو اپنی حسب حیثیت ضروری امور میں مال خرچ کرنا چائیے۔ اللّہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :’’ مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ اس بنا پر کہ وہ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ‘‘۔(سورہ النساء)مال خرچ کرنے میں کپڑے ،زیور،مہر، ولیمہ اور نفقہ شامل ہے۔ اس میں مہر فرض ہے، اس کی ادائیگی اگر نقد (مہر معجّل )اداکردی جائے تو افضل ہے ورنہ اگر اُدھار (مہر مئوجّل) ہوتو وعدہ کرنا ضروری ہے کہ وہ کب اور کس طرح ادا کرے گا۔ لیکن اگر نیت یہ ہو کہ لکھ لیا جائے کون دیتا ہے تو ایسے شخص کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ نے فرمایا،’’ جس نے ایک مال مہر کے عوض کسی عورت سے نکاح کیا اور نیت یہ رکھی کہ اس مہر کو ادا نہ کرے گا، وہ دراصل زانی ہے‘‘۔ (حدیث) 
غور فرمائیں، مہر ادا نہ کرنے کی نیت کتنا سنگین گناہ ہے۔ اس وقت معاشرہ میں مہر کی حیثیت جہیز نے ثانوی کردی یا گھٹادی ہے۔ مہر برائے نام اور سادگی سے رکھ لیا جاتا ہے جب کہ جہیز جو حرام ہے نقد وصول ہوتا ہے۔ اس مال حرام کی نمائش اور پورے گاوں میں اس کا چرچا ہوتا ہے۔ لوگ اس کو دیکھنے کے لئے آتے ہیں ،مال جس قدر ملتا ہے حرص اور لالچ میں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔ 
اللہ تعالی کا ارشاد ہے،’’ اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقوں سے مت کھاو‘‘۔ ( سورہ النساء) بعض حضرات اس کو سنت ثابت کرتے ہیں اور دلیل میں حضرت علی رضی اللّہ اور حضرت فاطمہ رضی اللّہ عنہا کے نکاح کی مثال پیش کرتے ہیں کہ آپ صلی اللّہ نے ان دونوں کو نکاح کے وقت یہ جہیز دیا تھا ( چادر ،تکیہ ،مشک، بستر،چکی)وغیرہ ۔ اگر نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے یہ چیزیں جہیز میں دی ہیں تو وہ سنَت رسول اور شریعت اسلامی کا ایک جز بن گئیں ۔اس کے خلاف بولنے کا سوال ہی نہیں بلکہ اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ مثال پیش کرکے ایک جاہلانہ رسم کو سنَت رسول صلی اللّہ بنادیا جاتا ہے۔ اصل واقعہ اس طرح ہے:
ابو طالب جو نبی اکرم صلی اللہ کے چچا تھے، وہ کثیر الاولاد اور تنگدست تھے، اس لئے ان کی اولاد کو نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان (بنوہاشم) میں تقسیم کردیا تھا اور حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کو اپنے پاس رکھا تھا۔ جب آپ صلی اللّہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ سے حضرت فاطمہ رضی اللّہ عنہا کا نکاح کرنے کا فیصلہ کیا تو حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس کیا ہے ؟حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میرے پاس ایک گھوڑا اور ایک زرہ ہے۔ حضور صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا :زِرہ بیچ دو ،یہ زِرہ حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عثمانِ غنی رضی اللّہ عنہ کو ٤٨٠ درہم میں بیچ دیا۔ اسی رقم سے یہ چیزیں، چادر، مشک، چکی، تکیہ وغیرہ خریدی گئیں جواُس وقت کی ضرورت اور معیار زندگی تھے۔ بقیہ رقم مہر اور ولیمہ وغیرہ میں استعمال کی گئی۔ اگر نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم یہ چیزیں اپنے پاس سے دیتے بھی تب بھی اس کی حیثیت جہیز کی نہ ہوتی کیونکہ حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھے۔ 
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک گروہ نے حضرت علی رضی اللّہ تعالیٰ عنہ، حضرت فاطمہ رضی اللّہ عنہا اور ان کی اولاد کو مرکز دین بناکر سارا نظامِ دین انہی کے گرد گھمایا ہے۔ اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم کی دیگر صاحبزادیوں کو بھول چکے ہیں یا ان کا ذکر ہی نہیں ہے، کسی جگہ کہ نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے ان کو کیا جہیز دیا تھا ۔ 
 اگر آپ تاریخ پر نظر ڈالیں تو خود نبی اکرم صلی اللّہ علیہ وسلم نے کئی نکاح کئے۔ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کی دیگر صاحبزادیوں، حضرت زینب، حضرت رُقیہ، حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنھم کی شادیاں کیں۔ اس کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللّہ عنھم، خلفاء راشدین، تابعین، قرن اولی وسطی میں کہیں دور دور تک یہ جاہلانہ 'رسمِ جہیزنظر نہیں آتی ہے۔ اگر جہیز سنّت رسول صلی اللّہ علیہ وسلم ہے تو ان ادوار میں اس کے نمونے اور مثالیں ملنی چایئے تھیں۔ بہر حال یہ لڑکے کی مردانگی کے خلاف ہے کہ وہ صنف لطیف کے دئے ہوئے لباس پہن کر عقد کرے، اس کی لائی ہوئی چیزوں پر عیش کرے، ہونے والی شریک حیات سے مانگے یا لے،یہ تو اس کے فقیر ہونے کی علامت ہے۔ پھر اس صنف لطیف پر دوسرا ظلم ان کے والدین کرتے ہیں، وہ جاہلانہ رسم جہیز کو تو خوش دلی سے ادا کرتے ہیں لیکن وراثت میں لڑکی کا حصہ ادا نہیں کرتے جو کہ حقوق العباد میں سے ہے ،جسے اگر دنیا میں ادا نہیں کیا تو آخرت میں نیکیوں کی شکل میں ادا کرنا ہوگا۔
آخر ان باتوں کے ذمہ دار کون ہیں:    کیا معاشرہ کی وہ لڑکیاں جو عدمِ جہیز کی وجہ سے بوڑھی اور برباد ہورہی ہیں ؟کیا وہ والدین جو لڑکی کی پیدائش کے وقت سے ہی جہیز کے تصور سے پریشان اور بعد میں جہیز کے لئے رقم جٹانے میں مقروض اور تباہ ہو جاتے ہیں ؟کیا ہمارا مسلم معاشرہ جو بے حسی کا شکار ہے؟کیا وہ دولت مند لوگ جو دولت کی نمائش کرنا چاہتے ہیں ؟کیا وہ واعظ جو جہیز کے خلاف وعظ اور تقریریں کرتے ہیں لیکن اس کے لینے اور دینے میں وسعتِ قلب رکھتے ہیں ؟یا وہ لوگ جنہوں نے کمال حکمت سے جہیز کو سنّت رسول کا جزء بنادیا ؟  
اللّہ تعالیٰ ہم سبھی کو شریعت اسلامی سے کھلواڑ کرنے سے باز رکھے اور قرآن و سنت پر پورا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 
(مصنف دارالعلوم رحیمیہ میں مدرس ہیں، یہ تاثرات مصنف کے ذاتی ہیں اور ان تاثرات سے ادارے کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے )