جاں بحق عسکریت پسندوں کے لواحقین سے مزاحمتی جماعتوں کی تعزیت پرسی

 سرینگر//ریڈہ بگ ماگام میں تصادم آرائی میں مارے گئے 3عسکریت پسندوں کے گھر جاکر لبریشن فرنٹ، تحریک حریت ، مسلم دینی محاذوفود نے لواحقین سے تعزیت پرسی کی اور ڈھارس بندھائی۔لبریشن فرنٹ کے قائدین نور محمد کلوال، ظہور احمد بٹ،مشتاق اجمل، سرا ج الدین میر،بشیر احمد کشمیری، محمد رمضان صوفی ،عبدالرحمن اور عاقل احمد پر مشتمل وفود نے پاندان نوہٹہ، غوری پورہ صنعت نگر اور سید پورہ چیرپورہ نارہ بل پہنچے جہاں انہوں نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔نور محمد کلوال ،ظہور احمد بٹ اور سراج الدین میر نے تعزیتی مجالس سے خطاب کرتے ہوئے شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ قوم کاشمیر ان کی مقروض ہے کیونکہ انہوں نے اپنی اُٹھتی ہوئی جوانیاں ہمارے روشن مستقبل کی تعمیر کیلئے قربان کردی ہیں۔ مقررین نے کہا کہ بھارت اور اسکے گماشتے ہمارے ان معصوم بچوں کو جیلوں اور پولیس تھانوں میں ٹارچر اور تذلیل کا شکار بناکر پشت بہ دیوار کررہے ہیں اور بعدازاں ان کے لہو کی ہولی کھیل کر ان کی لاشوں پر جشن منایا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہ شہداء ہمارے اصل ہیرو ہیں اور بھارت اور اسکے گماشتوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قوم کشمیر اپنے ان جیالوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کے مشن کی تکمیل کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔شہید تفضل الاسلام نارہ بل کی یاد میں چیر پورہ میں منعقدہ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین میر نے اس شہید کو جرات کی اعلیٰ مثال قرار دیا اور کہا کہ ان شہداء کی قربانیاں کسی بھی صورت میں رائیگان نہیں جانے دی جائیں گی ۔ادھر تحریک حریت چیئرمین سید علی گیلانی کی ہدایت پرتنظیم کے لیڈر محمد رفیق اویسی نوہٹہ ، جبکہ عمر عادل ڈار، نثار احمد بیگ اور مظفر احمد گوری پورہ حیدرپورہ گیا جہاں انہوں نے رڈبُگ میں مارے عسکریت پسندوں کے گھر جاکر تعزیت پرسی کی۔ عمر عادل ڈار نے عاقب کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جموں وکشمیر کی تحریکِ آزادی کو فوجی طاقت پر دبانے کے تمام حربے آزمائے اور بھارتی حکمرانوں نے یہاں کے گماشتوں کی مدد سے سیاسی آواز کو ظلم وجبر، تشدد، مار دھاڑ، قتل وغارت گری اور گرفتاریوں سے خاموش کرنے کی بھرپور کوششیں کیں، جس کے نتیجے میں یہاں کے جوان سیاسی عمل سے متنفر ہوکر سرفروشی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوئے، کیونکہ بھارت نے یہاں کے عوام کو سیاسی حقوق سے یکسر محروم کردیا اور بھارتی جمہوریت کے کھوکھلے دعوے سراب ثابت ہوئے۔ درایں اثنا مولانا مدثر ندوی نے جامع مسجد پانتھہ چھوک میں نماز جمعہ پر خطاب کیا۔اس دورانمسلم دینی محاذ کا  ایک وفد سرینکر ضلعی امیر طاہر اور ضلع سیکریٹری شبیرزرگر کی قیادت میں عاقب  احمدکے گھرگیا اورلواحقین کی ڈھارس بندھائی۔  ماس مومنٹ کی سربراہ فریدہ بہن جی نے  سجاد احمد گلکار کے اہل خانہ کے ساتھ فون پر تعزیت کا اظہار کیا اور سوگوار کنبے کی ڈھارس بندھائی۔