جان بچی تولاکھوں پائے

سیلاب کے آہنی  حصار میں محصور اب میں اپنے سرکاری بنگلے کی پہلی منزل میں موجود ، اپنی خوابگاہ کی کھڑکی سے بیک وقت کئی دل دہلا دینے والے مناظر دیکھ رہا تھا ۔ یہ مناظر بڑے کربناک تھے اور  کاری ضرب لگا کر ہماری بےبسی کا  مذاق اُڑا رہے تھے ۔ میری نِگاہ کے ٹھیک سامنے بنگلے کے مرکزی گیٹ پر اِستادہ کنکریٹ کے دو متوازی بہم صورت ستونوں کے ٹھیک اُوپر نصب بجلی کے دو بڑے مرکری بلب اب دھیرے دھیرے زیر آب آ رہے تھے ، کیونکہ سطحِ آب اب دھیرے دھیرے اُوپر جارہی تھی ۔ لگ رہا تھا کہ یہ ہائی وولٹیج کے دو بلب اب کچھ ہی دیر کے مہمان ہیں اور دھیرے دھیرے اب  زندگی کی جنگ ہار رہے ہیں ۔  اب یہ بلب بُجھنے والے ہیں اور ان کی کہانی ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہونے والی ہے ۔ یہ ایک درد و کرب جگا دینے والا منظر تھا ۔ روشنی اور اُجالے کے پاسدار یہ بلب اب دھیرے دھیرے پانی میں ڈوبتے جارہے تھے اور ایک خوفناک تاثر قائم کر رہے تھے ۔ایسے ، جیسے اب ہم بھی دھیرے دھیرے ڈوب رہےہوں اور کچھ دیر بعد ہمارا حال بھی کچھ کچھ ایسا ہی ہو ۔ یہ سوچ کر کلیجہ مُنہ کو آرہا تھا اور من ہلکان ہو رہا تھا ۔
  پیش منظر میں ایک اور کربناک منظر بھی ٹھیک نگاہوں کے سامنے تھا جو خاصا دل خراش اور  ڈراونا تھا ۔ سامنے لان میں اِستادہ ایک پیڑ پر بنا ایک گھونسلہ موجود تھا جو خطرے میں تھا کیونکہ سطح آب اب دھیرے دھیرے بُلند ہورہی تھی اور اس گھونسلے کے قریب تر ہوتی جارہی تھی ۔ ایک چِڑا اور چِڑیا شور مچاتے ہوئے پیہم اس گھونسلے کے اردگرد چکر لگا رہے تھے کیونکہ اس گھونسلے میں ان کے نوزائید بچے متمکن تھے اور آنے والے طوفان سے بے خبر اپنی چونچیں ہلا ہلا کر شور مچا رہے تھے ۔ اُدھر کوئی بلی اپنے بچوں کو بچانے کی فکر میں تو کہیں کوئی کُتیا اپنے پلوں کو بچانے کی تگ و دو میں جُٹی ہوئی تھی ۔  چہار سو خوف و دہشت کے ایسے ہی بیسیوں پرحول اور خوفناک نظاروں کے ساتھ لوگ اپنی بے بسی کا تماشا کر رہے تھے اور موت کی بے نیام تلوار کو اپنےسروں پر لٹکتے ہوئے بڑے قریب سے دیکھ رہے تھے ۔
سارا شہر اب زیرِ آب تھا ۔ حدِ نگاہ تک پانی ہی پانی نظر آرہا تھا ۔ گندہ اور گدلا پانی ۔ پورا ماحول پراگندہ تھا ۔ چہار سو  تعفُن پھیل رہا تھا اور ہا ہا کار مچی ہوئی تھی  ۔ چھم چھم طوفانی بارشیں اب بھی جاری تھیں اور تھمنے کا  نام نہیں لے رہی تھیں ۔ پانی گھروں کے اندر داخل ہوچکا تھا ۔ کہیں سطحی منزل تو کہیں پہلی منزل بھی اب زیر آب آ چُکی تھی ۔ نشیبی علاقہ جات میں پانی گھروں اور مکانات کی چھتوں تک  بھی آگیا تھا ۔ لوگوں کی گاڑیاں اور گھریلو اسباب اب پانی کے اندر تحس نحس تھا ۔ آہ و فغاں جاری تھی اور لوگ اپنی جانیں بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے ۔ سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگ مدد کےلئے چیخے چلائے جارہے تھے ۔ لوگ تھے کہ بالائی منزلوں میں پناہ گزین ہوکر اب توبہ استغفار پڑھ رہے تھے کیونکہ تارِ باراں ہنوذ جاری تھا اور بھاری تباہی کا عندیہ دے رہا تھا ۔
 دو تین دن کی پیہم اور مسلسل بارشوں نے یہ حال کردیا تھا ورنہ یہاں تو برسات میں اس سے بھی زیادہ تیز اور لگاتار بارشیں ہوا کرتی ہیں ۔ کچھ نہیں ہوتا  ، تھوڑی سی اُتھل پتھل کے ساتھ برسات نِکل جاتی تھی اور سب کچھ ٹھیک ٹھاک گُزر جاتا ہے ۔ اب قہرِ قدرت کا نزول ہو اور شامت اپنا مقدر ، تو کوئی کیا کرے ؟ ایسے میں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پِس جاتا ہے ۔
دراصل بارشوں کے دوران بالائی اور پہاڑی علاقوں میں پیہم کئی جگہ یکے بعد دیگرے بادل پھٹنے کی وجہ سے پانی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اُمنڈ کر آیا تھا جو دندناتا ہوا نشیبی علاقہ جات کے خس و خاشاک کو روندتا ہوا واردِ شہر ہوا تھا اور اب بڑی تباہی مچا رہا تھا ۔ معمول کی بارشیں تھیں ، سو لوگ کچھ زیادہ سمجھ بھی نہیں پائے  ۔ گھروں میں بیٹھے رہے کہ لینے کے دینے پڑگئے ، ورنہ سرکار نے تو باضابطہ وارننگ بھی جاری کردی تھی ۔ چنانچہ دانا اور خوش قسمت لوگ محفوظ مقامات پر مُنتقل ہوگئے مگر عقل کے اندھوں کا کیا کیجئے گا ، دھونی رما کر گھروں میں بیٹھ گئے ۔ یہاں ویسے بھی گھر چھوڑنا کسی کو اچھا نہیں لگتا ۔ گھر ہے بھائی ، گھوم پھر کر تو لوگ گھروں میں ہی واپس چلے آتے ہیں ۔ ایسے حالات میں گھر ہم نے بھی نہیں چھوڑا ، سو سیلاب میں پھنس ہی گئے ۔ سِتم ظریفی یہ کہ اپنے ہٹ دھرم ، کاہل ڈرائیور کی حُجت کو مان گئے اور پھر چشم زدن اپنے لاکھوں روپے کی گاڑیوں اور دیگر اسباب کو پانی پانی کر گئے ۔ ڈرائیور صاحب کو کہا بھی تھا کہ کم سے کم گاڑیوں کو تو کہیں محفوظ مقام پر چھوڑ کر چلہ آئے، لیکن وہ اپنی ضِد پر اڑا رہا اور نقصان کرا بیٹھا ۔ لگے ہاتھوں سطحی منزل میں قائم میری خوشحال لائبریری کا وہ بُرا حال ہوا کہ میں اب تک ماتم کُناں ہوں اور اپنا ماتھا پیٹ رہا ہوں ۔
دراصل سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہی لگ رہا تھا کہ اچانک آناً فاناً پانی کے تیز ریلوں نے آن گھیرا ۔ اِن دنوں ہم تُلسی باغ کی سرکاری کالونی کے 13 نمبر بنگلے میں مقیم تھے اور بہت جلد اِسی کالونی کے 19 نمبر کے  بنگلے میں شفٹ کرنے والے تھے ۔ بیگم صاحبہ اور بچوں کا خیال تھا کہ موجودہ بنگلے کا تیرہ نمبر کا ہندسہ کچھ کچھ منحوس سا ہے اور ہمیں کّسی اور بنگلے میں شفٹ کرنا چاہئے ۔ ہم نے بھی اتفاق کیا اور 19 نمبر کے بنگلے میں شفٹ کرنے کی سبیل بھی کرلی ۔ اس صُبح میں بیگم صاحبہ کے ہمراہ مُتبادل اِقامت گاہ یعنی 19 نمبر بنگلے کو دیکھنے چلا گیا تھا ۔  19 نمبر بنگلے کے سرسری جائزے کے بعد اب  ہم واپس آرہے تھے کہ شور شرابے کی آوازوں کے پردہ سماعت کے ساتھ ٹکرانے کے ساتھ ہی ہماری نِگاہ کالونی کے مرکزی پھاٹک کی طرف گئی ، جبھی ہمارے ہوش اُڑ گئے ۔ پانی کا ایک بہت بڑا ریلہ کالونی کے مرکزی پھاٹک کو دھکیلتا ہوا اب مانند سمندر کالونی میں گھُس رہا تھا اور بدمستی کے عالم میں خس و خاشاک کو بہاتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا ۔ ہم نے دیکھا تو پہلی فرصت میں ہم اپنے بنگلے کی طرف بھاگنے لگے ۔ گھر کے اندر داخل ہوئے ہی تھے کہ پانی کے ایک بڑے اور زور دار ریلے نے  بنگلے کے بڑے مرکزی آہنی گیٹ پر دستک دی ۔ گیٹ مضبوط تھا اور مضبوطی کے ساتھ اندر سے بھی بند تھا ، سو چند منٹ پانی کو روکنے میں کامیاب رہا اور یہی چند مِنٹ ہمارے لئے کافی سودمند رہے اور ہم اپنے گھر کی سطحی منزل سے پہلی منزل میں شِفٹ ہوگئے۔
طرفتُہ العین سیلاب کا پانی کالونی کے گھروں کی سطحی منزلوں میں داخل ہونا شروع ہوگیا اور پورے گھروں کو گندے اور گدلے پانی سے بھرتا چلا گیا ۔ اب ہر سو چیخ و پکار شروع ہوئی اور لوگ اپنی اپنی جانیں بچانے کی تگ و دو میں لگ گئے۔ اچھا یہ رہا کہ ہمارے گھر کے بچے اور دیگر افراد خانہ گھر سے باہر تھے اور پہلے ہی سے ایک محفوظ مقام پر منتقل ہوگئے تھے ۔ گھر میں میرے ہمراہ میری بیگم ، میری چھوٹی بچی اور چند ملازمین تھے ۔ بنگلے کی سیکورٹی پر معمور سیکورٹی گارڈ بھی تھے اور ہم سبھی نے بڑی عجلت میں کوٹھی کی پہلی منزل میں شفٹ کیا تھا ۔ ہم نسبتاً کالونی کے بالائی حصے میں رہائش پذیر تھے، اس لئے پہلی منزل کے بچنے کی توقع بھی تھی مگر پھر بھی ہم نے کوٹھی کے بالائی حصے میں ٹھیک چھت کے نیچے شفٹ ہونے کا بھی بندوبست کردیا تھا۔
میں اپنی خوابگاہ کی کھُلی کھڑکی سے کوٹھی کے مرکزی گیٹ کے ان بجلی کی بڑی مرکری بتیوں کو دیکھ رہا تھا جو دھیرے  دھیرے اب زندگی کی جنگ ہار رہی تھی اور پانی میں ڈوبتے چلی جارہی تھیں ۔ چڑے اور چڑیا کی آہ و فغاں بھی جاری تھی جو گھونسلے میں پڑے اپنے بچوں کی متوقع موت کی فکر و آہ وزاری میں لگے ہوئے تھے اور گھونسلے کے اردگرد پھڑپھڑاتے ہوئے پیہم چکر لگا رہے تھے ۔ قرب وجوار سے بھی انسانوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آرہی تھیں ، کہیں بلیوں تو کہیں کتوں کے رونے کی آوازیں ارتعاش پیدا کر رہی تھیں ۔ بڑا خوفناک منظر تھا اور اب شام کے اندھیروں نے بھی اپنا ڈیرہ ڈالنا شروع کردیا تھا ۔ پھر تھوڑے سے وقفے کے بعد ایک سیاہ اور ڈراونی رات نے آن ہی گھیرا ۔ بجلی نہیں تھی سو ہرسو گھپ اندھیرا چھا گیا ۔ کہیں  سے موم بتیوں کا انتظام ہو گیا تو تھوڑا سا اطمینان نصیب ہوا ۔ خورد نوش کے حوالے سے کُچھ خشک چاول ، بسکٹ وغیرہ بھی میسر ہوئے سو تھوڑے تھوڑے سے کھا بھی لئے ۔
میری بیگم اور چھوٹی بچی بھی میرے سامنے تھیں اور شاید یہی سب سوچ رہی تھیں جو میں سوچ رہا تھا ۔ بچی کافی سہمی ہوئی تھی ۔ اُس کی آنکھوں میں متواتر آنسووں تیر رہے تھے ۔ وہ اچانک بڑی معصومیت سے بولی ۔
" پاپا ۔۔۔۔۔۔ اب تو ہم بس مرنے ہی والے ہیں ۔" یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنا شروع ہوگئے ۔ میرے تن بدن میں جیسے سنسنی سی دوڑ گئی ۔ پیروں تلے کا فرش جیسے سرک گیا اور آنکھوں کے سامنے سے نیلی پیلی بجلیاں سی کوندنے لگیں ۔
" او میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔ ۔" میں تڑپتا ہوا چیخا ۔
" میں ہوں نا ۔۔۔۔۔ ۔" کہتے ہوئے میں نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور اسے دلاسے دینے لگا ۔ سیلاب کی یہ پہلی رات تھی جو ہم نے کانٹوں پر گزار دی ۔ بڑی بے بسی سے ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے یہ رات گزارنے کی کوشیش کرتے رہے مگر رات بڑی لمبی ثابت ہوئی۔ رات بھر ہم چیخنے چلانے کی کریہہ الصوت آوازیں سُنتے رہے۔ سب کچھ ڈراونا ڈراونا سا لگنے لگا۔ اغل بغل سے متواتر چیخنے چلانے کی آوازیں پردہ سماعت سے ٹکراتی رہیں اور ہر دانگ خوف و ہراس پیدا کرتی رہیں ۔
خدا خدا کرکے صُبح ہوئی ۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو یہ دیکھ کر قدرے اطمینان سا نصیب ہوا کہ پانی کی سطح اب ٹھہری ہوئی ہے اور گزری شب زیادہ اوپر بھی نہیں آئی ہے ۔ گیٹ کے مرکری بجلی بلب زیر آب ضرور تھے مگر ان کے اوپر کے سِروں کے دو دو انچ کا حصہ اب بھی نظر آرہے تھے ۔  یعنی یہ ابھی زندہ ہیں ، مرے نہیں ہیں ، کا عندیہ اور پیغام تھا جو سردست ایک بڑا حوصلہ تھا ۔  میں نے چڑیوں کے گھونسلے کی طرف دیکھا جبھی میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔ پانی گھونسلے کے قریب تھا مگر گھونسلہ اور بچے ابھی تک محفوظ تھے ۔ چِڑا اور چِڑیا پیڑ کی اُوپر کی ایک محفوظ شاخ پر ایک نیا گھونسلہ بنانے میں جٹ گئے تھے ۔ وہ کہیں دُور دُور سے خس و خاشاک اور تِنکے لانے کی کوششوں میں پیہم محو پرواز تھے اور اِن تنکوں کو اپنے نئے آشیانے میں جوڑ رہے تھے ۔ یہ ڈوبتے کو تِنکے کے سہارے والی بات تھی جس سے کہ خود ہمارے حوصلے بھی مضبوط ہوگئے ۔ 
بے شک اللہ تعالیٰ کسی بھی صورت میں بندے کےلئے دانا پانی اور راحت کے سامان پیدا کردیتا ہے ۔ کچھ ایسا ہی ہوا اور ہم تین دن اور تین شب سیلاب میں پھنسے رہنے کے باوجود بھوکے نہیں رہے بلکہ کھانے پینے کا کچھ نہ کچھ انتظام تو ہوتا ہی رہا ۔ اب بارشیں بھی بند ہوگئیں تھیں اور سطح آب بھی دھیرے دھیرے نیچے آنے لگی تھی ۔ ہمارے لئے ایک نائو کا بھی انتظام ہوگیا تھا ۔  اس صُبح اب ہم ایک نائو میں سوار ہوکر ایک محفوظ مقام کی طرف چل پڑے جبھی میری نگاہ گیٹ کے مرکری بلبوں پر گئی جہاں پانی دھیرے دھیرے اب نیچے آرہا تھا اور اب جیسے ان بلبوں نے سرنو اپنا سر اُبھارنا شروع کردیا تھا ۔ میں نے ایک نِگاہ چِڑے اور چڑیا کے گھونسلوں کی طرف دیکھا تو مُتحیر ہوا ، اِن کا نیا آشیانہ تیار تھا ۔ دونوں اب اپنے نوزائید بچوں کو  اپنے پنجوں میں دبا دبا کر اور ایک ایک کرکے نئے آشیانے میں مُنتقل کر رہے تھے ۔  جبھی میرے خُشک لبوں پر اچانک ایک مُسکراہٹ پھیل گئی ، میں نے نائو میں سوار اپنی بیگم اور کم سن بچی کو دیکھا ، جن کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے ، جان بچی لاکھوں پائے ، میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دیوانہ وار اپنے ہاتھ ہلا ہلا کر پانی  میں تیر رہی بیسیوں دیگر نائووں میں سوار  لوگوں کو جیسے مبارکباد دی ۔ ان نائووں میں ہمارے اسٹاف کے ممبران اور پاس پڑوس کے بسکین لوگ بھی تھے ، جن کے سپاٹ چہروں پر اب زندگی دوبارہ لوٹ کر آئی تھی ۔ سبھی ہاتھ ہلا ہلا کر ایک دوسرے کو وِش کر رہے تھے اور اب محفوظ مقامات کی طرف جا رہے تھے ۔
 
���
فرینڈس اینکلیو سری نگر کشمیر
موبائل نمبر؛9622900678