جانوروں کے ذبح کرنے پر پابندی نہیں

سرینگر// محکمہ انیمل و شیپ ہسبنڈری اینڈ فشریز کے ڈائریکٹر منصوبہ بندی جی ایل شرمانے کی جانب سے جاری کردہ مکتوب کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ خط کے متن اورمفہوم کوغلط سمجھا گیاہے ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ یہ ایک خط ہے ،آرڈریاکوئی حکمنامہ نہیں۔ انہوںنے واضح کیاکہ جموں و کشمیر میں عیدالاضحی کے موقعہ پر جانوروں کوذبح یاقربان کرنے پرکوئی پابندی عائدنہیں کی گئی ہے ۔ڈائریکٹر موصوف کاکہناتھاکہ خط میں انفورسمنٹ ایجنسیوں سے صر ف یہ کہاگیا ہے کہ وہ اینمل ویلفیئربورڈکے قوانین کوعملائیں کیونکہ عیدجیسے موقعہ پر بڑے پیمانے پرجانوروںکوذبح کیا جاتا ہے ،اورہم اس ظلم کوروکناچاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ خط ہے کوئی آرڈر نہیں،اوراسکی رئوسے جموں وکشمیرمیں جانوروںکوذبح کرنے یاجانوروںکی قربانی دینے پرکوئی پابندی عائدنہیں کی گئی ہے۔ ڈائریکٹر پلاننگ نے کہاکہ حکام کوخط ارسال کرناایک معمول کاکام ہے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ ہم اس بات کویقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جانوروں کوایک جگہ سے دوسری جگہ جائز طریقے پرلیجایاجائے ۔جی ایل شرماکامزیدکہناتھاکہ اس خط کامقصداسبات کویقینی بناناہے کہ ذبح کیلئے جانوروںکوایک جگہ سے دوسری جگہ محفوظ طریقے سے پہنچایاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے مشاہدے میں آیاہے کہ جس گاڑی میں 100بھیڑوں ،بکریوں وغیرہ کوایک ساتھ لادنے کی گنجائش ہوتی ہے ،اُس میں 200ایسے جانوروںکوبھردیاجاتا ہے ،اوردم گھٹے کی وجہ سے بعض جانورراستے میں مرجاتے ہیں،جوکہ ظلم ہے۔انہوں نے کہاکہ ایسے قوانین موجودہیں ،جو حاملہ ،بیمار یاپیاسے جانوروں کوذبح کرنے سے روکتے ہیں اورایسے قوانین پرعمل درآمدہوگا۔ایک سوال کے جواب میں  ڈائریکٹر پلاننگ نے یہ بھی کہاکہ جانوروں کوسڑکوں اورعوامی مقامات پرذبح نہیں کیا جاناچاہئے بلکہ کسی صاف جگہ ان کوذبح کیا جاسکتا ہے ۔انہوںنے یہ بھی کہاکہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے ،جس میںمذہبی مقاصد کیلئے جانوروں کوذبح کرنے پرپابندی عائد ہو۔دریں اثناء بڑے جانوروں کے ذبح کرنے کے حکومتی احکامات پر سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ 

نیشنل کانفرنس

نیشنل کانفرنس نے بڑے جانوروں کے ذبیحے پر پابندی سے متعلق حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے حکم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسلمانوں کے دینی معاملات میں بے جا مداخلت ہے اور حکومت کو چاہئے کہ یہ غیر دانشمندانہ اور غیر سنجیدہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے تاکہ جموں وکشمیر کے مسلمان عید قربان پر ماضی کی طرح اپنے دینی فرائض خوش اسلوبی اور بنا کسی خلل کے انجام دے سکیں۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بیان میں بڑے جانوروں کے ذبیحے پر حکومتی پابندی کے احکامات کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عید الضحیٰ کے موقعے پر اس قسم کی پابندی عائد کرنے کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو اپنے مذہبی فرائض انجام دینے سے روکنا اور جموں وکشمیر کے عوام کو پشت بہ دیوار کرنا ہے۔ 

متحدہ مجلس علماء

عیدالضحیٰ کے موقعہ پربڑے جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد کرنے پرشدیدردعمل اوربرہمی کااظہارکرتے ہوئے متحدہ مجلس علماء نے  اس کی مذمت کی ہے۔ایک بیان کے مطابق میرواعظ مولانامحمد عمرفاروق کی قیادت میں متحدہ مجلس علماء کی اکائیوں نے ایک مشترکہ اجلاس میںاس امر پر تعجب کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ عید الاضحی کی دینی تقریب کے موقعہ پر ہی بڑے جانوروں کی قربانی کو غیرقانونی اور جانوروں پر مظالم کی روکتھام کے ایکٹ کے تحت اسے شامل کرنا جبکہ مسلمان اللہ تعالی کے حضور قربانی جیسے اہم فریضے کو ادا کرنے کا پابند ہے، تو پھر مسلمانوںکو اس عمل سے روکنے کا کیا جواز ہے؟بیان کے مطابق متحدہ مجلس علما نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور اس آمرانہ حکم کو واپس لے اور مسلمانان کشمیر کو اپنے مذہبی فریضے کی ادائیگی کے ساتھ عید الضحی کی تقریب منانے کا موقعہ فراہم کرے۔مجلس علماء نے اس سلسلے میں18جولائی کو مفتی اعظم کی صدارت میں مفتیاں کرام کافوری اور ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے ۔مجلس علما نے واضح کیا کہ قربانی نہ صرف دین اسلام کا ایک اہم شعار اور مذہبی فریضہ ہے بلکہ اس کے مکلف افراد اگر اس عمل کی ادائیگی میں کسی بھی طرح کی کوتاہی برتیں اور شریعت اسلامی میں مطلوبہ جانوروں کی قربانی دینے سے احتراز کریں تو عند اللہ سخت مجرم اور گناہگار ہونگے۔مجلس علمانے حکمرانوں کے مذکورہ فیصلے پر سخت تشویش اور اضطراب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں یہ واضح کیا ہے کہ اس طرح کے فیصلے یہاں کے عوام کیلئے ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور اسے مجلس علما صریحا مداخلت فی الدین سمجھتی ہے جسکی کسی بھی صورت میں اور کسی بھی حال میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔مجلس علما نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ جموںوکشمیر جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں اس طرح کے قوانین کے نفاذ اور مذہبی آزادی اور مسلم پرسنل لامیں مداخلت کا رویہ ترک کریں۔واضح رہے کہ مجلس میں جو اراکین شامل ہیں ان میں مفتی اعظم کی مسلم پرسنل لابورڈ ، انجمن اوقاف جامع مسجدسرینگر، دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ ،انجمن شرعی شیعان، جمعیت اہلحدیث، جماعت اسلامی،کاروان اسلامی، اتحاد المسلمین، انجمن حمایت الاسلام،انجمن تبلیغ الاسلام،جمعیت ہمدانیہ،انجمن علمائے احناف،دارالعلوم قاسمیہ،دارالعلوم بلالیہ ، انجمن نصر الاسلام، انجمن مظہر الحق،جمعیت الائمہ والعلماء، انجمن ائمہ و مشائخ کشمیر،دارالعلوم نقشبندیہ ، دارالعلوم رشیدیہ ،اہلبیت فانڈیشن، مدرسہ کنز العلوم ،پیروان ولایت،اوقاف اسلامیہ کھرم سرہامہ ،بزم توحید اہلحدیث ٹرسٹ، انجمن تنظیم المکاتب ، محمدی ٹرسٹ، انجمن انوار الاسلام،کاروان ختم نبوت اور دیگر جملہ معاصر دینی، ملی ، سماجی اور تعلیمی انجمن کے ذمہ داران شامل ہیں۔

سول سوسائٹی فورم

سول سوسائٹی فورم نے عیدالضحیٰ کے موقعہ پر بڑے جانوروں کی قربانی پرپابندی عائد کرنے کے حکم پرشدیدبرہمی کااظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں فورم کے چیئرمین عبدالقیون وانی نے کہاکہ عیدالضحیٰ کے موقعہ پربڑے جانوروں کی قربانی کو غیرقانونی قرار دینااورجانوروں پرظلم کے قانون کی آڑ میں اس پرپابندی عائد کرناحیران کن ہے۔ وانی نے کہا کہ عیدکے موقعہ پربڑے جانوروں کی قربانی پرپابندی عاید کرنادینی معاملات میںمداخلت ہے اور یہ جمہوریت کے سیکولر اقدار کے منافی ہے۔وانی نے اس حکم کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔