جامع مسجدسیل،18ویں بار جمعہ کی اذان نہ ہوسکی

 سرینگر//سرینگر کی تاریخی جامع مسجد کو سیل کر کے18ویں ہفتے بھی نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنائی گئی جبکہ مزاحمتی کال کے پیش نظر سید علی شاہ گیلانی کو گھر کے اندر مقفل کیا گیا۔پولیس نے میرواعظ عمر فاروق کی جامع مسجد کی طرف پیش قدمی پرقدغن لگاتے ہوئے انہیںگھر کے باہر حراست میں لیا جبکہ فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو ایک روز قبل ہی گرفتار کرکے سینٹرل جیل منتقل کیاگیا۔مزاحمتی خیمے کی طرف سے دی گئی کال کے پیش نظر تاریخی جامع مسجد کو چاروں اطراف سے مکمل طور سیل کر رکھا گیا تھا اور یہاں پرندے کو بھی پر مارنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی جبکہ مسلسل ناکہ بندی کی وجہ سے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں مسلسل 18ویں ہفتے بھی نماز جمعہ ادا نہیں کی جاسکی ۔ لوگوں نے بتایا کہ کرفیو کی وجہ سے شہر خاص کے کئی علاقوں میں لوگ نماز جمعہ ادا نہیں کر سکے۔جامع مسجد کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ شام سے ہی اضافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا ۔جامع مسجدکی طرف جانے والی سڑکوں پر جگہ جگہ پولیس اور فورسز کے دستے تعینات رکھے گئے تھے جبکہ کئی مقامات پر رکائوٹیں کھڑی کرنے کیلئے خاردار تاریں بیچ سڑک بچھا دی گئی تھیں ۔تاریخی مسجدکی طرف جانے والے راستے کو سیل کر کے رکھ دیاگیا تھا اور خانیار سے لے کرنوہٹہ اور نور باغ سے گوجوارہ تک اس حساس علاقے میں فوجی بینکر گاڑیوں اور جدید ساز و سامان سے لیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا ۔اس دوران کال کے پیش نظر خانہ نظر بند بزرگ مزاحمتی لیڈر سید علی گیلانی کی رہائش گاہ کے مین گیٹ پر تالا چڑھایا گیاتاکہ وہ پروگرام میں شرکت کرنے کی کوشش نہ کرسکے۔حریت(گ) کے ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سید علی گیلانی اپنے کمرے سے کچھ کارکنوں کے ہمراہ12بجکر10منٹ پر باہر آئے اور جامع مسجد سرینگر کی طرف رخ کرنے کی کوشش کی تاہم جب وہ اپنی رہائش گاہ کے صدر دروازے پر پہنچے تو دروازے کو باہر سے بند پایا۔ ذرائع کے مطابق سید علی گیلانی نے قریب20منٹ تک دروازہ کھٹکھٹایا تاہم دروازہ نہیں کھولا گیا۔انہوں نے کہا کہ بعد میں اس بات کا پتہ چلا کہ دروازے کو باہر سے مقفل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سید علی گیلانی بعد میں واپس اپنے کمرے میں چلے گئے۔ادھر ذرائع کے مطابق سید علی گیلانی کی حید پورہ رہائش گاہ کے باہر اضافی فورسز اور پولیس دستوں کو بھی تعینات کیا تھا  اور صدر دروازے کو 2گاڑیوں سے بند کیا گیا تھاجبکہ انکی رہائش گاہ کی طرف جانے والی سڑک کے چپے چپے پر فورسز اور پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔اس دوران حریت(ع) چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی طرف سے جامع مسجد کی طرف  پیش قدمی کو ناکام بناتے ہوئے انہیں بھی حراست میں لیا گیا۔میر واعظ عمر فاروق جونہی اپنی نگین رہائش گاہ سے خانہ نظر بندی کو توڑتے ہوئے باہر آئے تو اس موقعہ پر پہلے سے موجود پولیس اہلکاروں نے میر واعظ کی جامع مسجد پہنچنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے انہیں گاڑی میں بٹھا دیا اور پولیس تھانہ پہنچایا گیا۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو جامع مسجد پروگرام کے پیش نظر ایک روز قبل ہی مائسمہ میں اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کر کے کل شام دیر گئے ہی سینٹرل جیل سرینگر منتقل کردیا گیا۔ یاسین ملک کو گرفتاری کے فوراً بعد طبی معاینے کیلئے پولیس کنٹرول روم ہسپتال لیجایا گیا جہاں سے انہیں ۱۶ ؍ نومبر ۲۰۱۶؁ء تک کیلئے ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا گیا۔ یاسین ملک کو ۸؍ جولائی کے روز گرفتار کرلینے کے بعد قریب ۱۱۵ دن کی اسیری کے بعد ۲۹؍ اکتوبر کے روز رہا کیا گیا تھا ۔