جامعہ غنیۃ العلوم اخیار پور دین و ایمان کی روشنی کا گہوارہ

 ڈوڈہ//آج سے33برس قبل ضلع ڈوڈہ کے پسماندہ ترین علاقہ پنگل کے مرکزی گائوں کٹھیاڑہ کے نزدیک واقع جامع مسجد کے پڑوس میں ایک مردِ درویش نے جب ایک مکتب قائم کیا تھا ،توکسی کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ یہ مکتب بہت جلد ایک ایسے علمی ادارے کی صورت اختیار کر لے گا جہاں سے علم کی شعائیں دور دور تک پھیلیں گی اور سادہ سی اس جامع مسجد کا شمار ریاست کی خوبصورت ترین مساجد میں ہو گا۔اُس مردِ درویش کا نام الحاج غلام قادر غنی پوریؒاور اُن کے قائم کئے ہوئے علمی ادارے کو دُنیا جامعہ غنیۃ العلوم اخیار پور کے نام سے جانتی ہے۔ایک دور دراز پہاڑی اور پسماندہ علاقہ جہاں چند برس قبل تک سڑک رابطہ بھی موجود نہیں تھا،جب لوگ ایک ایسے ادارے کو دیکھتے ہیں جہاںناظرہ قرآن،حفظ، تجوید وقرأت اور عا  لمیت تک طلباء و طالبات کے لئے الگ الگ شعبے قائم ہیں ،جہاں جدید مروجہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے گورنمنٹ کا تسلیم شدہ ایک ہائی اسکول بھی موجود ہے اور جس کے احاطہ میںایک عظیم الشان اور خوبصورت مسجد دعوتِ نظارہ دیتی نظر آتی ہے تو وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس سب کے پیچھے تائیدِ غیبی اور نصرتِ الٰہی کارفرما ہے ۔1983ء میںجب اس ادارے کی بنیاد رکھی گئی تھی اُس سے 15سال قبل الحاج غنی پوریؒ کے پیر و مرشد الحاج عبدالغنی صدیقیؒنے ایسے وقت میں جب یہاں کچھ بھی نہیں تھا،اس مقام کی حفاظت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ ’’یہ ایسا مقام ہے کہ اگر اللہ کو منظور ہوا تو یہاں سے دین و ایمان کی روشنی دور دور تک چمک اُٹھے گی‘‘۔مردِ حق آگاہ کی یہ پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی اور ابھی تک یہاں سے ہزاروں ناظرہ خوان،سینکڑوں حفاظ و قرا ء حضرات اور درجنوں علمائے کرام تیار ہوئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں طلباء و طالبات نے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ کے منتظمین کے مطابق اس وقت جامعہ میںکم و بیش ایک ہزار طلباء وطالبات زیرِ تعلیم ہیں جن میں سے400سے زائد طلباء وطالبات مقیم ہیں جن کا مکمل خرچہ جامعہ ہی برداشت کرتا ہے۔ان طلاب کی تعلیم و تربیت اور دیگر خدمات کے لئے 50سے زائد افراد پر مشتمل عملہ تعینات ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جامعہ کا سالانہ خرچہ 90لاکھ روپے سے تجاو ز کر چکا ہے جو صرف اور صرف مخیر حضرات کے تعاون سے ہی پورا کیا جاتا ہے اس کے علاوہ جامعہ کا کوئی مستقل ذریعۂ آمدنی نہیں ہے۔تعمیری اعتبار سے بھی ادارہ نے بہت ترقی کی ہے اور اس وقت تک سینکڑوں کمروں پر مشتمل ایک درجن کے قریب عمارات کے علاوہ ایک شاندار مسجد بھی تعمیر کی جا چکی ہے ،مگر طلباء و طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر اتنی عمارات بھی ناکافی بلکہ بہت کم ہیں اور مزید تعمیری منصوبے زیرِ غور ہیں۔اپنے نظام اور کام کی وسعت و جامعیت کے اعتبار سے ادارے کا کا م کاج کسی ایک دفتر سے چلانا چوں کہ ممکن نہیں اس لئے جامعہ میں مختلف شعبے قائم ہیں جو اپنے اپنے دائرۂ کار میں تندہی کے ساتھ سرگرم ہیں جن میں شعبۂ اہتمام،شعبۂ ناظر ہ و دینیات،شعبۂ حفظ،شعبۂ تجوید و قرأت،شعبۂ مکاتب ومدارس،شعبۂ عا  لمیت،شعبۂ مدرسۃالبنات، شعبۂ مہمان خانہ،شعبۂ جدید مروجہ سرکاری تعلیم،شعبۂ تنظیمِ مدارس،شعبۂ تربیتِ مدرسین،شعبۂ نشر و اشاعت،شعبۂ مطبخ،شعبۂ تعمیرات اورشعبۂ کفاف وغیرہ شامل ہیں۔شعبۂ مکاتب و مدارس کے تحت خطۂ چناب کے مختلف علاقوں میں درجنوں مکاتب اور مدارس قائم کئے گئے ہیں اور اُن کے نظامِ تعلیم و تربیت اور تعلیمی معیار پر پوری نظر رکھی جاتی ہے۔غریب اور نادار طلباء و طالبات کو ماہانہ وضائف اور دیگر مختلف قسم کی امداد بھی فراہم کی جاتی ہے۔ملک کے دیگر بڑے بڑے مدارس اور جامعات کی طرح غنیۃ العلوم میں بھی طلباء کو صرف تعلیم و تدریس تک ہی محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ اُن کی چو طرفہ نشو نما کی کوشش کی جاتی ہے ۔یہاں اخلاق و آداب کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور علمی و فکری غذا بھی فراہم کی جاتی ہے۔طلبہ کے ہر اچھے کام کو سراہا جاتا ہے اور اُن کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے اُن کی بر سرِ عام حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔اس کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف قسم کے انعامی جلسوں اور مسابقوں کا انعقاد کیا جاتا ہے،ہفتہ وار انجمنیں ہوتی ہیں،کوئز مقابلوں کا اہتمام ہوتا ہے اور طلباء کو تقریر و نعت خوانی کی مشق کرائی جاتی ہے۔جامعہ کے بانی الحاج غنی پوریؒ جن کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار صلاحیتوں سے نوازاتھااور جن کی پر خلوص محنت اور دُعائوں کی بدولت جامعہ اس مقام تک پہنچا ہے،کے انتقال سے جامعہ کو جس بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے اُس کا پورا ہونا اگرچہ بہت مشکل ہے مگر اُن کے جواں سال جانشین الحاج برھان القادر کی قیاد ت میں جامعہ کی انتظامی کمیٹی کے اراکین اور عملہ جس محنت، لگن اور جوش و جذبے کے ساتھ کام کرتے نظر آتے ہیں اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کارواں یوں ہی رواں دواں رہے گا۔جامعہ کے لئے کسی بھی قسم کی امداد جامعہ کسی بھی سفیر یا ذمہ دار کے پاس با خذ رسید یا براہِ راست جامعہ کے جموں کشمیر بنک برانچ جکیاس کے اکائونٹ نمبر 0607040100000120میں جمع کی جا سکتی ہے۔