جارحانہ پالیسیاں عوامی عزم دبا نہیں سکتیں:حریت(ع)

سرینگر//حریت (ع) نے جموںوکشمیر کے عوام کی دیرینہ حق و انصاف پر مبنی جدوجہد آزادی کو ہر سطح پر دبانے کیلئے حکومت ہند کی جانب سے اختیار کی گئی جارحانہ اور عوام کُش پالیسیوں کیخلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے یہ بات واضح کی ہے کہ جموںوکشمیر میں تحریک آزادی یہاں کے عوام کے دل و دماغ میں رچی بسی ہے اور آمرانہ طرز عمل سے عبارت ہتھکنڈوں سے اس تحریک کو نہ توکمزور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی قیادت اور عوام کے حوصلوں کو توڑا جاسکتا ہے ۔ بیان میں کہاگیا کہ یہ تلخ حقیقت کہ مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل سے ہی اس پورے خطے کا امن و استحکام جڑا ہوا ہے لہٰذا جس قدر جلد اس بات کو تسلیم کیا جائے اُسی قدراس خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال میں مثبت تبدیلی آنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔بیان میں تجر سوپور میں ایک عسکری معرکے کے دوران جان بحق کئے گئے ابو معاذ، خواجہ اورعبدالمجید کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس قوم کوغلامی اور محکومیت کے شکنجے سے آزاد کرانے کیلئے اپنی جانیں قربان کرنے والوں کے ایثار اور قربانی کو ہرگز فراموش نہیں کیا جاسکتا اور ان کی قربانیاںہر لحاظ سے تحریک آزادی کشمیر کیلئے انمول اثاثے کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان قربانیوں کو ثمر آور بنانا قیادت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔بیان میں جنوبی کشمیر کے بیشتر علاقوں خاص طور پر چرار شریف، لاسی پورہ، بڈی باغ اور نامن کاکہ پورہ پلوامہ میں جنگجوئوں کیخلاف تلاشی مہم کے دوران CASO کی آڑ میں پکڑ دھکڑ، ہراسانیوں اور شبانہ چھاپوں کے ذریعے علاقہ بھر میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقوق بشر کی بدترین پامالی قرار دیا گیا اور اس کی مذمت کی گئی۔بیان میں ڈوڈہ میں بھاری بارشوں کے نتیجے میں پسیاں گر آنے کے سبب ایک مکان کے دب جانے سے ایک ہی کنبے کے پانچ افراد کے لقمہ اجل ہوجانے پر دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس افسوسناک سانحہ پر حریت چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور قیادت کی جانب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور یکجہتی ظاہر کی گئی۔