ثقافتی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت:ڈاکٹر سحرش

سری نگر//محکمہ اِطلاعات ورابطہ عامہ کے شعبہ ثقافت نے بیک ٹو وِلیج پروگرام مرحلہ سوم کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لئے ایک پروگرام کا اِنعقاد محکمہ کے آڈیٹوریم میں کیا۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالا ت کا اِظہار کرتے ہوئے ڈائریکٹر ڈاکٹر سیّد سحرش اصغر نے کہا کہ بی ٹو وی ۔سوم کے لئے عوام کی جانب سے بڑے پیمانے پر ردِّعمل سامنے آرہا ہے۔ لوگ بیک ٹو وِلیج پروگراموں کے ذریعے حکومت کی ترقیاتی کوششوں سے آگاہ ہو رہے ہیں اور وہ حکومت کی ان کوششوں سے فائدہ بھی اُٹھارہے ہیں۔اُنہوں نے جو تقریب پر مہمان خصوصی تھیں،نے  ثقافتی تقاریب کا باقاعدہ بنیاد پر انعقاد کرنے پر زور دیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت متنوع ہے اور اس کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری ثقافتی تاریخ کافی قدیم ہے او راس نوعیت کے ثقافتی پروگراموں سے ہم اس کی بہتر طریقے سے عکاسی کرسکتے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ محکمہ کو وِڈ ۔19کے سبب زیادہ ثقافتی پروگراموں کا انعقاد نہیں کرسکتا تاہم محکمہ ثقافت کی بحالی میں ایک اہم رول ادا کرے گا اور ایسے ثقافتی پروگرام قومی سطح پر منعقد بھی کئے جائیں گے ۔انہوں نے وادی کے فنکاروں کے کاموں کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری وادی کافی زرخیز ہے اور ہمیں ہنرمندوں کے ہنر کو نکھارنے اور اپنے فنکاروں کی صلاحیتیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔اَس موقعہ پر اُنہوں نے جان محمد آزاد کی جانب سے تصنیف کردہ کتاب’’ کشمیرمیں ترجمے کی تاریخ‘‘اجرا کی  اور کہا کہ یہ ہمارے لئے اَدبی خزانہ ہے۔دوران تقریب مختلف فنکاروں نے ثقافتی پروگرام پیش کئے جن میں مشاعرہ بھی شامل تھا۔ اِس موقعہ پر معروف اور نئے اُبھرنے والے شعرا ٔنے پروگرام میں شرکت کی۔ڈاکٹر سحرش نے فنکاروں کو بہترین کارکردگی کے لئے سراہا اور اِس نوعیت کے پروگراموں کے اِنعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔  اِ س موقعہ پر جوائنٹ ڈائریکٹر انفارمیشن کشمیر حارث احمد ہنڈو، ڈپٹی ڈائریکٹر سینٹرل سبھاش ڈوگرہ ،انفارمیشن اَفسران اور محکمہ کے دیگر اَفسران اور ملازمین موجود تھے۔