ثانیہ مرزا کا 20سالہ کیریئر شکست کیساتھ اختتام پذیر

دبئی// ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کا ٹینس کیریئر شکست کے ساتھ اختتام کو پہنچ گیا، اپنے آخری ٹورنامنٹ دبئی چیمپئن شپ کے پہلے راؤنڈ میں شکست کھا کر ایونٹ سے باہر ہو گئیں۔دبئی چیمپئن شپ کے پہلے راؤنڈ میں ثانیہ مرزا امریکی ساتھی کھلاڑی کے ساتھ ڈبلز ایونٹ میں شریک ہوئیں انہیں روسی جوڑی نے اسٹریٹ سیٹس میں چھ چار اور چھ صفر سے ہرا دیا۔اس شکست کے ساتھ ثانیہ مرزا کا 20 سالہ ٹینس کیریئر ختم ہو گیا ، 36 سالہ ٹینس اسٹار نے 2003 میں پروفیشنل ٹینس کا آغاز کیا اور 6 گرینڈ سلم ٹرافیز اپنے نام کیں۔ثانیہ مرزا نے تین وویمن ڈبلز گرینڈ سلم ٹائٹل سوئٹزرلینڈ کی مارٹینا ہنگز کے ساتھ جیتے اور تین مکسڈ ڈبلز گرینڈ سلم ٹائٹل جیتے جبکہ دو ہم وطن مہیش بھوپتی کے ساتھ اپنے نام کیے۔ٹینس اسٹار نے گزشتہ ماہ میلبرن میں آخری گرینڈ سلم آسٹریلین اوپن کھیلا، روہن بوپنا کے ساتھ ثانیہ مرزا کو فائنل میں شکست ہوئی تھی۔ادھر دبئی میں اپنی رہائش گاہ پر خطاب کرتے ہوئے ثانیہ نے کہا کہ معاشرے کو ان لوگوں کے بارے میں اختلاف رائے کو قبول کرنا چاہیے جو اپنے طریقے سے کام کرنے کی ہمت رکھتے ہیں اور کسی کو بھی “ولن یا ہیرو” کے طور پر پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔بین الاقوامی ٹینس سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والی ثانیہ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کوئی اصول یا پابندی توڑی ہے۔ یہ کون لوگ ہیں جو یہ اصول بنا رہے ہیں اور یہ کون لوگ ہیں جو مثالی ہونے کی تعریف پیدا کر رہے ہیں۔”۔ثانیہ نے کہا، “میرے خیال میں ہر شخص مختلف ہے اور ہر شخص کو مختلف ہونے کی آزادی ہونی چاہیے۔” یہ 36 سالہ ہندوستانی کھلاڑی نے کہا، “مجھے لگتا ہے کہ ایک معاشرے کے طور پر یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم شاید بہتر کر سکتے ہیں۔ ہمیں صرف اس لیے لوگوں کی تعریف یا بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ کچھ مختلف کر رہے ہیں۔ ثانیہ نے کہا، “ہم سب مختلف طریقوں سے بات کرتے ہیں، ہم سب کی الگ الگ رائے ہے۔ میرے خیال میں ایک بار جب ہم سب یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہم سب مختلف ہیں تو پھر ہم ان اختلافات کے ساتھ رہ سکتے ہیں سوائے اس کے کہ جب بات اصولوں کو توڑنے کی ہو۔”