تین طلاق بل پر پارلیمنٹ کی مہرِتصدیق ثبت

نئی دہلی// تین طلاق (تحفظ شادی حقوق ) بل 2019 پرمنگل کو راجیہ سبھا میںمیں بھی منظور کردیا گیا ، جبکہ لوک سبھا پہلے ہی اسے منظور کرچکی ہے۔طلاق ثلاثہ قانون کو منظور کرانے کیلئے کانگریس کے 20اراکین راجیہ سبھا میں نہیں آئے ، جبکہ پی ڈی پی کے دو اراکین بھی غیر حاضر رہے۔اس طرح حکمران جماعت اپوزیشن کو اکثریت ہونے کے باوجود شکست دینے میں کامیاب ہوئی۔قائد حزب اختلاف لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ تین طلاق بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہئے تھا ، جس کی وجہ سے حزب اختلاف نے اس پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔ بل 81 ووٹوں کے مقابلے میں  99 ووٹوں سے منظور ہوگیا۔ہندوستانی  کمیونسٹ پارٹی کے ایلامارم کریم اور متعدد دیگر ممبروں کی بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنے کی تجویز کو 84 کے مقابلے میں100ووٹوں سے مسترد کردیا گیا ۔ اس سے قبل ، سی پی آئی  کے  ونئے وشوم اور تین دیگر ممبروں کے مسلم خواتین  ( تحفظ حقوق شادی) آرڈیننس کو نامنظور کی تجویز کو صوتی ووٹ سے نامنظور کردیاگیا۔ بل پر لائی جانے والی ترامیم کی تجاویز کو بھی صوتی ووٹ سے مسترد کردیا گیا۔بل پر بحث کے دوران ، حکومت کے اتحادی جنتا دل یونائیٹڈ اور اے آئی اے ڈی ایم کے نے واک آؤٹ کیا  ، جب کہ ووٹنگ کے وقت بہوجن سماج پارٹی ، تیلگو دیشم پارٹی اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ممبر موجود نہیں تھے۔اس بل میں تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے اور تین طلاق پر تین سال تک قید اور جرمانے کا التزام  ہے۔ساتھ ہی جس خاتون کو طلاق دیا گیا ہے اس کے اور اس کے بچوں کی پرورش  کے لئے ملزم کو ماہانہ گزارہ بھتہ بھی دینا ہو گا۔ زبانی، ، الیکٹرانک یا کوئی اور ذریعہ سے طلاق بدعت یعنی تین طلاق کو اس میں غیر قانونی بنا یا گیا ہے۔یہ بل مسلم خواتین (تحفظ حقوق شادی ) کے دوسرے آرڈیننس ، 2019 کی جگہ لے گا  جو رواں سال 21 فروری کو نافذ ہوا تھا۔