تین سال قبل مسجد کا بیت الخلاء بنایا لیکن ادائیگی تاحال نہ ہوسکی | شہری کا سابق سرپنچ پر کمیشن لینے کا الزام،محکمہ اور سابق سرپنچ کی الزامات کی تردید

گول// ضلع رام بن کے سنگلدان نیابت سے تعلق رکھنے والے ایک غریب شہری کی روداد اُس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جب انہوں نے کہا کہ انہوں نے علاقہ سرنڈا میں مسجد کے ساتھ ایک بیت الخلاء بنایا لیکن ابھی تک اس کو اس کی رقم نہیں ملی ۔ شہری کا کہنا ہے کہ اُس وقت کے سرپنچ نے یہ کام انہیں دیا اور اس کے عوض بیس ہزار روپے بھی دئے گئے ۔ اس سلسلے میں براہ راست کشمیر عظمیٰ نے سرنڈا علاقے نیابت سنگلدان سے تعلق رکھنے والے اس غریب نوجوان شہری بہار الدین حجام سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اس وقت کے سرپنچ نے انہیں سرنڈا مسجد کے ساتھ بیت الخلا ء تعمیر کرنے کو کہا جس کی لاگت دو لاکھ کے قریب آئی جب کہ مجھے سرپنچ نے کہا کہ ایک لاکھ اسی ہزار روپے ہی پیمنٹ ہوگی اور میں ایک غریب اور سادہ لوح شہری ہوں مجھے کاغذات کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے اور آج تین سال گزرنے کے با وجود بھی مجھے اس کی پیمنٹ نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے کمیشن بھی لی گئی لیکن پیمنٹ نہیں ہوئی اور میں بعد میں ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن کے پاس گیا جنہوں نے ایک لیٹر اے سی ڈی رام بن پر مارک کیا او ر انہوں نے وہاں سے بی ڈی او سنگلدان پر مارک کیا اور جب یہ لیٹر اُس وقت کے بی ڈی او سنگلدان کو دیا تو انہوں نے اس کو اپنے جیب میں رکھا اور میں بھی کافی منتیں کیں کہ میری پیمنٹ کیجئے لیکن کچھ نہیں کیا ۔ انہوںنے کہا کہ میری آج تک کسی نے نہیں سنی اور میں نے یہ پیسے ادھار لوگوں سے لئے تھے اور مجھے آج لوگ تنگ کر رہے ہیں اور میرے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے جو میں ان لوگوں کو واپس کروں جن سے لئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سرپنچ نے نہ صرف یہ بیس ہزار روپے مجھ سے لئے بلکہ اس کے علاوہ چار جوڑی بیل ہل جوتنے کے لئے اور دس افراد بطور مزدور بھی دئے لیکن اس کے با وجود سرپنچ آج کل کرتا رہا۔بہادر الدین کاکہنا ہے کہ یہ بیس ہزار روپے مجھ سے یہ کہہ کر لے گیا کہ اے سی ڈی ، بی ڈی او اور وی ایل ڈبلیو کو بھی یہ پیسہ دینا ہے تب جا کے رقم واگزار ہو گی ۔ بہادر الدین نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اگر کہیں سنتا ہے تو میری فریاد سنے تا کہ میں ادھار لیا ہوا پیسہ واپس کروں ۔ اس سلسلے میں سابق سرپنچ محمد سلیم ملا (موجودہ سرپنچ کا شوہر)کے ساتھ بات کی تو انہوں نے رشوت لینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ اس وقت سرنڈا مسجد کے ساتھ بیت الخلاء کا کام سی ایس ای میں رکھا تھا لیکن اس میں نہیں آیا اور بعد میں اس کو 14FCپلان میں رکھا لیکن وہاں سے بھی کاٹ دیا گیا اور اُس کے بعد بیک ٹو ولیج میں رکھا جس میں ایک لاکھ اسی ہزار روپے تھے ۔اس کا پیسہ آیا ہے جو پنچایت کے کھاتے میں پڑا ہے اور اس کام کا ٹینڈر بھی پہلے ہوا این آئی ٹی21کے تحت لیکن نا معلوم وجوہات کی بناء پر یہ ٹینڈر مسترد ہوا اس کے بعد کوئی فریش ٹینڈر نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ میں نے بہار الدین سے کوئی پیسہ نہیں لیا یہ مجھ پر سرا سر الزام ہے ۔ وہیں بی ڈی او سنگلدان انچارج سے جب بات کی تو انہوں نے تمام الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے بہار الدین سے پیسہ نہیں لیا یہ صرف الزام لگا رہا ہے۔