’’تین بڑے صوفیاء‘‘۔ڈاکٹر غلام قادر لون کی تازہ تصنیف قسط۔۱

ڈاکٹر امتیاز عبدالقادر۔بارہمولہ

’’تین بڑے صوفیاء(امام غزالیؒ، عمر ابن الفارضؒ؛ محی الدین ابن عربیؒ) ‘‘ڈاکٹر غلام قادر لون کی تازہ تصنیف جسے برادر سہیل بشیر کار صاحب نے مرتب کرکے شائع کیا ہے۔علم و تحقیق کا میدان ہو یا فلسفہ و تصوف کی پُرپیچ راہ، ڈاکٹر غلام قادر لون اس شاہراہ کے شہ سوار ہیں۔پاک و ہند کا علمی طبقہ لون صاحب کے علمی تبحّرکا معترف ہے۔جس موضوع پر خامہ فرسائی کرتے ہیں حق ادا کردیتے ہیں۔تحقیق و تنقید میں وہ ثقہ تصور کئے جاتے ہیں۔زیر تبصرہ کتابچہ میں تین صوفی بزرگوں پر مشتمل مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔پہلا مضمون امام غزالیؒ پر ہے جوکہ طویل مضمون ہے۔دوسری تحریر عمر ابن الفارضؒ پر ہے جوکہ مختصر ہی رقم کیا گیا ہے اور تیسرا مضمون محی الدین ابن عربیؒ پر ہے جوکہ مضمون نہیں بلکہ ان کی فکر پر دو صفحات پر نامکمل خلاصہ لگتا ہے۔

کتابچہ میں مزکورہ تین صوفیاء کے افکار و نظریات کا محاکمہ کیا گیا ہے۔انسان ہر زماں تزکیہ و تطہیر نفس کا متلاشی رہا ہے۔نیکی و بدی کی جنگ، مادہ و روح کی کشمکش طبعًا نفسِ انسانی میں پنہاں ہے۔اللہ نے تسویہ نفس، تطہیر فکر و قلب کے لئے گاہے گاہے انبیاء بھیجے اور ان کی رہنمائی کے لئے اور مخاطب قوم کی ہدایت کے لئے کتابیں بھی نازل کیں۔بْعد زمانہ نے طرح طرح کے فتنوں کو جنم دیا۔دین و دنیا کی دوئی، ہدایت ربی سے لاتعلقی، رسول کی سنت کی غلط تعبیر نے گزشتہ و موجودہ ’’امت مسلمہ ‘‘کو ایک ایسی راہ پر لاکھڑا کیا جس نے اْن کے اندر مبالغہ و تشدد نے جنم دیااور المیہ یہ ہے کہ یہ سب دین کے ’لبادے‘میں ہی پیش کیا گیا اور دین کی اصل کے طور پر متعارف کرایا گیا۔عیسٰی علیہ السلام کی امت میں رہبانیت کے لبادے میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ’تصوف ‘کے لباس میں۔

قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نصاریٰ فلاح آخرت اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئے اللہ اور اس کے رسول مسیح علیہ السلام کے سکھائے ہوئے اعمال و عبادات کو ناکافی سمجھ کر ان کی مقدار میں اضافہ اور ادائیگی میں مبالغہ کرکے ہلاک اور گمراہ ہوئے۔بعینہ رسالت مآب ؐکے صدیوں بعد اس امت کے اکابرین نے بھی تزکیہ نفس و تطہیر قلب و نظر کے لئے ایسا منہج وضع کیا جو قرآن و سنت کے بیّن احکامات سے بالکل متوازی ہے۔ حالانکہ صحابہ کرامؓ کا مقدس گروہ جب کبھی فلاح آخرت و قربِ الٰہی کے حصول کے جزبے سے سرشار ہوکر کبھی نفلی عبادات کی ادائیگی میں حضور ؐ کی سنت کی اتباع سے انحراف اور اضافے کا وقتی اور عارضی طورپر مرتکب ہوجاتا تھا ،تو ایسے موقعوں پر شارع علیہ السلام نے کبھی پیار و محبت سے اور کبھی سختی سے تنبہ کیا اور عبادات کی مقدار میں اضافہ اور سنت کی اتباع سے انحراف کے خطرناک نتائج و عواقب سے نہ صرف خبردار کیا بلکہ حکماً منع بھی فرمایا۔دورِ نبوت میں ایسی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نفلی عبادات کی ادائیگی میں اپنی سنت پر صحابہ ؓ کے اضافے اور غلو و تشدد کے نئے طریقے کو برداشت کیا ہو اور بروقت ان کو اس سے منع نہ کیا ہو، جس پر قرآن و حدیث شاہد ہیں۔

زیر تبصرہ کتابچہ میں اس انحراف و اعمال میں تشدد کی طرف اشارہ ملتا ہے۔کتاب میں مصنف نے نقد و تبصرے سے اجتناب کرتے ہوئےکوشش کی ہے کہ موضوع کے حوالے سے بنیادی ماخذات سے ہی استدلال پیش کرکے، ان بزرگوں کی فکر و نظر کو قاری کے سامنے پیش کیا جائے۔ڈاکٹر غلام قادر لون صاحب نظریہ تصوف کے بارے میں لکھتے ہیں :’’یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ مقبولیت کے باوجود تصوف کی حیثیت ہر عہد میں متنازعہ رہی ہے۔علماء اسلام کا ایک طبقہ جہاں تصوف کو اسلام کی روح اور مغز سے تعبیر کرتا ہے، وہیں دوسرا اسے غیر اسلامی رہبانیت قرار دے کر مسترد کردیتا ہے۔‘‘(مطالعہ تصوف ،قرآن و سنت کی روشنی میں)

امام غزالیؒ جیسی بلند پایہ علمی و فکری شخصیت کے ہاں بھی تسامح پایا جاتا ہے جس کا احاطہ مصنف نے ان کے اقوال و کتابوں کے حوالے سے ضبطِ تحریر لایاہے۔ امام غزالی ؒکی ابتدائی زندگی کے احوال اور و افکار بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :’’دمشق میں ان کا قیام دس سال رہا۔ اس دوران انہوں نے’’احیاء العلوم ‘‘لکھی۔ ان دس برسوں کے دوران وہ قبرستانوں، مسجدوں اور مشہدوں میں گھوم گھوم کر ریاضت و مجاہدہ کے مرحلے طے کررہے تھے۔بغداد لوٹے تو اہل حقیقت کا طرز کلام اپنایا۔احیاء العلوم کی وجہ سے بعض حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔مخالفین کی طرف سے طعن و تشنیع کی بوچھار ہوئی۔‘‘ (ص ۱۰)
امام غزالی کے ہاں جو تصوف کی چنگاری سلگی، اس کے متعلق ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ فلسفہ کی کتابوں کے مطالعہ کا خمیازہ ہے کہ جنہوں نے امام موصوف کو فائدہ سے زیادہ نقصان ہی پہنچایا۔ابن رْشد، ابن ولید طرطوشی اور ابن قیم نے ان کے افکار و نظریات کو کم مایہ اور سطحی بتایا ہے۔(ص ۱۱)

مصنف کے بقول امام غزالی نے فلسفہ، منطق؛ فقہ اور اخلاق و تصوف جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے البتہ جس علم کو انہوں نے اپنا حاصل زیست سمجھا وہ ‘تصوف’ہے، لکھتے ہیں :
’’تصوف کی ترویج و اشاعت سے ان کو خاص دلچسپی تھی۔ اس سے قبل تصوف پر کئی ایک کتابیں لکھی جاچکی تھیں۔لیکن عوام تو کیا خواص بھی ابھی تک اس علم کو محتاط نگاہوں سے دیکھتے تھے۔علماء شریعت نے تصوف کو دل سے قبول نہیں کیا تھا۔امام موصوف کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ انہوں نے علماء شریعت اور اہل باطن کے درمیان وسیع خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔‘‘(ص ۱۲)
امام غزالی نے تصوف کو ’’علم مکاشفہ‘‘ سے تعبیر کیا ہے،مصنف ان کا حوالہ دیتے ہوئے رقمطراز ہیں :’’اس راہ کے سالک کو مشاہدات و مکاشفات حاصل ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ انہیں بیداری کی حالت میں ملائکہ اور انبیاء کی ارواح کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ان سے آوازیں سنتے ہیں اور فائدے حاصل کرتے ہیں۔اس کے بعد صورتوں اور مثالوں کے مشاہدہ سے ترقی کرکے اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں جس کے بیان سے زبان قاصر ہے۔‘‘(ص ۱۳)

یہ تصور سراسر مزاج دین کے خلاف ہے۔دنیا امتحان کے اصول پر تخلیق کی گئی۔یہاں کچھ حقائق پر پردہ رکھا گیا جو کہ کل روزقیامت ہی اللہ کے اذن سے چاک ہوگا۔اللہ، انبیاء و ملائکہ کا دیدار ہو یا بعد از مرگ کے احوال، یہ سب اس دنیا میں انسان کے لئے غیب کے پردہ میں رکھے گئے ہیں اور امتحان کے لئے یہی اصول موزوں بھی ہے۔ان چیزوں کے درپے رہنا اور مزعومہ مکاشفہ کا’’ اسکول ‘‘کھول کے لوگوں کو اس بھول بھلیاں میں دھکیلنا؛ قرآن کے تصور دین سے یکسر مختلف ہے۔

امام غزالی نے علم باطن کو علم ظاہر پر فوقیت دی ہے اور اس کی تحصیل کو فرض عین قرار دیا۔ان کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر لون صاحب لکھتے ہیں : ’’ترک دنیا، زہد و ورع، صبر و رضا اور فقر و توکل کے متعلق امام غزالی ؒکی آراء اپنے پیش رو صوفیا سے مختلف نہیں ہیں۔امام موصوف اپنے زمانہ کی شکایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں عزلت نشینی کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں رہا ہے۔‘‘(ص۱۴)امام غزالی کے صوفیانہ افکار کو مصنف نے من وعن ان کی کتب سے اخذ کرکے شامل مضمون کیا ہے جیسے کہ :’’ امام موصوف نے کسبِ معاش کو اگرچہ توکل کے منافی قرار نہیں دیا ہے تاہم ان کی رائے ہے کہ توکل کا اعلیٰ مقام یہ ہے کہ بندہ اپنی حرکات و سکنات میں اللہ تعالی کے سامنے ایسا ہوجائے جس طرح مردہ انسان غسّال کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔‘‘(ص ۱۷)

ایک تصورِ توکل وہ ہے جس کی تلقین قرآن و سنت میں ملتی ہے اور قرنِ اول کی مقدس ہستیوںؓ نے جسے سمجھا اور عملاً برتا، دوسرا تصورِ توکل وہ ہے جسے صوفی بزرگوں نے مشروع کیا جس میں قرآن و سنت سے بالکل انحراف پایا جاتا ہے. امام موصوف نے بھی متوکلین کی درجہ بندی کی ہے جس کا ذکر زیر تبصرہ کتابچہ میں موجود ہے۔

وحدت الوجود جس پر کہ ابن عربی کو بعد میں مطعون کیا گیا، امام غزالی کے ہاں بھی یہ متنازعہ نظریہ ملتا ہے۔امام موصوف توحید کی چار قسموں کے قائل تھے۔ ان میں سے چوتھی قسم ان کے ہاں اعلیٰ ترین قسم شمار کی جاتی ہے جسے وہ ‘’’فنا فی التوحید ‘‘کہتے ہیں۔ اس قسم کی توضیح کرتے ہوئے امام غزالی کہتے ہیں کہ آدمی توحید میں اتنا مستغرق ہوجائے کہ اسے وجود ِواحد کے سوا کچھ نہ دکھائی دے، وہ اپنے نفس اور مخلوق دونوں سے غافل ہوجاتا ہے۔(ص ۲۲)۔۔۔۔۔(مضمون جاری ہے،باقی اگلی سنیچروار کو)
[email protected]