تین برس سے لٹکتا ہوا گول چُنا کا پل | محکمہ تعمیرات عامہ کی غفلت شعاری سے لوگ پریشان،پل تعمیر کرنے کا مطالبہ

گول//تین برس قبل برسات کے موسم کے دوران شدید بارشوں کی وجہ سے گول سب ڈویژن کے چنا علاقہ میںایک پل جو ڈھہ گیا تھا ابھی تک اس پل کی دوبارہ تعمیر نہ ہو سکی ۔ اس پل کی وجہ سے کم و بیش تین پنچایت کے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ پل کلی مستا ، گاگرہ ، آستان مرگ ، گوئی ، ڈاکہ ، چنا ، بھیمداسہ وغیرہ علاقوں کو سب ڈویژن گول کے ساتھ ملاتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے لوگوں کی اتنی زیادہ پریشانی کے با وجود محکمہ پی ڈبلیو ڈی اور انتظامیہ کو ٹس سے مس نہیں ہو رہا ہے ۔ بارشوں کے دوران لوگوں کو دوگنا سفر کرنا پڑتا ہے اور کئی لوگ ضروری کام اور وقت پر نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔ شدید بارشوں کے دوران اس چنا کے دریا پر پانی کا بھائو کافی زیادہ ہوتا ہے انسان کی بس کے باہر ہے جس وجہ سے لوگوں کو ہمیشہ یہاںپر بے بسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، اس دریا کے پانی کو پار کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے جس وجہ سے لوگوں کو دوگنا پیدل سفر کر کے اپنی منزلوں کو جانے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے یہاں لوگوں نے کہا کہ اگر چہ کئی مرتبہ انتظامیہ سے بھی اپیل کی تھی کہ اس پل کی جلد از جلد تعمیر کی جائے اور یہاں ڈی ڈی سی ، بی ڈی سی اور ضلع چیر مین نے بھی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ابھی تک لوگ ان ہی یقین دہانیوں پر دن گزار رہے ہیں ۔ لوگوں نے کہا کہ زیادہ تر بارشوں کے دوران لوگوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پانی کا بھائو کافی زیادہ ہوتا ہے یہاں اس پانی کو پار کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے جس وجہ سے لوگوں کو بارشوں کے دوران گگر سولہ علاقہ سے جانا پڑتا ہے جو دوگنا سفر ہوتا ہے ۔ لوگوں نے گورنر انتظامیہ ، ضلع انتظامیہ اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد اس پل کی تعمیر کی جائے تا کہ لوگوں کو آنے جانے میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو ۔