تیزاب حملہ کیس

  سرینگر//جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو ایک جواں سال دوشیزہ پر تیزاب حملے کے حالیہ واقعہ کے سلسلے میں گرفتار 3ملوثین کیخلاف دو چارج شیٹ داخل کئے۔گرفتار شدگان میں ایک نابالغ لڑکا بھی ہے۔جہاں دو بالغ نوجوانوں کے خلاف 1000 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں داخل کیا گیا ، وہیںدوسرا چارج شیٹ جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا ۔حکام نے بتایا کہ ملزمان کو فوری اور مثالی سزا یقینی بنانے اور ایسے "وحشیانہ" رجحانات رکھنے والوں کو روکنے کے لیے تین ہفتوں کے اندر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔یہ واقعہ یکم فروری کو پیش آیا تھا۔سری نگر میں ابتدائی علاج کے بعد متاثرہ کو خصوصی علاج کے لیے چنئی روانہ کیا گیا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ ملزم سجاد احمد اور محمد سلیم اور نابالغ پر آئی پی سی کی دفعہ-B 120- (مجرمانہ سازش) اور 326-A (رضاکارانہ طور پر تیزاب کے استعمال سے شدید چوٹ پہنچانا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔قبل ازیں، انسپکٹر جنرل آف پولیس (کشمیر) وجے کمار نے  بتایا تھا کہ تحقیقات تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور وہ جلد ہی اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کر کے عمل کو مکمل کریں گے۔پولیس نے عدالت میں ایک عرضی بھی دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ نابالغ لڑکے کی جانب سے گھناونا جرم انجام دینے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکے خلاف اسی طرح قانونی کارروائی انجام دی جائے جس طرح دیگر دو نوجوانوں کیخلاف کی جائیگی۔
 
 

 متاثرہ لڑکی کی آنکھوں کی صورتحال جوں کی توں

چنئی میں 3جراحیاں انجام دی گئیں، چہرے کی دوسری جراحی24 فروری کو ہوگی

پرویز احمد 
 
سرینگر //یکم فروری کو تیز اب حملے میں شدید زخمی ہونے والی24سالہ دوشیزہ کی تین بار جراحیاں انجام دی گئیں ہیں۔چنئی میں انکے ساتھ اسپتال میں موجود قریبی رشتہ دار طفیل احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ چارج شیٹ عدالت میں دائر ہونے کے بعد قصوراروں کو جلد سزا دلانے کیلئے فارسٹ ٹریک کورٹ میں شنوائیہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکی کی دونوں آنکھوں کی تین مرتبہ جراحی ہوئی ہے تاہم ڈاکٹروں کو ابھی تک آنکھوں کی خیلوںکا دبائو  ((Occuler Pressure بحال کرنے میں کامیاب نہیںملی ہے۔متاثرہ لڑکی کی بینائی بحال کرنے کیلئے اسکی دونوں آنکھوں کی ابتک 3 مرتبہ جراحیاں انجام دی گئیں جبکہ چہرے کی جھلسی ہوئی جلد کو ہٹانے کیلئے دوسری جراحی 24فروروی کو انجام دی جائے گی۔ لڑکی کی پہلی جراحی 3فروری کو صدر اسپتال سرینگر ،دوسری جراحی 9فروری کو اور تیسری جراحی 16فروری کو چنئی اسپتال میں انجام دی گئیں ہیں۔ طفیل احمد نے بتایا ’’ جراحیوں کے ذریعے ڈاکٹر خون کی سپلائی خلیوں تک پہنچانا چاہتے ہیں تاکہ آنکھوں کا دبائوبحال ہوسکے‘‘۔طفیل احمد نے بتایاکہ ڈاکٹر جراحیوں کے ذریعے خون کی سپلائی بحال کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ طفیل نے مزید بتایا ’’ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تب تک کچھ بھی علاج نہیں ہوسکتا جب تک لڑکی کی آنکھوں کا دبائو بحال نہیں ہوگا اور دبائو بحال ہونے کے بعد ہی ڈاکٹر کارنیا اور دیگر مسائل کا علاج کرنے کی سوچ سکتے ہیں‘‘۔ طفیل نے بتایا کہ 16فروری کو لڑکی کی دونوں آنکھوں کی دوسری جراحی کے ساتھ ڈاکٹروں نے چہرے کی جلی ہوئی جلد کو ہٹانے کیلئے بھی سرجری کی اور چہرے کو ٹھیک کرنے کیلئے دوسری جراحی 24فروری کو نجام دی جائے گی۔ طفیل نے بتایا ’’ فی الحال لڑکی کو  60mgکی Steriodکی دوائی کھانی پڑرہی ہے۔طفیل نے بتایا ’’ 24فروری کی جراحی سمیت ابتک لڑکی کی جراحیوں میں 4لاکھ روپے کا خرچہ آیا ہے اور جراحیوں کی فیس سرینگر میونسپلٹی کے میئر جنید متو بر داشت کررہے ہیں۔ طفیل نے بتایا ’’ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے صرف 1لاکھ روپے کی امداد حملے کے دوسرے روز دی گئی لیکن چینئی منتقل ہونے کے بعد صوبائی انتظامیہ نے کوئی مالی مدد نہیں کی ہے۔