تیری دیدۂ تر ہی میری بڑی متاع

اردو شعراء میں سب سے زیادہ غالب اورا قبال پر لکھا گیا ہے اور جیسے جیسے فکر ونظر کی وسعت بڑھتی جائے گی ان شعراء پر نت نئے انداز سے لکھا جائے گا۔میں اس اقبال سے واقف نہیں ہوں جو مشرق و مغرب کے فلسفے کا پیکر تھا جس کے یہاں گوئٹے، ہیگل، جمال الدین افغانی، جلال الدین رومی،سر سید، حالی، ابوالکلام آزاد وغیرہ کی شخصیات کی جھلک منفرد انداز میں نظر آتی ہے ۔ میں اس اقبال کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جس نے برصغیر کی دانشوری کو ایک نیا زاویہ عطا کیا۔ میں اس اقبال سے واقف ہوں جو خون جگر سے نقش بنانا جانتا تھا۔ جس کے نغمے برصغیرکی فضا میں آج بھی گونج رہے ہیں۔اقبال کی شاعری کا سفر دراصل سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا سے لیکر ، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا تک محیط ہے۔اقبال نے زندگی کو ضمیر آدم اور سر کن فکاں سمجھا اور اسے اپنے اشعار میں ڈھال دیا۔ وہ برصغیرکے بطل گراں تھے۔ جن کی نظر ایک طرف ہمالہ کی بلندی پر تھی ۔
اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوساں
چومتا ہے تیری پیشانی کوجھک کر آسماں
اور دوسری طرف ان کا ذہن کائنات کی وسعتوں سے آگے سفر کرنا چاہتا تھا۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں
ان کا دردمند دل قطرہ سیماب کی مانند تڑپتارہا دریا میں فنا ہوجانے کی عشرت کے لئے ۔اور وہ کہتے رہے کہ :
تو ہے محیط بیکراں، میں ہوں ذرا سی آبجو
یا مجھے ہم کنار کر یا مجھے بے کنار کر
اقبال نے اردو شاعری کو کیادیا، اسلوب و بیان ، کیفیت و اظہار کے کیسے کیسے پیمانے تراشے، اس کا ذکر کوئی نقادہی کرسکتا ہے۔میرے لئے تو ان کا دیدہ تر ہی سب سے بڑی متاع ہے ۔شاعر مشرق جلال و جمال کا حسین امتزاج تھے۔ اسی جلال و جمال کا سب سے بڑا مظہر ان کی نظم مسجد قرطبہ ہے۔ وہ اگر صرف یہ نظم لکھتے اور کچھ نہ لکھتے تب بھی اردو نظم کی تاریخ میں زندہ رہتے۔ انہوں نے فکر کاایک نیا حلقہ تراشا تھا ، کائنات کو نئے زاویئے سے دیکھا تھا۔ ان کی بے چین روح نے اس کا اظہار بار بار کیا ہے:
کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد
مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد
فلسفی سے، نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو
یہ دل کی موت، وہ اندیشہ و نظر کا فساد
روح کی اتنی تڑپ، دل کی بےچینی اور خوب سے خوب تر کی جستجو نے اقبال کو منفرد مقام عطا کیا۔ گزرتے ہوئے وقت کےساتھ ان کی فکر کے زاویئے کھلتے جائیں گے۔ان کی نظر میں زندگی حرکت تھی اور جمود موت، تصویر کے دونوں رخوں کوانہوں نے بہ نظر غائر دیکھا تھا۔
قافلے دیکھ اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ
رہر و درماندہ کی منزل سے بيزاری بھی دیکھ