تیج بہادر نے سپریم کورٹ سے کیارجوع

نئی دہلی//اترپردیش کی وارانسی سیٹ سے وزیراعظم نریندرمودی کے خلاف انتخابی میدان میں اترنے والے سرحدی سلامتی فورس (بی ایس ایف )کے برخاست جوان تیج بہادر یادو نے کاغذات نامزدگی ردہونے کے بعد سپریم کورٹ سے رجو ع کیاہے ۔ سماج وادی پارٹی کے ٹکٹ پر کاغذات نامزدگی داخل کرنے والے تیج بہادر نے انتخابی افسر کے ذریعہ کاغذات خارج کردیے جانے کے فیصلہ کو چیلنج کیاہے ۔تیج بہادر کی طرف سے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے عرضی دائر کی ہے ۔ عرضی گزار نے انتخابی افسر کے یکم مئی کے اس حکم پر یکطرفہ روک لگانے کی درخواست کی ہے ،جس کے تحت انکی (تیج بہادرکی )نامزدگی خارج کی گئی ہے ۔  تیج بہادر نے پہلے آزادامیدوار کے طور پر پرچہ داخل کیاتھا۔اس کے بعد ایس پی نے انھیں اپنا امیدوار بنالیا۔سماج وادی پارٹی نے پہلے شالنی یادو کو ٹکٹ دیاتھا ۔تیج بہادر کا پرچہ رد ہونے کے بعد اب سماج وادی پارٹی کی طرف سے شالنی یادو مسٹر مودی کے مقابلے میں ہیں ۔ واضح رہے کہ تیج بہادر کے ایک ویڈیو نے تنازعہ پیداکردیاتھا جس میں وہ الزام لگاتے ہوئے کہہ کرہے تھے کہ بی ایس ایف کے جوانوں کو غیر معیاری کھانہ دیاجارہاہے ۔اس کے بعد انھیں بی ایس ایف سے برخاست کردیاگیاتھا۔ضلع انتخابی افسر سریندرسنگھ نے تیج بہادر یادو کے ذریعہ پیش کئے گئے کاغذات نامزدگی کے سیٹوں میں ‘ خامیوں ’ کے مدنظر ان سے ایک دن بعد این اوسی داخل کرنے کو کہاتھا۔ تیج بہادر نے 24اپریل کو آزادامیدوار اور 29اپریل کو ایس پی کے امیدوار کے طورپر کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے ۔  تیج بہادر نے بی ایس ایف سے برخاستگی کے تعلق سے دونوں کاغذآت نامزدگی میں الگ الگ دعوے کیے تھے ۔اس پر ضلع انتخابی دفتر نے تیج بہادر کونوٹس جاری کرتے ہوئے این اوسی جمع کرنے کی ہدایت دی تھی ۔تیج بہادر سے کہاگیاتھا کہ وہ بی ایس ایف سے اس بات کا این اوسی پیش کریں جس میں انکی برکاستگی کی وجہ بتائی گئی ہو۔ ضلع مجسٹریٹ سریندرسنگھ نے عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 9اور دفعہ 33کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یادو کی نامزدگی اس لیے منظور نہیں کی گئی کیونکہ وہ مقررہ وقت پر ضروری کاغذات پیش نہیں کرسکے ۔یواین آئی