تیار بہ تیار بازاری پکوان: ذیابطیس،بلڈ پریشر،اور کلسٹرال جیسے موذی امراض کا باعث

سرینگر //محکمہ فوڈ سیفٹی نے تعلیمی اداروں کے آس پاس50میٹر تک کے دائرے میں ریستوران کھولنے پر پابندی عائد کی تھی تاہم اب ان پابندیوں کا کوئی لحاظ نہ کرکے مضر صحت قرار دئے گئے ان پکوانوں کی کھلے عام فرروخت کی جارہی ہے ۔شہر سرینگر کالجوں اور سکولوں کے ارد گرد بھی بہت سارے ایسے ریستوران قائم ہیں جہاں اس طرح سے تیار بہ تیار کھانے جنہیں عرف عام میں جنک فوڈ قرار دیا جاتا ہے ،دستیاب ہے۔ماہرین طب نے اس طرح کے کھانوں کو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے لوگوں سے اس طرح کے کھانوں سے اجتناب کا مشورہ دیا ہے۔ماہرین صحت  کا کہنا ہے کہ اگر ان مصر صحت کھانوں پر پابندی عائد نہیں کی گئی تو وادی میں آنے والے وقت میں بچوں میں موٹاپا ،زیابطیس ،بلڈ پریشر اور کینسر نامی بیماریاں عام ہو جائیں گی کیونکہ جنک فوڈ کا پانچ روز تک لگاتار استعمال نقصان دے ثابت ہو تا ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فوڈ کنٹرول آف انڈیا نے کچھ ماہ قبل ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں اس بات کی واضح ہدایت دی گئی کہ تعلیمی اداروں اور اس کے 50میٹر کی دوری پراس کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کی جائے، لیکن یہاں کہیں پر بھی پابندی نہیں دکھائی دے رہا ہے جبکہ اب ٹویشن سنٹروں ہوںیونیورسٹیاں ہوں یا پھر کالج و دیگر سرکاری وغیر سرکاری سکول وہاں پر چند گز کی دوری پر ایسی دکانیں یا پھر ریستوران ہیں جہاں یہ سب کچھ آسانی سے ملتا ہے اور اس کی روکتھام نہیں ہو رہی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنک فوڈ کا پانچ دن تک استعمال نقصان دپ ثابت ہو سکتا ہے ۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر نثار الحسن نے اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس جنک فوڈ اور پراپریٹری کھانوں کو کھانے سے خطرناک بیماریاں لگنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل اور بچوں کو اس سے لگنے والی بیماریوں سے بچانے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔وادی کے معرو ف ماہر اطفال ڈاکٹر مظفر جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس سے موٹاپا بڑھ جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی بلیڈ پریشر ، زیابطیس کی بیماریاں لگنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو کشمیری روائتی کھانوں کی طرف مائل کریں اور ساتھ میں میوہ کھانے کو دیں ۔انہوں نے کہا کہ والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ان مضرصحت کھانے سے پائے جانے والے اثرات کے بارے میں آگاہ کریں اور سختی سے اس کی روکتھام کریں ۔طبی ماہرین مزید کہتے ہیں جنک فوڈ کی طلب سگریٹ یا پھر منشیات سے کم نہیں اس کا استعمال بچوں کی بڑھتی عمر کیلئے نقصان دہ ہے ۔اس معاملے میں متعلقہ محکمہ بھی بے بس ہی دکھائی دے رہا ہے ۔فوڈ کنٹرول کشمیر محکمہ کے ایک اعلی افسر ہلال احمد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جنک فوڈ واقعتا ہی مضر صحت ہے ۔چھوٹے بچے اس کے عادی ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ فود کنٹرول اٹھارٹی آف انڈیا نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں سکولوں کے اندر ریستوران پر جنک فوڈ پر پابندی عائد ہے جبکہ سکولوں سے 50میٹر کی دوری پر بھی اس پر پابندی ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے اہلکار وقتا ًفوقتا ًاس سلسلے میں تعلیمی اداروں میں جا کر اس کا معائنہ کرتیہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مارکٹ میں فروخت ہو رہے برگر ، موموز اور دیگر فوڈ کے متعلق اگر انہیں کوئی شکایات ملتی ہے تو وہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہیں ۔