تہذیبوں کے گہوارے کا نظریہ ؟ | تاریخ انسان کے دل کی ترجمان ہے

ہم جس خطے میں رہتے ہیں یہ زمانۂ قدیم سے مختلف تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے مل جل کر امن وسکون اور پیار و محبت کے ساتھ رہتے آئے ہیں انسانیت ان کی مشترکہ میراث اور بھائی چارہ ان کا مشترکہ وصف تھامگر افسوس!انگریزوں نے برصغیر میں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کیلئے مختلف طبقات اور گروہوں میں نفرت کو ہوا دینے کا منصوبہ بنایا، انہوں نے’’تقسیم کرو اور راج کرو‘‘کی پالیسی اختیار کی اور منصوبہ بند سازش کے تحت برصغیر کے باشندوں کے درمیان دوریاں پیدا کیں۔ موجودہ صورتِ حال اس کی مثال ہے،جس کے نتیجہ میںملک کا ہر شہری اس بات کو شدت سے محسوس کرتا ہے کہ یہاںوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نفرت کی جڑیں گہری ہوتی گئیں اور تو اور ذات پات کی سیاست نے انسانوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا ۔ ہر گروہ اپنی بالادستی قائم رکھنے اور اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے سر گرم عمل رہا اور نہ صرف یہ کہ دیگر گروہوں کے حقوق غصب کرنے میں اسے کوئی باک نہیں، بلکہ وہ ان پر ظلم و ستم ڈھانے اور انہیں اذیتیں پہنچانے میں بھی آگے آگے رہا ۔اس رویے نے امن و آشتی اور باہم الفت و محبت پر مبنی ملک کی فضاء کو مسموم کر دیا ۔ آج ایک دوسرے کو شک و شبے کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔اس کا نتیجہ ہے کہ جو صلاحتیں ملک کی تعمیر و ترقی میں لگنی چاہئے تھیں ،وہ تخریب،فتنہ انگیزی اور شر پسندی کی نذر ہوگئیں ۔ہم جس خطے میں رہتے ہیں یہ زمانۂ قدیم سے مختلف تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے مل جل کر امن وسکون اور پیار و محبت کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ وہ اپنے اپنے مذہب، کلچر اور رسم و رواج پر عمل پیرا ہوتے تھے، لیکن انسانیت ان کی مشترکہ میراث اور بھائی چارہ ان کا مشترکہ وصف تھا۔ وہ باہم شیر و شکر ہو کر رہتے اور ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔
انیسویں صدی عیسوی میں انگریزوں نے یہاں قدم جمانے شروع کئے تو مسلمانوں کیساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے افراد نے بھی باہم مل کر ان کے خلاف جدو جہد کی۔ پھر جب انگریزوں کا اقتدار یہاں قائم ہو گیا تو ان کے خلاف معرکہ آرائی اور آزادی کی لڑائی میں وہ برابر کے شریک رہے ۔انگریزوں نے برصغیر میں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کیلئے یہاں کے مختلف مذاہب کے پیروکاروں،طبقات اور گروہوں میں نفرت کو ہوا دینے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے’’تقسیم کرو اور راج کرو‘‘کی پالیسی اختیار کی۔ مارکنڈے کاٹجو،جوسپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج ہیں نے اپنے ایک مضمون میں برصغیر میں پھیلی نفرت میں اس کی متعدد مثالیں ذکر کی ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ برصغیر کیلئے وزیر خارجہ سر چارلس ووڈ نے1826ء میں وائس رائے لارڈ الجن کو ایک خط میں لکھا کہ ’’ہم نی برصغیر میں اپنا اقتدار ایک برادری کو دوسری برادری کے خلاف کھڑا کر کے قائم رکھا ہے اور ہمیں اسے جاری رکھنا چاہئے۔اس لئے ان کو ایک متحد احساس سے باز رکھنے کیلئے آپ جو کچھ کر سکتے ہیں،کریں۔ وزیر خارجہ وسکائونٹ کراس نے 1878میں گورنر جنرل ڈفرن کو ایک خط میں لکھا کہ‘‘مذہبی احساس کی تقسیم ہمارے مفاد میں ہے اور ہم یہاں تعلیم اور تعلیمی مواد پر آپ کی تفتیشی کمیٹی سے اچھے نتائج کی امید کرتے ہیں’’۔اسی طرح وزیر خارجہ جارج ہیملٹن نے گورنر جنرل لارڈ کرزن کو لکھا:’’اگر ہم برصغیرکے تعلیم یافتہ طبقے کو دو حصوں (ہندو اور مسلمان)میں تقسیم کر سکتے ہیں تو اس سے ہماری پوزیشن مضبوط ہوگی۔ہمیں درسی کتب کو اس طرح تیار کرنا چاہئے کہ دونوں مذاہب کے اختلافات میں مزید اضافہ ہو۔اس طرح انگریزوں نے مذہبی منافرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ تنازعات کو ابھارنے اور ہوا دینے کی منصوبہ بند کوشش کی اور اس کے لئے مختلف تدابیر اختیار کیں،جن کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں ہے۔ملک کو آزادی ملی تو جن لوگوں کے ہاتھوں میں اس کی زمام اقتدار آئی،ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ یہاں مذاہب کی بنیاد پر مختلف طبقات کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے کی کوشش کرتے اور انگریزوں نے منافرت، بد اعتمادی اور بغض و حسد کے جو بیج بودیئے تھے ان کا قلع قمع کرتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا، بلکہ اس کے برعکس انہوں نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے اور اپنا وووٹ بینک بڑھانے کے مقصد سے نفرت کو بڑھاوا دیا۔ اس طرح یہاں نہ صرف مذاہب کی بنیاد پر بلکہ مسلک کی بنیاد پر بھی مختلف طبقات کے درمیان دوریاں بڑھتی گئیں اور کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کا اثر یوں تو ملک کی تمام اقلیت، لسانی گروہوں اور مذہبی اکائیوں پر پڑا ، لیکن خاص طور پر اس سے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہوئے ہیں۔
ملک کے باشندوں کے ذہن و دماغ میں نفرت کا زہر گھولنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کی گئیں اور مختلف خطوط پر کام کیا گیا۔ اس کا ایک پہلو یہ تھا کہ تاریخ کی نصابی کتابوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی گئی انڈیا میں مسلم حکم رانوں پر یہ الزامات عائد کئے گئے کہ انہوں نے مندروں کو منہدم کیا، ہندوئوں پر ظلم ڈھائے اور ان کو جبریہ مسلمان بنایا۔ان حکمرانوں میں خاص طور پر مغل حکمرانوں اورنگ زیب عالم گیر اور میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کو نشانہ بنایا گیا۔حالاں کہ بہت سے انصاف پسند مؤرخین مثلاً بی این پانڈے وغیرہ نے ان الزامات کا بالکلیہ رد کیا ہے اور تاریخی دستاویزات سے ثابت کیا ہے کہ ان حکمرانوں نے بہت سے مندروں کو باقاعدہ جاگیریں عطا کی تھیں اور جبریہ تبدیلی مذہب کے ان پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔گزشتہ کچھ برسوں سے ملک میں دہشت گردی کا ہوّا کھڑا کیا گیا اور اس کے ذریعے خاص طور پر مسلم امہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جسے اسلامو فوبیا کہا جاسکتا ہے ا صلاً یہ مسلمانوں کے خلاف رچائی جانے والی عالمی سازش ہے۔جس کے تحت بغیر کسی پختہ ثبوت کے محض شک و شبہ کی بنیاد پر ہزاروں مسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ہے۔ برسوں کی عدالتی کارروائیوں کے بعد وہ بے گناہ ثابت ہوتے ہیں، مگر اس وقت تک ان کا تعلیمی کیریر برباد ہوچکا ہوتا ہے اور وہ سماجی طور پر کسی کام کے نہیں رہ جاتے۔نفرت کو ہوا دینے کیلئے تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بعض ایشوز کو نمایاں کیا جاتا ہے اور بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی لوجہادکا شوشہ چھوڑا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ان کو مسلمان بنارہے ہیں۔ کبھی آبادی کا ہوّا کھڑا کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلمان چار چار شادیاں کر کے اپنی آبادی بہت تیزی سے بڑھا رہے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیشی مسلمان بہت بڑی تعداد میں ملک میں آگئے ہیں،جس سے آبادی کا تواز ن بگڑ رہا ہے۔ کبھی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے قرار دیا جاتا ہے اور الزام لگایا جاتا ہے کہ وہاں انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے اور ملک سے غدّاری سکھائی جاتی ہے۔ کبھی معتبر اور محترم شخصیات کو مطعون کیا جاتا ہے، یا انتہا پسندی کو فروغ دینے والا کہہ کر ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان دنوں ہندوستان فرقہ وارانہ تشدد کی ایک اور بھیانک صورت حال سے دوچار ہے۔ دیکھا یہ جارہاہے کہ ملک کے جو ادارے یا جماعتیں نفرت کی اس لہر کو روکنے اور اس پر قدغن لگانے میں کسی حد تک اپنا کردار ادا کر سکتی تھیں، وہ بھی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی ہیں، یا اس نفرت آگ کو مزید بھڑکانے کیلئے ایندھن فراہم کرتی ہیں۔ مثلاً اس میدان میں میڈیا اپنا مثبت اور تعمیری رول ادا کر سکتا تھا، لیکن افسوس کہ تخریب،فتنہ انگیزی اور فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے میں وہ کچھ زیادہ ہی سرگرم دکھائی دیتا ہے۔سیاسی جماعتوں کا معاملہ اور بھی دگر گوں ہے۔ وہ ہم آہنگی اور یکجہتی بڑھانے کیلئے بہت کچھ کرسکتی تھیں لیکن ہر جماعت کو اپنے ووٹ بینک کی فکر ہے۔
یہ نازک صورتحال سنجیدہ اور باوقار شہریوں کو غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پر امن فضا ء کو مسموم کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کو روکنے کی جدّوجہد کریں، فتنہ پردازوں کا ہاتھ پکڑیں اور انہیں ان کی مذموم حرکتوں سے باز رکھیں۔ ان کی مثال ایک کشتی پر سوار افراد کی ہے۔ اگر ان میں سے کچھ لوگ شر انگیزی پر آمادہ ہوں اور کشتی میں سوراخ کرنے کے درپے ہوں تو دوسرے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ ان کا ہاتھ پکڑیں اور انہیں سوراخ نہ کرنے دیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو تمام لوگ غرقاب ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچے گا۔اس معاملے میں دانشور طبقے پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ اس ملک کے معزز شہری ہیں۔
ملک میں ہم آہنگی کو فروغ دینے اور فرقہ واریت کے خاتمہ کے ازالے کے لئے مختلف پہلوئوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لازم ہے کہ ملکی تاریخ کو مسخ کرنیکی کو ششوں کی سرکوبی کی جائے۔ مسلم دہشت گردی کا ہوّا کھڑا کرنے کی جو مذموم کوشش کی جارہی ہے اس پر بند لگایا جائے اور حقیقی مجرموں کو پابند سلاسل کیا جائے ۔ مختلف سرکردہ شخصیات کے ساتھ مل کرمشترکہ فورم تشکیل دئیے جائیں ، شہر شہر قریہ قریہ ایسی امن کمیٹیاں بنائیی جائیں جن میں سب کی نمائندگی ہو۔ ان افراد اور جماعتوں کی مذمت کی جائے اور ان کی مذموم کارروائیوں کو طشت ازبام کیا جائے جو اشتعال انگیز بیانات اور بھڑکانے والی تقریروں کے ذریعے ملک کی پر امن فضا ء کو پراگندہ کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہرایسی کارروائی پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے جس سے نفرت کو بڑھاوا ملتا ہو اور امن و امان غارت ہوتا ہو۔