تھنہ منڈی کے ژالہ باری متاثرین

 
تھنہ منڈی // اسی ماہ کی 8 تاریخ کو ہونے والی ژالہ باری اور بادل پھٹنے سے نقصانات کا جا ئزہ اور تخمینہ لگا کر رپورٹیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 18 مئی مقرر کی گئی ہے تاہم پٹواریوں کی ہڑتال سے اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ بلاک تھنہ منڈی میں آٹھ مئی کو شدید ژالہ باری اور بادل پھٹنے سے جہاں بکروال طبقے کی سینکڑوں بھیڑ بکریاں ہلاک ہوگئیں وہیں درختوں سے میوہ جات اتر گئے اورگندم کی فصل مکمل تباہ ہوئی ۔ اس دوران سبزیاں اور دھان کی پنیری کو شدید نقصان پہنچا جسکی بھر پائی کیلئے اگرچہ کچھ امداد فراہم کی گئی تاہم فصلوں،سبزیوں اور میوہ جات کے نقصانات کا تخمینہ لگاکرحلقہ پٹواریوں کے ہمراہ متعلقہ محکموں کے ملازمین کی مشترکہ ٹیموں کورپورٹ پیش کرنے کیلئے 18 مئی کا ہدف دیا گیاتھا تاکہ اس سارے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ حکومت کو روانہ کی جا سکے لیکن پٹواریوں کی ہڑتال سے نقصانات کی رپورٹیں جمع کروانے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ چونکہ کاشتکاروں کی زمینوں کا تمام ریکارڈ محکمہ مال کے پاس ہوتاہے جسکی وجہ سے بلاک تھنہ منڈی کے ژالہ متاثرین کو نہ سرکار کی طرف سے مفت راشن دستیاب ہونے کا امکان ہے اور نہ فوری معاوضہ کی امید ۔تحصیلدار تھنہ منڈی قدیر الرحمن قاضی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پٹواریوں کی ہڑتال سے نقصانات کی رپورٹیں جمع کروانے میں تاخیر ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ بلاک تھنہ منڈی میں ژالہ باری میں ہونے والے نقصانات کی مفصل رپورٹ ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری کو روانہ کریں گے تاکہ امدادی کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہ آنے پائے۔