تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتالوں کی صحت خراب

 تھنہ منڈی // تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتال کی حالت انتہائی خستہ ہے جہاں پر گزشتہ چھ ماہ سے مریضوں کوضروری ادویات و دیگر بنیادی سہولیات دستیاب ہی نہیں ہیں ۔انتظامیہ کی عدم توجہی کی وجہ سے الٹرا سائو نڈ اور ای سی جی مشینیں دھول کی نظر ہو رہی ہیں ۔تاریخی مغل شاہراہ پر قائم کر دہ پرائمری ہیلتھ سنٹر سے چھ کلو میٹر کی دوری پر بابا غلام شاہ بادشاہ کی درگا ہے جہاں پر جموں وکشمیر کے کئی حصوں کیساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں عقیدت مندحاضری دیتے ہیں ۔علاوہ ازین تحصیل تھنہ منڈی ایک لاکھ کی آبادی کا دباو بھی تھنہ منڈی کے ہیلتھ سنٹر پرہے۔ اس ہسپتال میں روزانہ 200/250 مریض اپناطبی معائینہ کرانے کے لئے آتے ہیںلیکن بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1فیصد مریضوں کی تعداد ایسی ہے جو سرمایہ دار ہونے کی وجہ سے نجی کلینکوں کا رجوع کرتے ہیں جبکہ بقیہ 99فیصد مریض غریب کی وجہ سے سرکاری ہسپتالوں کا ہی رخ کر تے ہیں لیکن بلاک میڈیکل درہال کی ناتجزبہ کاری کی وجہ سے تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتال میں  مریضوں کو ادویات و دیگر بنیادی سہولیات دستیاب نہیں ہیں ۔ تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتال میں الٹرا ساونڈ مشین گذشتہ کئی سالوں سے خراب ہے جسکی مرمت کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا یا گیا ہے جبکہ ECG مشین کو چلانے کے لئے کوئی تربیت یافتہ ملازم تعینات ہی نہیں ہے ۔بلاک میڈیکل آفیسر درحال ڈاکٹر سجاد مرزا کے مطابق محکمہ ہیلتھ کو سپلائی کرنے والی میڈیکل کارپودیشن اور محکمہ کے درمیان اپسی تال میل نہ ہونے کی وجہ سے گذشتہ چھ ماہ سے دوائی کی سپلائی بند ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ سپلائی کو روان رکھنے کے لئے انہوں نے محکمہ صحت کے اعلی حکام کوتحریری خط بھی لکھے ہیں ۔ تھنہ منڈی ہسپتال میں دوائی کی عدم دستیابی کے متعلق چیف میڈیکل افیسر راجوری ڈاکٹر سنیل شرما نے بھی یقین دھانی کرائی تھی کہ تین یوم کے اندر اندر لائف سیونگڈرگ اور دیگر کام کاج کو درست کرنے کے لئے اقداماٹھائے جائیں گی تاہم زمینی سطح پر اسکے اثرات دیکھنے کو نہیں ملے ۔مورخہ 29/6/2019 کو زونل میڈیکل افیسر تھنہ منڈی ڈاکٹر شباب مرزا نے تھنہ منڈی کے سرکاری ہسپتال پر تبصرا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاغذات میں کمیونٹی ہیلتھ سنٹر ہے جبکہ اس ہسپتال میں  پرائمری ہیلتھ سنٹرکے برابر کا طبی و نیم طبی عملہ موجود نہ ہے۔ شاہدرا شریف زیارت کے عقیدت مندوں کا دباو بھی ہے اور اسکے علاوہ مغل روڈ پر سینکڑوں کی تعداد میں ہر روز گاڑیاں چلتی ہیںجبکہ سڑک حادثہ ہونے کی صورت میں کے پیش نظر بلاک میڈیکل افیسر درہال کو ایک تحریری خط ارسال کیا ہے جس میںمناسب مقدار میں ادویات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عملے کی قلت کو پورا کرنے کی مانگ کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ECG مشین کو چلانے کے لئے تربیت یافتہ ڈاکٹر درکار ہے جس کے ملنے کی قوی امید ہے۔