تھنہ منڈی کالج میں جموں یونیورسٹی کیخلاف نعرے بازی

عظمیٰ یاسمین

تھنہ منڈی// گورنمنٹ ڈگری کالج تھنہ منڈی کے طلبہ نے منگل کے روز جموں یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ایڈمشن نوٹس کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ اس موقع پر طلبہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سات جون کو جموں یونیورسٹی کی جانب سے ایڈمشن کے خلاف ایک سرکلر نوٹس جاری کیا گیا جس میں صاف طور پر یہ کہا گیا ہے کہ پانچویں سمسٹر میں ایڈمیشن کے لیے پہلا اور دوسرا سمسٹر مکمل طور پر پاس ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ تیسرے سمسٹر میں داخلہ کے لیے 50 فیصد کرائٹیریا ہونا بھی ضروری قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی کالج کی جانب سے دی گئی تمام اسائنمنٹ کا مکمل ہونا بھی ضروری ہے۔ بچوں نے بتایا کہ دوسرے سمسٹر میں داخلہ کی صورت میں اگر کوئی کتاب رہ جاتی ہے تو اس کے امتحانات کل سے شروع ہو رہے ہیں جبکہ اس کے نتائج ستمبر میں جاری کیے جائیں گے، اس طرح انہیں داخلہ کس بنیاد پر ملے گا۔ بچوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جموں یونیورسٹی جان بوجھ کر ان کا ایک سال ضائع کر رہی ہے اور ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا کی وساطت سے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں یونیورسٹی کی جانب سے گزشتہ سات جون کو جاری کیے گئے نوٹس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کالج کے تقریبا 90 فیصد ایسے طلبہ ہیں جن کے پانچویں سمسٹر میں داخلے صرف اس وجہ سے نہیں ہو رہے ہیں کہ ان کی پہلے دوسرے اور تیسرے سمسٹر میں ایک یا دو کتابیں رہ گئی ہیں۔ بچوں نے مزید کہا کہ آئندہ 14 تاریخ کو کالج گرمائی تعطیلات کے لیے بند ہونے والے ہیں لہذا اس سے پہلے پہلے اس سرکلر نوٹس کو واپس لیا جائے تاکہ وہ اپنے داخلے کروا سکیں۔ بچوں نے مزید کہا کہ کالج میں داخلے کے حوالے سے تمام انہیں چھوٹے موٹے مسائل کا انھیں ہر وقت سامنا رہتا ہے جنہیں فوری طور پر دور کیا جانا چاہیے تاکہ وہ بآسانی کالج میں داخلہ لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں یونیورسٹی کی تانہ شاہی اور ڈکٹیٹر شپ کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لہذا اگر جموں یونیورسٹی ان کے مطالبات پورے نہیں کرتی ہے تو اس صورت میں وہ سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے جاری رکھیں گے جن کی ساری ذمہ داری انتظامیہ کی ہو گی۔