تڑپتے رشتوں کی دردناک کہانی

پیری میں بچپن کی یادیں اور رشتہ داروں کا غم چاہ کر بھی نہیں بھولے 

 
 ٹیٹوال //87سالہ فقیر محمد پچھلے 70برسوں سے فرصت کے لمحات میں ٹیٹوال سیماری میں واقع اپنے کچے مکان کی چھت پر بیٹھ کر دریائے نیلم کے اُس پار اپنے خونی رشتہ داروں کی چہل پہل دیکھتارہتاہے جس سے اس کے بچپن کی وہ یادیں تازہ ہوجاتی ہیں جو اس نے ان اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بتائی تھیں ۔1947میں ہوئی جبری تقسیم کے دوران فقیر محمد کا کنبہ بھی تقسیم ہوکر رہ گیا اور اس کے زیادہ تر رشتہ دار نیلم کے اُس پار رہ گئے جبکہ کچھ رشتہ ٹیٹوال میں آباد ہیں۔اپنوں سے جدائی کا احساس کیا ہوتا ہے ،یہ کوئی فقیر محمد سے پوچھے جو اُدھیڑ عمر میں بھی پل پل اپنوں کی یادوں میں آنسو بہاتارہتا ہے ۔کرناہ کا سیماری گائوں ریاست کا وہ علاقہ ہے جہاں سے بھارت کی سرحد ختم ہوتی ہے اور یہ آخری گائوں بھی 1947کی جبری تقسیم میں کشن گنگا کے دونوں کناروں پر آر پار بٹ گیا۔گائوں کی تقسیم کیا ہوئی کہ بیٹی وہاں رہ گئی اور ماں باپ یہاں تڑپ رہ رہے ہیں۔کہیں والدین سرحد کے اُس پار پھنس گئے اوران کے بچے کے حصے میں ہندوستانی حصہ آیا ۔کشمیر عظمیٰ کے اس نامہ نگار نے جب سیماری گائوں کا منظر دیکھاتو گائوں کی آخری حد پر نظر دوڑاتے ہی ایک عمر رسیدہ شخص چبوترہ نما جگہ پر بیٹھ کر سرحد کے اُس پار تکتا اور من ہی من میں دکھ بھری لوریاں گاتا نظر آیا۔عمر رسیدہ شہری کی آنکھوں سے آنسو چھلک رہے تھے ۔دریافت کئے جانے پر اس نے بتایا’’ میں فقیر محمدہوں‘‘۔ وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے نیلم ویلی علاقے کے گائوں سیماری میں موجود کچھ مکانوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔اُس نے اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ تقسیم سے قبل وہ ان دو گھروں میں پلا بڑھا، جہاں اس کی خالائیں رہتی تھیںجو اب فوت ہوچکی ہیں تاہم اس کے چارخالہ زاد بھائی زندہ ہیں ۔اس کاکہناتھا’’اب جب بھی میرا دل بھر آتا ہے تو میں اسی کنارے پر بیٹھ کر اُس گائوں کی طرف دیکھتا رہتا ہوںکیونکہ جبری تقسیم نے میری دنیا ہی اجاڑ دی ہے‘‘ ۔فقیر کے مطابق 1947سے قبل گائوں ایک تھا اورلوگ پیدل مظفرآباد آیا جایا کرتے تھے کیونکہ سڑکیں نہیں تھیں ،میں دریائے کشن گنگا کو عبورکرکے اُس پار پہنچتا تھا اور وہاں اپنے خالہ زاد بھائیوں کے ساتھ کھیلتا تھا ۔انہوںنے بتایاکہ اس کی دو خالائوں کی شادی اُن مکانوں میں ہوئی اور اُن کے بچے فرید احمد ، غلام محمد اور فیروز محمد اسے اپنے گھر لیجاتے تھے ،مجھے یاد ہے کہ وہ آواز دیتے تھے اورمیں پہنچ جاتا تھا لیکن 1947کے بعد نہ صرف یہ آواز بند ہوگئی بلکہ چٹھی اور پیغام بھی نہیں آیا اورہماری زندگیوں پر سخت پہرے بٹھادیئے گئے۔ان کاکہناتھاکہ دریائے کشن گنگا کے آر پار سیٹی بجانا اور ایک دوسرے سے بات کرنا تو دور کی بات تھی، اگر کوئی ہاتھ ہلا کر آر پار بات کرتا تو اُس کی خیر نہیں ہوتی تھی لیکن 2003کے بعد جب دونوں ممالک کے درمیان کسی حد تک حالات ٹھیک ہوئے توآر پار راستے بحال ہوئے تاہم تب تک سب کچھ بدل چکا تھا، سرحد پار میری دو نوں خالائوںکی موت ہو چکی تھی اور بھائی زندہ تو تھے لیکن پہچان ہی نہیں ہوتی تھی کیونکہ اُن کی عمر بھی اب 80کے قریب ہو گئی ۔فقیر محمد کہتے ہیں کہ تقسیم سے قبل وہ سرحد پار کئی بار گیا لیکن آج تک سرینگر نہیں گیا کیونکہ سرینگر کا راستہ انتہائی مشکل ہے ۔اس کاکہناہے کہ پڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر میری بس اتنی ہی تمنا ہے کہ صرف ایک بار اُس پار اپنے گائوں میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ میں یہ دیکھ کر آئوں کہ میری ماسی کا کنبہ کتنا پھولا پھلا ہے ۔فقیر محمد نے کہاکہ اس کی طرح بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اُس گائوں میں رہ رہے اپنوں کی جدائی میں آنسو بہاتے ہیں ۔معلوم رہے کہ فقیر محمد کی طرح سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جو آج بھی اپنوں کی جدائی میں تڑپ رہے ہیں ۔ بٹوارے کو 70سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی بہت سے لوگ ایک بار اپنا وہ گھر دیکھنے کی حسرت لئے جی رہے ہیں جہاں یا تو وہ خود آباد تھے یا پھر اُن کے بزرگ اور قریبی رشتہ دار رہتے رہے ہیں ۔