تُرکی کابل ایئرپورٹ سنبھالنے کیلئے تیار

انقرہ //ترک وزیر خارجہ مولوت چاوش اوگلو نے کہا ہے کہ ترک اور قطری حکام نے دوحہ میں ملاقات کی جس کے بعد افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے لیے ایک باضابطہ معاہدے پر بات چیت کے لیے کابل جائیں گے۔ ترکی نے گزشتہ اگست میں طالبان کے افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد قطر کے ساتھ کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو چلانے کے لیے تیاری کا اعلان کیا، اس شرط پر کہ اس کے سیکیورٹی مطالبات کو پورا کیا جائے۔ایجنسی نے بتایا کہ ہوائی اڈہ افغانستان کے لیے دنیا میں سب سے نمایاں لینڈ لاکڈ ہوائی رابطہ ہے۔انقرہ کابل ہوائی اڈے کے حوالے سے دوحہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، اوراعلان کیا ہے کہ وہ اسے چلانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ رائیٹرز نے اطلاع دی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے بھی کابل ہوائی اڈے کا انتظام کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ بھی بات چیت کی۔چاوش اوغلو نے کہا کہ دو ترک اور قطری کمپنیوں نے افغانستان کے پانچ ہوائی اڈوں کے انتظام کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جن میں حامد کرزئی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے، تاہم انہوں نے دیگر چار ہوائی اڈوں کا نام نہیں بتایا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں ہم افغانستان کی عبوری حکومت کو مشترکہ پیشکش کریں گے۔ ہمارا وفد آج رات دوحہ جا رہا ہے جہاں سے مشترکہ وفد کابل جائیگا۔ وہاں کی عبوری حکومت سے اس معاملے پر بات چیت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر ہماری شرائط پوری ہو جائیں تو ہم قطر کے ساتھ ہوائی اڈے آپریٹ کر سکتے ہیں۔خبر رساں ادارے رائیٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ قطری حکام نے ترکی کے ساتھ مل کر ہوائی اڈے کے انتظام میں تعاون کیا جب انہوں نے گذشتہ اگست میں امریکی فوج کے افراتفری کے بعد وہاں سے شہریوں اور غیر ملکیوں کو نکالنے کی کوششوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم ذرائع نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ طالبان نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی سرکاری انتظام نہیں کیا ہے۔