تو اریخِ کشمیر کے اصل کردار

ہندوستان  کی72 ؍سالہ تاریخ میں بحیثیت وزیر اعظم شری نریندر مودی کو منفرد مقام حاصل ہوا ہے۔ اُن کی تاریخ پیدائش کے حساب سے وہ سوتنتر سینانی کے زمرے میں شامل نہیں ہیں۔ اُن کا اعتراف ہے کہ وہ کسی رئیس یا صاحب ِ ثروت خانوادے کے چشم و چراغ نہیں ہیں۔ موجودہ اعلیٰ سیاسی مقام تک پہنچنے میں اس طرح کی کوئی خارجی وجوہ موجود نہیں تھیں کہ نریندر مودی کا مستقبل چمکنے کا ذریعہ ثابت ہوتیں۔ یہ سب اُن کی تقدیر میں طے تھا اور تقدیر کے اشاروں پر چلتے چلتے وہ از خود سیاسی سوجھ بوجھ اور انتظامی ذہانت کے منازل طے کرتے گئے ۔ ملک کے اسلوب و آئین میں اُن کی صلاحیتوں کو سمانے کی گنجائش موجود تھی کہ مودی جی کی محنت اور سیاسی سوجھ بوجھ اور کاوشیں کام آگئیںاور وہ بھرپور کامیابی سے ہمکنار ہوگئے۔ خاندانی ثروت، تعلیم و تربیت اور سماجی اثرورسوخ کے لحاظ سے نریندر مودی اور پنڈت نہرو کے درمیان شازو نادر ہی کوئی مماثلت ہوسکتی ہے۔ بھلے ہی سات دہائیاں بعد ہی سہی مگرمودی جی کو سیاست کے موجودہ بازار میں ماضی کے پنڈت نہرو پر سبقت ملی ہے۔ تاہم اس دوڑ کے ابھی اور بھی کئی امتحانی مرحلے باقی ہیں اور تقدیر کی لکیروں کو اس طرف اور اُس طرف سے اور بھی کئی معیار قائم کرنے ہیں۔نہرو جی کو مسند اقتدار پر بیٹھنے کیلئے متواتر طور سترہ سال نصیب ہوئے تھے اور اُن کی سیاسی پارٹی کے عرصہ ٔ  اقتدار کو کاٹ چھانٹ کرنے کے بعد لگ بھگ ساٹھ سال تک عروج و کامرانی حاصل رہی ۔ مودی جی اس میدان کے نئے نئے سوار ہیںاور کل کے بارے میں کوئی کچھ کہنے کی حیثیت میں نہیں ہے۔یہی حال وزیراعظم مودی جی کی جماعت بھاجپا کا بھی ہے۔ اس پارٹی کے بارے میں عام تاثر یہی پایاجاتا ہے کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں بھاجپا کی تھنک ٹینک، آر ایس ایس کا کوئی ادنیٰ سا رول بھی نہیں رہا ہے۔ اس وجہ سے بھاجپا قیادت کو اقتدار کی گلیاروں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے طویل وقت تک جدوجہد کرنا پڑی۔ بالآخر یہ جد وجہد ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا انتخابات میں ٹھکانے لگ گئی اور پارٹی کا نشان کنول کھل اُٹھا۔ آج لوک سبھا کے ایوان میں بی جے پی (این ڈی اے) کو دو تہائی کے قریب ممبران پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے جب کہ ماضی ٔ بعید میں اس جماعت کے تھیلے میں فقط دو ہی ممبران جمع تھے۔
یہ تمہید کچھ لمبا چل پڑا لیکن وزیراعظم نریندر مودی سے منسوب اس خبر کے پس منظر میں یہ تمہید مختصر ہی کہلائے گا ۔ پارلیمنٹ اجلاس سے راشٹر پتی جی کے خطاب پر شکریہ کی تحریک میں وزیر اعظم نے بھی حصہ لیا۔ گزشتہ روز راجیہ سبھا میں تقریر کی تو کانگریس کو آڑے ہاتھوں لینا نہیں بھولے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کانگریس کے ہی لیڈر تھے لیکن اُن کو ۱۹۴۷ء میں ملک کا پہلا وزیر اعظم نہیں ہونے دیا گیا تھا اور نہ ہی اتنے عرصے کے دوران کانگریس پارٹی آنجہانی لیڈر کو کبھی یاد کرتی رہی ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا، گر سردار پٹیل کو (پنڈت نہرو کی جگہ) وزیر اعظم بنایا گیا ہوتا تو کئی ایک مسائل تبھی ہمیشہ کیلئے حل ہوئے ہوتے۔ جموں کشمیر ریاست کا مسلٔہ بھی باقی نہ رہ جاتا۔ وزیر اعظم نے کانگریس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ گاہے گاہے گجرات جاکر پٹیل کی یاد میں اُن کے تعمیر کردہ اسٹیچو آف یونٹی کے درشن کرتے ہوئے آنجہانی لیڈر کو خراج عقیدت ادا کیا کریں۔ نریندر مودی نے پارلیمنٹ اجلاس کے دوران آنجہانی لیڈر و سابق وزیر قانون ڈاکٹر امبیدکر کا تذکرہ کرنے کے پس منظر میں کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کو بھی خاص طور سے گجرات جانے اور سردار پٹیل کی یاد میں بنائے گئے اسٹیچو آف یونٹی کو دیکھنے کی صلح دی۔ وزیراعظم نے آزاد کا منہ چڑھاتے ہوئے اُن پر حالات کا دُھندلی نظر سے جائزہ لینے اور ہر مسئلے کو سیاسی چشمے سے دیکھتے رہنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ غالب نے ایسے ہی لوگوں کیلئے یہ شعر کہا تھا   ؎
تاعمرؔ غالب یہ بھول کرتا رہا
دُھول چہرے پر تھی آئینہ صاف کرتا رہا
لیکن آزاد ہندوستان کی72 ؍سالہ تاریخ کے حوالے سے یہ بات طے ہے کہ کانگریس دور میں سردار پٹیل کو اُن کی دیش بھگتی ، سیاسی دور اندیشی اور بھارت کو موجودہ نقشے کی صورت دینے کیلئے ’’ مرد آہن‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سردار پٹیل کو نہرو کابینہ میں وزیر اعظم کا ڈپٹی قرار دیا گیا تھا اور وزیر داخلہ کا قلمدان بھی سونپا گیا تھا۔ وہ وزیراعظم بن جاتے تو شائد وہ کام نہیں کرپاتے جو اُنہوں نے وزیر داخلہ مقرر ہوجانے پر درجنوں ریاستوں کو بھارت میں شامل کرنے کے لئے انجام دیا تھا۔ نہرو کا سردار پٹیل کو وزیر داخلہ مقرر کرنے کا فیصلہ بھارت کی تقدیر کو سنوارنے کے حق میں ثابت ہوا ہے اور شائد بھارت کی تقدیر میں یہی فیصلہ لکھا گیا تھا۔ نہرو تحریک آزادی کے روح رواں تھے اور ہراول دستے کے کمانڈر اعلیٰ۔ اُن پر کیا مجبوری ڈالی جا سکتی تھی کہ وہ خود پیچھے ہٹ کر اپنے ہاتھوں سردار پٹیل کو وزیر اعظم بناتے؟ اگر پٹیل کو ہی وزیر اعظم کی کرسی مل جاتی تو جموں کشمیر کا مسلٔہ کیونکر باقی نہ رہتا؟جموں کشمیر شائد ہاتھ سے نکل گیا ہوتا۔ بعض اصحاب ِ فکر واہل ِدانش کے مطابق پنڈت نہرو جموں کشمیر ریاست کو اپنی خاندانی میراث کی نظر سے دیکھا کرتے تھے اور نانیہال یا دادیہال کا احترام کرتے ہوئے چالیس لاکھ انسانوں کے اس جائے مسکن کو فقط اپنی ہی آنکھوں میں بسانا چاہتے تھے۔ بنا بریں نہرو نے ریاست کو بھارت کے ساتھ جوڑنے کیلئے کئی سیاسی پینترے کھیلے، وعدہ شکنیاں کیں، اپنے اعتبار کے ساتھ بھی کھیلتے رہے اور اس خطۂ ارض کو فوجی قوت کے بل پر حاصل کرنے سے بھی کبھی گریز نہیں کیا۔ ان لوگوںکا یہ بھی کہنا ہے کہ اس دوران سردار ولبھ بھائی پٹیل کشمیر ریاست کو ہاتھ سے جانے دینے کے بارے میں بھی سوچتے رہتے تھے اور انہوں نے جموں کشمیر کے عوض حیدرآباد ریاست پر کنٹرول حاصل کرنے کا متوازی منصوبہ بھی زیر غور رکھا ہوا تھا۔ پنڈت نہرو کی ہدایات میں کانگریس نے جموں کشمیر ریاست کو بھارت میں شامل کرنے کیلئے جو تدابیر کیں، وہ دوسرے کسی بھی لیڈر کے بس کی بات نہیں تھی۔ پنڈت جی تب کے جموں کشمیر کے عوامی لیڈر شیخ محمد عبداللہ کوریاست میں نظام شاہی کو پاش پاش کرنے اور اس کی آزادانہ حیثیت کو برقرار رکھنے میں ہر ممکن مدد دینے کا اطمینان دلاتے رہتے تھے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے شیخ عبداللہ کو کوئٹ کشمیر کا نعرہ دینے پر گرفتار کرلیا تو نہرو نے اس گرفتاری کو چلنج کرنے کیلئے کوہالہ کے مقام پر اپنی گرفتاری دی لیکن جب جموں کشمیر کے مستقبل کیلئے آزمائش کی گھڑی آئی تو پنڈت جی نے منہ موڑ لیا اور اپنے ظاہری ارادے پھیر دئیے۔مہاراجہ ہری سنگھ نے فوجی مدد کیلئے درخواست دی تھی، مگر نہرو نے پہلے الحاق ِ ہندکی دستاویز پر دستخط کرنے کی شرط رکھ دی۔ نہرو جی نے ریاستی عوام کو اپنی نیم آزادانہ حیثیت کا اعتبار دلاتے ہوئے محض دھوکے میں ڈالنے کی نیت سے الحاق کو مشروط قرار دیا، پھر سرینگر کے لال چوک میں پبلک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وہاں جمع سامعین کو بآواز بلند یقین دلایا کہ ریاست کے عوام کے کہنے پر میں بھارتی افواج کو کبھی بھی ریاست کی حدود سے واپس بلانے کیلئے وعدہ بند ہیں۔ نہرو نے کشمیر تنازعہ کو اقوام متحدہ کے عالمی ادارے میں خود پیش کیا۔ جب وہاں سے رائے شماری کرانے کا فیصلہ سنایا گیا تو ظاہر بین نظروں میں دل و جان سے اسے قبول کرلیا۔ اس کے ساتھ ہی پنڈت جی اپنے ’’دوست‘‘( شیخ عبداللہ ) کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے اور اقوام متحد کے فیصلوں سے مکر جانے کیلئے موزوں گھڑیوں کے انتظار میں رہے۔ چشم فلک نے پھر دیکھ لیا کہ کس طرح۹؍ اگست ۱۹۵۳ء کو نہرو کی ایماء پر رات کے اندھیرے میں شیخ عبداللہ کو غیر آئینی طور وزیراعظم کی کرسی سے ہٹاکر جیل کی کال کوٹھری میں بند کردیا گیا۔پھر ریاست جموں کشمیر میں کٹھ پتلی حکومتوں کا چلن شروع کردیا تاکہ ملک کے آئین کے تحت منفرد مقام کی حامل اس ریاست کو بھارت میں مکمل طور ضم کرنے کا سلسلہ آگے بڑھایا جاسکتا۔ تب تک اقوام متحدہ کے رائے شماری فیصلے سے منہ موڑنے کے ارادے کو بھی پکا بنایا تھا۔ پہلے امریکہ کے فوجی معاہدوں میں ہمسایہ ملک پاکستان کی شمولیت کو بطور عذر پیش کیا، پھر ریاست میں الیکشن کا سلسلہ چلانے کا سوانگ رچا یاگیا۔ یہ داستان اس غرض سے بیان ہورہی ہے تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی خود فیصلہ دیں کہ اگر وہ بالفرض تب نہرو کی کرسی میں برا جمان ہوتے تو کیا پنڈت جی جیسے سیاسی دائو پیچ کھیل سکتے تھے؟؟؟ کوئی مان نہیں سکتا ہے کہ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی بہت ہی زیادہ طاقت ور ہونے کے باوجود بھی اس طرح کے سیاسی کھیل کھیلنے پر تیار ہوجاتے۔ پنڈت جی عالمی پایہ کے اعلیٰ سیاست کار تھے، کافی ذہین اور تجربہ کار تھے۔اُن کے دوستوں نے پنڈت جی کو پیامبر امن کا خطاب بھی دیا تھا اور وہ خود بھی اپنے آپ کو امن کا پجاری کہتے پھرتے تھے، لیکن ابھی جو بربادی، تباہی اور ماردھاڑ کشمیر کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئی ہے، وہ سب نہرو کے ’’ عہدِامن‘‘ کی یادگار یا باقیات ہے۔ پھر سے کہہ دیں کہ یہی سب کشمیر کے لئے مقدر کا لکھا ہوا تھا،نہیں تو آزادی ملنے کے بعد ہندوستان اور ہمسایہ پاکستان کے گھر گھر میںہر روز دیوالی اور عید کا دن ہوتا۔ کوئی غریب، محتاج اور بے گھر نظر نہ آتا۔ باہری ممالک سے کھربوں ڈالر مالیت کا گولی بارود، ٹینک، جنگی جہاز، آبدوز وغیرہ خریدنے اور فوجی نوعیت کی ٹیکنالوجی کے اخراجات ادا کرنے کے بجائے یہ زرکثیر دونوں ممالک سے غربت دور کرنے پر خرچ کی جاتی، اس پورے خطے کو بآسانی امن و امان کا گہوارہ بنایا جاسکتا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اب تک چار مرتبہ جنگ لڑی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ سینکڑوں فوجی دونوں جانب جان بحق ہوئے۔ اربوں کھربوں روپے کا فوجی سازو سامان استعمال کیا گیا لیکن نتیجہ نکلاکیا ؟ آر پار دونوں اطراف میں جان و مال اور اقتصادی تباہی ہوئی۔حال ہی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس قدر کشیدہ صورت اختیارکر گئے تھے کہ آپس میں نیوکلیر جنگ شروع کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔بس اتنا ہی کہنا کافی ہوگا کہ جنوبی ایشیاء کے اس خطے کی مقدر میںابھی تباہی نہیں لکھی تھی اور تبھی دو اَرب سے بھی زیادہ لوگ ابھی تک زندہ ہیں۔ نریندر مودی ایک طاقت ور ملک کے مضبوط تر وزیراعظم کی حیثیت سے چاہیں تو اس پورے خطے میں قیام امن کو غیر متزلزل بنیاد وں پر استوارکیا جا سکتا ہے۔ سردار پٹیل وزیر اعظم ہوجانے کی صورت میں کشمیر کے مسئلہ کو کس طریقے سے حل کرتے، اُس سے قطع نظر عصر حاضر کی اہم ترین ضرورت یہ سوچنا ہے کہ نیوکلیرہمسائیوں میں موجود طرح طرح کے اختلافی مسائل کو دوطر فہ امن و آشتی اور تعمیری سوچ کے ماحول میں کس طرح فوری طور حل کیا جا سکتا ہے اور حصول آزادی کے بعد ستھر سال سے نان شبینہ و دیگر بنیادی ضروریات سے محروم نیم برا عظم کے کروڑوں لوگوں کیلئے کس قدر بنیادی سہولیات پیدا کی جا سکتی ہیں؟ 
