توجہ طلب۔!۔۔: گورنمٹ مڈل اسکول حالن سرکار کی نظروں سے اوجھل

ویری ناگ//جنوبی کشمیر کے کئی سرکاری اسکولوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ،اِن میں اساتذہ اورجگہ کی کمی کے علاوہ دیگر سہولیات کا فقدان بھی ہے ۔جس کی تازہ مثال ویری ناگ قصبہ سے 8کلومیٹر دور حالن نامی گاﺅں میں قائم گورنمنٹ مڈل اسکول کی ہے ۔1985میں قائم کئے گئے اس پرائمری اسکول کا درجہ2003میں بڑھایا گیا تاہم32سال گذر نے کے بعد بھی اسکول کی حالت نہیں بدلی ۔اسکول میں فی الوقت110طلاب نرسری سے لے کر آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکولی عمارت3کمروں پر مشتمل ہے اور ایک کمرے میں 2سے 3اساتذہ طلاب کو بیک وقت پڑھاتے ہیں ۔مقامی لوگوں کے مطابق اسکول کو ویری ناگ زون میں اول مقام حاصل کر نے کااعزار حاصل ہے ،جس کے نتیجے میںلوگوں نے نجی تعلیمی اداروں سے اپنے بچوں کو نکال کر اس اسکول میں داخلہ کر ایا تاہم اسکول میں جگہ کی تنگی کے سبب اُن کے بچوں کو سخت مشکلات درپیش ہیں ۔اسکول میں تعینات ایک اُستاد نے کہا ” ہم نے اس سال بچوں کا داخلہ جگہ کی تنگی کے سبب بند کر دیا ہے“ ۔اگر چہ موسم ٹھیک رہنے کی صورت میں پڑھائی کا عمل کھلے میدان میں انجام دیا جاتا ہے تاہم ناسازگار موسم کے دوران اُنہیں سخت مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔اس حوالے سے چیف ایجوکیشن آفیسر اننت ناگ غلام رسول شاہ کا کہنا ہے کہ زمین کی عدم دستیابی کے سبب نئی عمارت تعمیر نہیں ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الوقت زونل ایجوکیشن آفیسرویری ناگ کواسکول کیلئے مزید 3کمرے کرایہ پرلینے کی ہدایت دی جائے گی تاکہ درس وتدریس کا معل متاثر نہ ہو ۔