تنگ اور دشوار گزار سڑکوں پرگاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ

سرینگر //شہر کی تنگ اور دشوار گزار سڑکوں پرگاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ کے قبضہ کو چھڑانے میں محکمہ ٹریفک مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔شہر میں غیر قانونی کار پارکنگ سے جہاں ٹریفک جام ہو رہا ہے وہیں راہگیروں کو بھی چلنے پھرنے میں کافی دقتیں پیش آرہی ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر چہ محکمہ ٹریفک شہر میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے دعویٰ کر رہا ہے وہیں شہر کے بازاروں میں تنگ سڑکوں پرگاڑیاں کھڑا کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی ۔ لوگوں کے مطابق محکمہ نے گذشتہ سال بڑی ہی زور وشور کے ساتھ ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروئی شروع کی گئی تھی تاہم وقت گزرنے کے بعد یہ کارروائی بھی دھیمی پڑ گئی ۔؎لوگوں کے مطابق محکمہ نے پچھلے سال ایک مہم شروع کرتے ہوئے جہاں کہیں بھی غیر قانونی طور گاڑی ہوتی تھی وہاں پہنچ جاتے تھے اور گاڑی کا فوٹو اٹھا کراُس کا چالان اُس کے شیشے کے ساتھ چسپاںکر دیتے تھے جس کے بعد گاڑی عدالت مداخلت کے بعد ملتی تھی اوراس کارروائی سے کسی حد تک غیر قانونی کار پارکنگ پر روک لگ گئی تھی تاہم اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایسی کارروائیاں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہیں جبکہ شہر اب غیر قانونی کارپارکنگ کا اڈہ بن چکا ہے ۔ شہر کے ریذیڈنسی روڑ ،مولانا آزاد روڈ ، گھنٹہ گھر ، ڈلگیٹ ،ہری سنگ ہائی اسٹریٹ،لل دید ہسپتال ، کرنگر ، بٹہ مالو کے ساتھ ساتھ شہر کی تمام سڑکوں کے کنارے غیر قانونی کار پارکنگ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے ۔لوگوں نے محکمہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان گاڑیوں کے خلاف کارروائی کر کے سڑکوں کو آزاد کرایا جائے تاکہ شہر کو ٹریفک جام سے پاک رکھا جا سکے ۔محکمہ ٹریفک کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ محکمہ اپنی طرف سے پوری کارروائی عمل میں لاتا ہے اور ایسی گاڑیوں کے خلاف چالان بھی کئے جاتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ شہر میں پارکنگ کی کمی ہے اور مستقبل میں جب پریس کالونی کار پارکنگ کا کام مکمل ہو گا یہ پارکنگ بھی کم ہو جائے گی ۔