تنخواہ افسانچہ

رئیس احمد کمار

کتنی بار میں آپ سے کہہ چکا ہوں کہ تیس ہزار کی مہینے بھر کی تنخواہ میں مجھے کچھ بچت ہو ہی نہیں پاتی۔ دو بچوں کی اسکولی فیس، اسکول وردی، کتابیں کاپیاں اور قلم وغیرہ مجھے اسی تنخواہ سے خریدنے پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے ماں باپ کے لیے مہینے میں دو بار دوئیاں بھی بازار سے لانی پڑتی ہیں۔ اس کے باوجود بھی میں تمہیں ہر مہینے پانچ ہزار روپے نقدی دے دیتا ہوں۔ اس کے لیے تجھے میرا شکریہ ادا کرنا چاہیے نہ کہ مزید رقم کی فرمائش جو میں دے نہیں سکتا ہوں کیونکہ میری تنخواہ صرف تیس ہزار فی مہینہ ہے۔۔۔۔
غلام خان اپنی اہلیہ راجہ بیگم سے مخاطب ہو کر بات کررہا ہے جو اسے اپنی تنخواہ میں سے دس ہزار روپے دینے کی فرمائش کررہی تھی۔۔۔
غلام خان کی چار سالہ چھوٹی بیٹی ہادیہ دادے کے کمرے میں داخل ہوئی اور اس نے اسے آیس کریم خریدنے کے لیے بیس روپے مانگے۔ وہ اخبار پڑھنے میں مگن تھا اور اس نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔ لیکن جب ہادیہ نے بار بار پیسوں کی فرمائش دادے سے کی تو اس نے واپس جواباً کہا۔۔۔۔۔۔ جاؤ اپنے بابا سے پیسے مانگو جو ہر مہینے اسی ہزار کی تنخواہ لیتا ہے اور بڑی مشکل سے ماں باپ کے لیے ایک ہزار کی دوائی لے آتا ہے۔ راجہ بیگم یہ ساری باتیں باورچی خانے میں کھانا پکانے کے دوران بغور سن رہی تھی اور بے صبری سے شوہر کا انتظار کر رہی تھی۔۔
���
قاضی گنڈ کشمیر