تنخواہوں کا تقاضا مہنگا پڑا

اننت ناگ//اننت ناگ میں ایک نجی تعلیمی ادارے نے لیبر قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اساتذہ کی تنخواہیں پچھلے 9ماہ سے واگذار نہیں کی ہیں۔ونپوہ اننت ناگ میں سال 2012سے کام کررہے ایک نجی سکول نے ایک درجن اساتذہ کو سکول نے نکال دیا ہے جبکہ مذکورہ اساتذہ کو پچھلے سال کی جون سے تنخواہیں نہیں دی گئیں ہیں۔ سکول میں کام کرنے والے اساتذہ کے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’جولائی میں نامساعد حالات کی وجہ سے سکول بند ہوجانے کی وجہ سے دیگر سکولوں کی طرح ہی ہمارے سکول میں بھی تنخواہیں روکی گئیں تاہم اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی کہ تنخواہیں بچوں کی طرف سے فیس کی ادائیگی کے بعد واگذار کی جائیں گی‘‘۔ان اساتذہ نے بتایا ’’ سردیوں کے بعد جوں ہی سکول کھلے تو ہم ڈیوٹی دینے کی غرض سے سکول پہنچے تاہم سکول انتظامیہ نے ہمیں بتایا کہ وہ ہمیں ایک پیسہ بھی نہیں دیں گے اور اب سکول کو انکی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ اساتذہ نے بتایا کہ سکول نے طلبہ سے نہ صرف سکول فیس لی ہے بلکہ بچوں سے چھٹی کے بائوجود بس فیس اور دیگر رقومات حاصل کی گئیں۔ انہوں نے کہا ’’ سکول انتظامیہ نے نہ صرف ہمیں تنخواہیں دینے سے انکار کیا بلکہ ہماری بے عزتی کی گئی‘‘۔انہوں نے مزید کہا ’’ سکول انتظامیہ نے ہمارے ساتھ سخت لہجے میں بات کی اور ہمیں کبھی بھی سکول نہ آنے کو کہا جو نجی سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کی بے عزتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ تمام اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں مگر سکول انتظامیہ کو ہماری ڈگریوں کی کوئی قدر نہیں کیونکہ وہ ماہر تعلیم نہیں بلکہ تجارت پیشہ افراد ہیں۔ مذکورہ سکول کے اساتذہ نے محکمہ لیبر اور ناظم تعلیم سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔اساتذہ نے بتایا کہ محکمہ لیبر کو مذکورہ سکول کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہئے اور پرائیویٹ سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہئے۔ سکول کے پرنسپل ایم کے بھان نے اساتذہ کے بارے میں کہا ’’ مجھے خود بھی تنخواہ نہیں ملی ہے اور دوسرے اساتذہ کی کیسے بات کروں‘‘۔ سکول کے ایک منتظم پرویز احمد نے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے فون کاٹ دیا۔ چیف ایجوکیشن آفیسر اننت ناگ جی آر شاہ نے اس ضمن میں کہا ’’ میں معاملہ پتہ کرتاہوں‘‘۔