تنازعہ کشمیر پربات کئے بغیر مذاکرات بے معنی

 سرینگر//پاکستان کے وزیر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ کشمیر مسئلے کو میز پر رکھے بنا ہندوپاک مذاکرات بے معنی اور غیر حقیقت پسندانہ ہوںگے لہٰذا جب تک کشمیر بات چیت کے ایجنڈے میں نہیں ہوگا ہندوپاک مذاکرات نہیں ہوسکتے۔سی این آئی کے مطابق پاکستانی روزنامہ ڈان سے خصوصی گفتگو کے دوران پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہ پاکستان مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں اور نہ ہی مذاکرات کی بھیک مانگتے ہیں لیکن نیک نیتی کے ساتھ ہم نے بھارت کے سامنے مذاکرات کی پیشکش کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موجودہ صورتحال کے حوالے سے کافی فکر مند ہے اور عالمی برادری سے چاہتا ہے کہ وہ ا س صورتحال کا نوٹس لے تاکہ برصغیر کو بھاری تباہی سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کشیدگی ر وکنے کیلئے دونوں طرف سے حالات کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی اور یہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر مسئلے کے تین اہم فریق ہیں اور کشمیریوں کو پاکستان فریق اول کی حیثیت دے رہا ہے اور اس صورتحال میں بھارت کس طرح سے کشمیری قیادت کو سائڈ لائن کرسکتا ہے ۔انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ بھارت ہماری مذاکرات کی پیشکش کو کمزوری نہ سمجھے۔انہوں نے واضح کر دیا کہ تاخیر مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے بلکہ دونوں ممالک کو اس سلسلے میں پیش رفت اور پہل کرنا ہوگیا،انہوں نے صاف کردیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حالات کو بہتر بنانے کیلئے ہمیں مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں ۔ قریشی نے صاف کردیا کہ کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان کئی سالوں سے مذاکراتی عمل جاری ہیں اور اس سلسلے میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ازحد کوششیں کی ہیں لیکن اس کے باوجود بھی مسئلہ حل نہیں ہوا ۔لہٰذا بین الاقوامی برادری کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔