’’تمثیل نو‘‘ ادبی صحافت کا نقش

 ڈاکٹر امام اعظم ایک متحرک، فعال، سرگرم اور باصلاحیت ادیب، نقاد اور مصنف ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں اور ہر پہلو قابل توجہ ہے۔ ان ہی میں ایک پہلو اُن کا ادبی جریدہ’’تمثیل نو‘‘ کا بانی مدیر ہونا بھی ہے۔ ’’تمثیل نو‘‘ ملک بھر سے شائع ہونے والے اردو کے ادبی رسالوں کے درمیان اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ یہ ایک سنجیدہ علمی و ادبی رسالہ ہے جسے تمام حلقوں میں پذیرائی حاصل ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیرونِ ہند بھی اس کا ایک اچھا خاصا حلقہ ہے۔ ادبی حلقوں میں اس کو قبولیت کا جو شرف حاصل ہے وہ کم رسالوں کے نصیب میں آیا ہے۔ یہ 1987 میں پہلے ہندی میں ایک فولڈر کی شکل میں جاری ہوا تھا اس کے بعد2001 میں یہ اردو کے قالب میں ڈھل گیا اور اب بھی پابندیٔ وقت کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تمثیل نو‘‘ کو ایک بھرپور خراج تحسین ہے۔
کسی ایک ادبی رسالے پر ادیبوں، نقادوں، اساتذہ اور قارئین کی جانب سے اس کثرت سے اظہار خیال کرنا کہ ایسا محسوس ہو کہ جیسے آراء کی بارش ہو رہی ہے، بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ عام طور پر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اگر کسی رسالے پر کسی قلم کار نے ایک بار رائے ظاہر کر دی ہے تو وہ دوبارہ یہ زحمت نہیں اٹھاتا لیکن کئی قلم کار، ادیب اور صحافی ایسے ہیں جنھوں نے ’’تمثیل نو‘‘ پر ایک سے زائد مرتبہ اظہار خیال کیا ہے۔ یہ بھی اس رسالے کی مقبولیت کی ایک دلیل ہے۔ 
مذکورہ کتاب میں ’’تمثیل نو‘‘ پر تحریر کردہ مضامین، تبصروں اور رایوں کو مجتمع کر دیا گیا ہے ۔یہ کام آسان نہیں تھا لیکن باصلاحیت نوجوان قلم کار ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی نے اس مشکل کام کو بڑی خوبی سے انجام دیا ہے۔ اس میں کل 24 مضامین، 24 تبصرے، متعدد اعترافیے اور بارہ شعرا کے منظوم خراج تحسین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 131فحات پر مشتمل اس کا اشاریہ بھی ہے۔ جس طرح یہ کتاب انتہائی اہم اور قابل مطالعہ ہے اسی طرح اس کا مقدمہ بھی لائق قرأت ہے۔ ابرار احمد اجراوی نے 27صفحات پر مشتمل جو مقدمہ تحریر کیا ہے وہ اپنے آپ میں ایک کتابچہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں انھوں نے بہار کے مردم خیز اور علمی شہر دربھنگہ کی ادبی حیثیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کئی ادبی گوشوں پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ انھوں نے اس مضمون میں دربھنگہ کی ادبی تاریخ کو اختصار کے ساتھ سمو دیا ہے جو کم از کم ان قارئین کے لیے جو دربھنگہ کی ادبی خدمات سے لاعلم ہیں، بیش قیمت تحفہ ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ’’تمثیل نو‘‘ کی پیدائش اور اس کے ہندی سے اردو کے قالب میں ڈھلنے سے لے کر اس کے اب تک کے سفر اور اس کے ارتقائی مراحل کو بھی روشنی میں لانے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ ’’تمثیل نو‘‘ پر لوگوں نے بہت زیادہ تبصرے بھی تحریر کیے ہیں جو ملک کے مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے ہیں، اس لیے انھوں نے تبصرہ نگاری کے فن پر بھی گفتگو کی ہے اور اردو کے مستند تبصرہ نگاروں کی تحریروں کی روشنی میں مضمون، تبصرہ اور تاثر میں فرق کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتابوں پر اخبارات و رسائل میں تبصروں کی اشاعت کی ایک طویل تاریخ ہے۔ بہت سے ادیبوں کے تبصراتی مضامین کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ اس وقت بھی تبصرہ نگاری کا سلسلہ برق رفتاری سے جاری ہے۔ تبصرہ نگاروں کی بھیڑ میں نئے تبصرہ نگاروں کی بھی خاصی تعداد ہے۔ اس لحاظ سے اس مضمون میں تبصرہ نگاری کے فن اور رویے پر روشنی ڈالنا اپنے آپ میں اہمیت کا حامل ہے۔
ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی نے کتاب کے مشمولات پر بھی گفتگو کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ کس طرح بعض قلم کاروں نے زائد از ایک شماروں پر مضامین یا تبصرے لکھے اور ان سب کو کیوں شائع کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ان مضامین اور تبصروں میں تنوع ہے اور ان میں الگ الگ گوشوں کو اجاگر کیا گیا ہے اس لیے ان کے انتخاب کے بجائے ان تمام کو شامل کتاب کر دیا گیا۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ تبصروں میں سنجیدہ تنقیدی پہلو کے بجائے ستائشی پہلو کا رنگ زیادہ شوخ ہوتا ہے۔ ’’تمثیل نو‘‘ پر ہونے والے تبصروں پر بھی اس بات کا اطلاق ہوتا ہے۔ اس کا اظہار مرتب نے یوں کیا ہے:
’’کئی تبصرے صرف مداحی اور ستائش کی نذر ہو گئے ہیں کہ یہ بھی خاص قسم کے تبصروں کا مزاج اور شناخت ہے۔ مگر بہت سے تبصروں نے تنقیدی رخ اپناتے ہوئے شمارے میں شامل مضمون اور مشمولات کے کمزور پہلو کی نشاندہی بھی کی ہے۔ اور ہم نے ایمانداری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ان تبصروں میں کوئی کاٹ چھانٹ بھی نہیں کی ہے کہ کڑوا کڑوا تھو تھو اور میٹھا میٹھا ہپ کا مصداق بن جائے۔‘‘ ابرار احمد کا قلم نئے پی ایچ۔ ڈی۔ ہولڈروں کے برعکس لسانی اغلاط اور جملوں کی تکرار سے پاک ہے۔ انھوں نے الفاظ اور جملوں کی بھونڈی بازی گری سے بھی خود کو محفوظ رکھا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ 
ڈاکٹر قاسم فریدی ، صدر شعبۂ اردو ،سچیدا نند سنہا کالج ، اورنگ آباد کا مضمون ’’تمثیل نو: ایک مطالعہ‘‘ بھی بڑا گراں قدر ہے۔ انھوں نے 21شماروں کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کا یہ طویل مضمون 80صفحات پر مشتمل ہے جو 19 مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ بھی بجائے خود ایک کتابچہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کے تعلق سے امام اعظم کے جوش و خروش کی ستائش کی ہے اور انھیں ادبی صحافت کی نئی شیرازہ بندی اور معیار سازی میں نمایاں کردار ادا کرنے والا ادیب و نقاد قرار دیا ہے۔ اس مضمون کے مطالعے سے نہ صرف ’’تمثیل نو ‘‘کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں بلکہ عہد حاضر کے بہت سے ادیبوں، نقادوں اور شعرا کی صلاحیتوں، ان کی خدمات، ان کے طرز فکر اور ان کے کارناموں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ ڈاکٹر قاسم فریدی نے قلم کاروں کی تخلیقات کا بڑی دیانت داری سے جائزہ لیا ہے اور اگر انھیں کہیں کوئی خامی نظر آئی ہے تو اس کی گرفت بھی کی ہے۔ مثال کے طور پر اپریل تا دسمبر 2005کے شماروں پر اظہار خیال کے دوران انھوں نے اندر سنگھ ورما کی خاصی خبر لی ہے جو ضروری بھی تھی کیونکہ انھوں نے فن کو مذہب کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے جن غیر مہذب بلکہ فحش جملوں کا استعمال کیا ہے، جن کو مثال کے طور پیش کیا گیا ہے، اس کی مذمت ضروری تھی۔ 
ڈاکٹر سرور کریم، صدر شعبۂ اردو ،آر این اے کالج ، سمستی پور کا مضمون ’’تمثیل نو : ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ بھی لائق مطالعہ ہے۔34صفحات پر مشتمل اس مضمون میں امام اعظم کی ادارتی خوبیوں کے جائزے کے ساتھ ساتھ مضامین، شعری تخلیقات اور دیگر مشمولات پر بھی بھرپور نظر ڈالی گئی ہے۔ انھوں نے سنجیدہ علمی و فکری مضامین کو رسالے میں ترجیح دینے پر امام اعظم کو مبارکباد پیش کی ہے اور اسے ان کی ادارتی سلیقہ مندی قرار دیا ہے۔ انھوں نے بھی تمثیل نو کے ارتقائی مدارج کی نشاندہی کی ہے اور لکھا ہے کہ ’’2005 سے ’’تمثیل نو‘‘ کے تیور میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی اور یہ رسالہ کسی نہ کسی اہم موضوع پر محیط ہونے لگا۔ ‘‘ انھوں نے زائد از ایک مقامات پر امام اعظم کی ادارتی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’تمثیل نو کی ادارت امام اعظم کی شناخت کا ایک اہم حوالہ ہے۔ اپنے اس مقبول ترین جریدے کے توسط سے انھوں نے اردو کے عالمی منظرنامے پر بحیثیت صحافی اپنی ایک مستحکم پہچان قائم کی ہے۔‘‘ انھوں نے رسالے کے تسلسل اشاعت کی بھی ستائش کی ہے اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ موجودہ دور میں اگر کوئی شخص اردو کا کوئی رسالہ اس طرح پابندی سے شائع کر رہا ہے تو اس کا اعتراف بھی ضروری ہے اور حوصلہ افزائی بھی۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مضمون نگاروں میں سینئر ادبا و قلم کار بھی شامل ہیں اور نوآموز حضرات بھی۔ صحافیوں نے بھی اس رسالے پر خاصی توجہ دی ہے۔ یعنی ’’تمثیل نو‘‘ ہر طبقے میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ کئی مضمون نگار ایسے ہیں جنھوں نے کئی کئی شماروں کا جائزہ لیا ہے۔ مثال کے طور پر پروفیسر قاسم فریدی نے 21، مناظر عاشق ہرگانوی نے9، پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے3، حقانی القاسمی نے5، ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے 5 اور پروفیسر مجید بیدار اور انوار الحسن وسطوی نے دو دوشماروں کا جائزہ لیا ہے۔ دوسروں نے مجموعی طور پر نظر ڈالی ہے۔ دیگر مضمون نگاروں میں پروفیسر وہاب قیصر، ڈاکٹر ریحان غنی، پروفیسر ثوبان فاروقی او رسلمان عبد الصمد بھی شامل ہیں۔ نوجوان قلمکاروں میں سلمان عبد الصمد تیزی سے ابھرنے والا نام ہے۔ 
کتاب میں تبصرے بھی خاصی تعداد میں شامل ہیں۔ اس گوشے میں جو اہم نام ہیں ان میں خلیق انجم، ظہیر غازی پوری، اقبال انصاری ، ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز، محمد عمیر الصدیق ندوی، ڈاکٹر اسلم جمشید پوری، حماد انجم، محمد عارف اقبال، ڈاکٹر جمیل اختر ، احمد جاوید اور عبد القادر شمس کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ اس کے ایک گوشے کا نام ’’اعترافیہ‘‘ ہے۔ یعنی وہ چھوٹی تحریریں جو’’ تمثیل نو‘‘ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ہیں۔ ان میں بھی کئی اہم نام ہیں۔ سب سے بڑا نام روزنامہ ’’آگ‘‘ لکھنؤ کے مدیر اور بزرگ صحافی احمد ابراہیم علوی کا ہے جنھوں نے سات اعترافیے لکھے اور سب روزنامہ آگ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے تبصروں کو بھی اس میں جگہ دی گئی ہے۔  
اس رسالے کو ایک بڑی اہم پذیرائی غیر اردو حلقے سے حاصل ہوئی ہے۔ انگریزی کے بین الاقوامی شہرت کے حامل صحافی اور کالم نگار آنجہانی خوشونت سنگھ نے تمثیل نو کے اکتوبر تا دسمبر 2003  کے شماروں پر اپنے کالم میں اظہار خیال کیا ہے۔ یہ کالم ٹیلی گراف کولکاتا، ٹریبیون جالندھر اور دکن ہیرالڈ بنگلور میں شائع ہوا۔ اس کالم میں انھوں نے مضامین، مختصر کہانیو ںاور نظموں کی تعریف کی ہے اور شاہد کلیم (آرا) کی ایک نظم ’’یہ تصویر نہیں جنگل کی‘‘ کو اپنے کالم میں جگہ دی ہے۔ اس رسالے کا خشونت سنگھ کی نظر میں آنا اور ان کا اپنے کالم میں اس کا ذکر کرنا ایک بڑی بات ہے۔
مجموعی طور پر یہ کتاب ماہنامہ ’’تمثیل نو‘‘ کے تعلق سے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی روشنی میں جہاں بہت سے ادبی رویوں اور رجحانات سے واقفیت ہوتی ہے وہیں اردو ادب میں گروہ بندیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس کی ترتیب کے لیے ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی قابل مبارکباد ہیں۔ امام اعظم نے ان سے یہ کام لے کر اہل ذوق کی خدمت میں ایک قابل قدر تحفہ پیش کیا ہے۔ اس کے لیے امام اعظم اور ابرار احمد دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں۔
رابطہ : ( موبائل:  9818195929/
 ای-میل:  [email protected])
������