تلیل گریز مواصلاتی خدمات سے ہنوز بے بہرہ

سرینگر //موجودہ دور میں مواصلاتی سہولیات کی عدم دستیابی ، بجلی کی نایابی اور سڑکوں کی خستہ حالی کے نتیجے میں تلیل گریز کے مکین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مقامی آبادی نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کو بنیادی سہولیات فرہم کی جائیں ۔تلیل گریز کے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ علاقے میں جہاں موصلاتی نظام کا فقدان ہے، وہیں سڑکیں خستہ حال، پانی اور بجلی سپلائی متاثر ہے جبکہ اسکولوں اور دیگر سرکاری اداروں میں عملے کی کمی کی وجہ سے آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔کشمیر عظمیٰ کے آفس پر آکر منظور احمد لون ساکن منگام تلیل نامی نوجوان نے بتایا کہ پوری وادی میں اگرچہ لوگوں کو مواصلاتی سہولیات فراہم کی گئیں ہیں وہیں گریز اور تلیل کی آبادی آج کے اس جدید دور میں بھی اس سہولت سے محروم ہے ۔انہوں نے کہا کہ گریز کے زیادہ تر طلاب وادی کے کالجوں میںزیر تعلیم ہیں لیکن انہیں اپنے گھر والوں سے کئی کئی ماہ تک رابطہ نہیں ہو تا ۔انہوں نے کہا کہ گریز میں ایسا کوئی گھر نہیں ہے جہاں کے لوگوں کے پاس موبائل فون نہ ہوں لیکن یہ فون موبائل سروس کی عدم دستیابی کے نتیجے میں بیکار پڑے ہیں ۔گریز کے ہی غلام احمد لون نامی ایک نوجوان نے کہا کہ موبائل سہولیات کے حوالے سے انہوں نے کئی مرتبہ احتجاج بھی کیا اور یہ معاملہ انتظامیہ کی نوٹس میں بھی لایا تاہم ابھی تک تلیل میں لوگوں کو یہ سہولیات فراہم نہیں کی گئیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ موبائل سروس تو دور کی بات علاقے کی خستہ حال سڑکوں کو بھی بیکن محکمہ مرمت کرنے میں ناکام ہے ۔انہوں نے کہا کہ برنائی سے چھکوائی تک سڑک پر گہرے کھڈے ہیں۔ کئی بار لوگوں نے بیکن حکام سے مطالبہ کیا کہ سڑک کی مرمت کر کے اُسے لوگوں کی آمد ورفت کے قابل بنایا جائے لیکن بار بار کی یقین دہانیوں کے بھی علاقے میں سڑکوں پر تارکول نہیں بچھایا گیا ہے جس سے آبادی کافی دقتوں کا سامنا کر رہی ہے ۔وفد نے مزید کہا کہ علاقے میں بجلی 24گھنٹوں میں صرف 4گھنٹے آتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بجلی کئی کئی دنوں تک گل رہتی ہے اور محکمہ پی ڈی ڈی کے اہلکار بجلی جرنیٹروں میں تیل کی عدم موجودگی کا بہانہ بنا کر لوگوں کو اندھیرے کو سونپ دیتے ہیں ۔تلیل کے وفد نے مزید بتایا کہ علاقے میں ہسپتال ہے لیکن اُس میں صرف دو ڈاکٹر ہی موجود ہیںجبکہ ماہر ڈاکٹر وہاں موجود نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقہ ہونے کے پیش نظر یہاں پر ماہر امراض خواتین کے علاوہ سرجن ، اور فزیشن ڈاکٹر ہونا لازمی تھا لیکن محکمہ ہیلتھ اس جانب بھی کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں پانی کی سپلائی بھی کئی کئی دنوں تک بند رہتی ہے کیونکہ حسن گام ، بوگلندر ، اور منگام میں پانی کی پائپیں جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی ہیں جس سے پانی ضائع ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عرصہ دراز سے علاقے میں پانی کی پائپوں کو بھی تبدیل نہیں کیا گیا ہے ۔انہوں نے ریاستی گورنر این این ووہرا سے اپیل کی ہے کہ وہ اُن کے مسائل حل کرانے میں ذاتی مداخلت کریں تاکہ اُس علاقے کے لوگوں کے جائز مطالبات حل ہو سکیں ۔