تقدیر سازی کا خونچکاں سفر

۔2017ء اختتام کو پذیرہوچکا ہے اوردنیا نئے سال کا استقبال کررہی ہے ۔بچے خوش ہیں کہ ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوا ہے۔ نوجوان نئے خواب سجارہے ہیں اورنئے منصوبے ترتیب دے رہے ہیں اور بزرگ اپنے ادھورے کاموںکی تکمیل کا عزم کررہے ہیں ۔دنیا بھر میں نئے سال کے آغاز کا جشن بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے اور اس جشن میں وہ نسل پیش پیش ہوتی ہے جسے آنے والے دنوں کی ذمہ داریاں سنبھالنی ہوتی ہیں ۔لیکن جس وقت دنیا نئے سال کا جشن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور اٹھتی ہوئی جوانیوں کے ٹمٹماتے رخسار نئے جوش ،نئے ولولوںاور والہانہ جذبوں کے ساتھ سالِ نو کے جشن میں شریک ہونے کو بے تاب ہیں ہماری سرزمین پر ہمارے بچے ساری مسرتوں سے لاتعلق کہیں فورسز پر سنگباری کررہے ہیں ، کہیں معرکہ آرائیوں میں مصروف میں ، کہیں باردد سے اڑائے گئے مکانوں کے ملبے میں ان کی لاشیں تلاش کی جارہی ہیں اور کہیں مظاہروں کے دوران پیلٹ اور بُلیٹ ان کے جسموں کو چھلنی کررہے ہیں ۔سال کے آخری ہفتے میں شوپیان میں دو جنگجووں کی لاشیں ملبے سے نکالی گئیں ۔ ایک تیس سالہ لڑکی مظاہروں کے دوران گولی لگنے سے دم توڑ چکی ہے اور ابھی ہندوارہ کے اس ڈرائیور کی موت کے زخم بھی ہرے نہیں ہوئے ہیں جسے جرم بے گناہی میں موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔
ہمارے بچوں کی یہ تقدیر کس نے لکھ دی ہے اورکیوں لکھ دی ہے ۔ پولیس ،فوج اور سی آر پی ایف جنگجو نوجوانوں کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں اور عام نوجوان جنگجوؤں کی ڈال بن کر انہیں فرار کا موقع فراہم کرنے کیلئے خود کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔جنگجو پولیس کے اہلکاروں کو ڈھونڈ رہے ہیں اور مخبروں کو تلاش کررہے ہیں اور مخبر عسکریت پسندوں کی ٹوہ میں ہیں ۔یہ سب جو ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنے کیلئے تلاش کررہے ہیںاس قوم کا مستقبل ہیں۔ ان کو ملا کر ہی وہ قوم بنتی ہے جس کا نام کشمیر ی قوم ہے ۔ قوم ہی ایک نہیں بلکہ تہذیب بھی ایک ہے ، زبان بھی ایک ہے اور مذہب بھی ایک ہے ۔ پھر ہم میں کون سا اختلاف ہے جو ہمیں مرنے اور مارنے کا ایک ہی مقصد دے گیا ہے ۔ 
نہ ہمیں وقت کے گزر جانے کا کوئی احساس ہے اور نہ زمانوں کے بدلنے کا کوئی ہوش ہے ۔ ہم نہ سال کے گزرنے پر اپنے نفع اورنقصان کا حساب کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اورنہ ہمارے دلوں میںنئے سال کے نئے عزائم اُبھرتے ہیں ۔کیا ہمارے دانشور ، ہمارے رہبر اور ہمارے رہنما بھی اس بات کو محسوس نہیں کرسکتے ۔ ہماری ساری سیاسی ، سماجی اور مذہبی تنظیموں کا مخاطب ہمارا نوجوان ہی ہے ۔ سارے رہبروں اور رہنماؤں کو ہماری نئی نسل کے مستقبل کی ہی فکر لاحق ہے اور سب کے سب اس نسل کی تقدیر سنوارنے کیلئے ہی جدوجہد کے دعوے دار ہیںاور ہماری نئی نسل اپنے مستقبل کو ساتھ لیکر اپنی ہی زمین کی گہرائیوں میں دفن ہورہی ہے اور ہمارے رہنما بھارت یا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا کر رہنمائی کا ’’حق ‘‘ادا کررہے ہیں ۔ فوج اور پولیس کے ہاتھوں شہری لقمہ اجل بن جاتے ہیں تو مزاحمتی قیادت ہڑتال کی اپیل کرکے معمول کی ساری سرگرمیاں معطل کردیتی ہے اور حکومت پابندیاں عاید کرکے آبادیوں پر سناٹا طاری کردیتی ہے ۔جب پولیس کے نوجوان اہلکار یاافسر مارے جاتے ہیں تو حکومت سوگ مناتی ہے اور نوجوانوں کا مستقبل محفوظ کرنے کیلئے جنگجوؤں کے خاتمہ کا عزم دہراتی ہے ۔
 گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری اس کھیل میں ساری سیاسی قوتوں ، تمام فیصلہ ساز وں، تمام قائدین اور رہبر و رہنما وں نے اسے مقدس جدوجہد کا نام دیا ہے اور اس کا مقصد نئی نسل کا تاریک مستقبل روشن کرنا قرار دیا ہے ۔مزاحمتی قیادت ، مذہبی تنظیمیں اور علیحدگی پسند ہر عسکریت پسند کے جاں بحق ہونے پر فخر کرتے ہیں اور یہ جملہ ضرور کہتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ۔اس کے ساتھ ہی وہ اس بات کی بھی تلقین کرتے ہیں کہ اگر قربانیوں کا سلسلہ رُک گیا تو اب تک کی ساری قربانیاں رائیگاں ہوجائیں گی اس لئے قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھنا ہوگا بلکہ اسے اور زیادہ تیز کرنا ہوگا ۔ہندنواز خیمے کے تمام لیڈراور تنظیمیں بھی نوجوان کو ہی اپنی سیاست کا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ وہ مستقبل کو سنوارنے اور روشن کرنے کیلئے ہی جدوجہد میں مصروف ہے ۔
پی ڈی پی کی صدر اور وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سیاست کا فوکس بھی نوجوان ہی ہے ۔ وہ نوجوانوں کو عسکریت اور مزاحمت کے میدان سے واپس لانے کیلئے پولیس اور فوج کے کردار پر فخر کرتی ہیں ۔ان کے خیال میں نوجوان گمراہ ہوگئے ہیں یا کردئیے گئے ہیں اور جو اس گمراہی سے باز آنے پر تیار ہوں گے ان کی جانیں بخشی جائیں گی اورجو باز آنے پر تیار نہیں ہوں گے ان کی جانیں کسی بھی حال میں بخشی نہیں جائیں گی چاہے ان کے ہاتھوں میں بندوق ہو یا پتھر ۔آج چونکہ محبوبہ مفتی کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ ڈور ہے اس لئے نیشنل کانفرنس کہتی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے منصوبوں کی تکمیل کیلئے نوجوانوں کا بے دریغ خون بہا رہی ہے ۔اس قتل عام کیخلا ف جدوجہد ضروری ہے تاکہ نوجوانوں کا مستقبل تابناک بن جائے ۔علیحدگی پسندوں کا خیال ہے کہ جب تک کشمیر کامسئلہ موجود ہے تب تک نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہی رہے گا۔اس لئے نوجوانوں کو جدوجہد اور قربانیوں کے علاوہ کچھ نہیں سوچنا چاہئے ۔ حکومت ہند کا بھی یہ خیال ہے کہ کشمیر میں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگایا گیا ہے اور نوجوانوں کی تقدیر سنوارنے کیلئے امن قائم کرنا ضروری ہے اور امن قائم کرنے کیلئے فوج کو کھلی ڈھیل دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں ۔
اس طرح نئی نسل کی تقذیر سنوارنے کیلئے نئی نسل کا خاتمہ کیا جارہا ہے ۔اس نسل کی سوچ مرنے اور مارنے کی حدوں میں قید کردی گئی ہے اوراس کی منزل موت مقرر کردی گئی ہے ۔اس پر بات کرنے کی کسی کو اجازت نہیں کہ کیا مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے کشمیریوں کا مرنا ہی ضروری ہے ۔کیا مسئلہ کشمیر کی کنجی کشمیر کے نوجوان کی رگِ جاں میں ہی پوشیدہ ہے حالانکہ نہ کشمیر کے نوجوان سے پوچھ کر پاکستان سے قبائلی کشمیر میں وارد ہوئے نہ بھارت کی فوجیں کشمیریوں سے پوچھ کر ان کے وطن میں داخل ہوئیں اور نہ کشمیری نوجوان اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر لیکر گیا۔پھر مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے کشمیری کا خون کیوں مانگا جارہا ہے۔کیا بھارت کشمیری نوجوان کو پیلٹ اور بلٹ سے زیر کرکے امن قائم کرسکتا ہے ۔ کیا محبوبہ مفتی کشمیر ی نوجوانوں کی لاشوں پر مستقبل کی عمارت تعمیر کرسکتی ہے ۔کیا فاروق عبداللہ کشمیریوں کے خون سے خوشحالی کے گل کھلا سکتا ہے ؟
کسی رہنما اور رہبر کے پاس ان سوالو ں کا کوئی جواب نہیں ہے اور ہماری اس نسل کے پاس بھی ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں جو اپنے بچوں کی لاشیں کاندھوں پر اٹھا کر انہیں زمین میں دفن کرکے لوٹ آتی ہے ۔اُن دانشوروں کے پاس بھی ان سوالوں کے جواب نہیں جو جنگجو کی موت کوآب ذرسے لکھی جانے والی قربانی قرار دیکر نئی قر بانی کاحوصلہ پیدا کرنے کی کوششں عظیم فریضہ سمجھ کرکرتے ہیں اور کشمیر کے اس پولیس اہلکارجو اپنے بچوں کی پرورش کیلئے نوکری کرتا ہے کی موت پر اظہار تشکر کرتے ہیں کہ ایک تحریک مخالف کی موت ہوگئی ۔اس مخبر کی گردن زنی پر بھی اظہار مسرت ہوتا ہے جس نے کشمیر ی ماں کی ہی کوکھ سے جنم لیا ہے اور اس بے گناہ کی موت کو بھی قربانیوں کی فہرست میں شامل کیا جاتا ہے جو نہ مظاہرے میں شامل ہوتا ہے اور نہ کسی معرکے میں بس گھر سے کسی کام کے لئے نکلا ہوتا ہے اور جرم بے گناہی میں زندگی سے محروم کردیا جاتا ہے ۔
بھارت کے فوجی، نیم فوجی دستے اورایس او جی افسپا کی لائسنس لیکر بلا وجہ بھی نوجوانوں کا خاتمہ کرتے ہیں اور تحقیقات کے نام پر ایک مذاق کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ہے ۔ہمیں سوچنا پڑے گا کہ یہ سلسلہ کب تلک جاری رہ سکتا ہے اور اس کے جاری رہنے کا انجام کیا ہوسکتا ہے ۔تمام وفاداریوں ، تمام بندھے ٹکے عقائد اور تمام خودغرضیوں سے باہر نکل کر جب ہم سوچیں گے کہ ہمارے ساتھ یہ سب کیا ہورہا ہے تو ہمیں اس بات کا احساس ہوگا کہ اس گرداب سے آبرومندی کے ساتھ نکلنے کے لئے ہمیں آج نہیں تو کل کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ہماری سوچیں اپنی جگہ صحیح ہوسکتی ہیں ،ہمارے عقائد بھی صحیح ہوسکتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک کے ارادے بھی نیک ہوسکتے ہیں لیکن اب حالات کی پیچیدگیوں نے ہمیں اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں جوں کی توںصورتحال ہم سے ایسی قیمت مانگے گی جسے ادا کرنے کی ہم میں کوئی طاقت نہیں ہوگی ۔
تقدیر کو سنوارنے کی دُھن میں ہم اتنا دُور نہیں نکل سکتے کہ جہاں تقدیر ہی بدترین انجام سے دوچار ہو  ۔ہمارا نوجوان ہی ہماری تقدیر ہے ۔
 ہمارے کل کا معمار وہی ہے ۔جب وہ نہیں رہے گا تو ہمارا مستقبل کہاں باقی رہے گا ۔اس کی موت ہماری زندگی نہیں بن سکتی کیونکہ ہماری زندگیوں کا سورج ڈوبنے ہی والا ہے ۔یہ سال جو ہم سے رخصت ہورہا ہے ہم سے تقاضا کررہا ہے کہ ہم اپنے نفع اور نقصان کا حساب کریں ۔ اپنا احتساب کریںاور نیک نیتی کے ساتھ نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرکے نئے سال کیلئے کامیابیوں اور کامرانیوں کا کوئی ہدف مقرر کریں ۔کیا امتحان کی اس گھڑی میں ہمارے مزاحمتی قایدین اور ہندنوازسیاسی لیڈران مل کر ایک ایسی سوچ کو جنم نہیں دے سکتے جو قوم کی متحدہ سوچ قرار پائے اورجو تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو ۔
   بشکریہ  ہفت   روزہ ’’ نوائے جہلم‘‘سرینگر
