تعمیراتی کمپنی کے اہلکاروں کی طرف سے گاڑی کے شیشے توڑنے کا الزام

  بانہال//پیر کے روز جموں سرینگر شاہراہ پر ایک 28 سالہ نوجوان نے الزام لگایا کہ اس کی کار اور اس میں سوار اس کے اہل خانہ پر رام بن بانہال سیکٹر میں فورلین شاہراہ کی تعمیراتی کمپنی کے اہلکاروں نے حملہ کیا ، گالی گلوج اور جان سے مارنے کی دھمکی دی اور گاڑی کے شیشے پتھرا اور لوہے کے راڈوں سے توڑ دیئے گئے ۔ اس سلسلے میں کار سوار کی تحریری شکایت پر رامسو پولیس تھانہ میں کمپنی کے خلاف ایک کیس درج کیا گیا ہے اور کمپنی نے بھی درخواست دہندہ کے خلاف مبینہ طور حملہ کرنے کا جوابی کیس درج کیا ہے۔28سالہ نوجوان عاصم لیاقت ڈار ساکنہ کراوہ بانہال نے رامسو پولیس کو تحریری درخواست دی ہے اور کشمیر عظمی سے کی گئی بات چیت میں کہا ہے کہ وہ پیر کے روز اپنی کار نمبر JK-02BB/ 1010 میں اپنی والدہ ، اپنے چاچا چاچی کے ہمراہ جموں سے بانہال کی طرف آرہے تھے کہ ڈگڈول کے مقام شاہراہ پر ایک سفید بلیرو گاڑی راستہ روکے کھڑا تھی اور راستہ دینے کیلئے ہارن بجانے پر گاڑی سے چند افراد نیچے اتر آئے اور انہوں نے ہمیں گالی دینا شروع کیں اور گاڑی پر لوہے کے سریا اور پتھروں سے حملہ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہارن بجانے کا ردعمل یہ تھا کہ بلیرو ڈرائیور نے راستہ دینے کے بجائے اپنی گاڑی کو سڑک کے بیچ میں روک لیا اور ڈرائیور سمیت بلیرو گاڑی میں سوار تمام افراد باہر آئے اور مجھے گالیاں دینے لگے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ انہوں نے پتھرا کیا اور ہم وہاں سے نکل بھاگے۔ نیشنل ہائی وے پروجیکٹ میں کام کرنے کی وجہ سے تعمیراتی کمپنی کے اہلکاروں نے ان کے ایک انجینئر کی ایما پر پنتھیال اور رامسو میں بھی راستہ روکا اور پتھرا کروایا اور میری ماں اور چچا اور چاچی کے سامنے گالیاں اور دھمکیاں دیں اور گاڑی کے شیشے توڑ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی طرح پولیس سٹیشن رامسو پہنچے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمپنی کے ان عناصر نے وہیں بس نہیں کی بلکہ پولیس تھانہ رامسو آکر پولیس کی موجودگی میں گالیاں دینے لگے اور تھانے سے باہر آنے پر مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اس غنڈہ گردی میں ایک ڈرائیور اور کمپنی کا ایک سائیٹ ا نجینئر آشیش چودھری پیش پیش تھے اور ان پر ایسے واقعات کے تحت مبینہ طور کئی مقدمات پہلے ہی درج ہیں ۔ اس تحریری درخواست پر پولیس سٹیشن رامسو نے کاروائی کرتے ہوئے ایک کیس ایف آئی آر67/2021زیر دفعات انڈین پینل کوڈ 341/147/427/504/506 درج کرکے اس معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔اس دوران کمپنی کے ایک ورکر برندر ولد کمیت لعل ساکنہ رائے پور ستواری جموں نے رامسو پولیس کو دی ایک تحریری درخواست میں کہا ہے کہ وہ نیشنل ہائے وے اتھارٹی آف انڈیا کی طرف سے فورلین شاہراہ کے پروجیکٹ پر کام رہے ہیں کہ اس دوران نمبر JK02BB/ 1010کے ڈرائیور نے پنتھیال کے مقام فورلین شاہراہ کی تعمیراتی کمپنی کے اہلکاروں کو گاڑی سے ٹکر ماری جس کی وجہ سے گاڑی اور سڑک کو نقصان پہنچا اور مان سنگھ نامی کمپنی کا ایک انجینیئر شدید زخمی ہوگیا جسے ہسپتال لیجانا پڑا ہے۔ انہوں نے پولیس کو دی گئی اپنی تحریر میں کہا ہے کہ غفلت اور لاپرواہی کے علاہ کار سوار نے انہیں گالیاں اور دھمکیاں دیں اور مارنے کا ارادہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ کار سوار کو روکنے کی کوشش وہاں فورسز اہلکاروں نے بھی کی اور وہ فرار ہوگیا اور اس کا پیچھا بھی کیا گیا۔سی پی پی پی ایل کمپنی کے اہلکار کی اس درخواست پر پولیس سٹیشن رامسو میں جوابی کیس ایف آئی آر نمبر / 68/2021زیر دفعہ 279 / 377انڈین پینل کوڈ پولیس تھانہ میں درج کی گیا یے اور مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔