تعلیم کے حصول یا سیر و تفریح پر پاکستان گئے 57نوجوان

راجوری//پولیس کے ڈائر یکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ سال 2017-18  کے دوران 57 نوجوان پاکستان میں یا تعلیم حاصل کرنے یا سیاحت کی غرض سے گئے جن میں متعدد نے ہتھیاروں کی تربیت حاصل کی اور ابھی بھی بہت سارے سرگرم ہیں۔ راجوری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے بتایا کہ 2017-18 میں57نوجوان جائز دستاویزات لے کر تعلیم حاصل کرنے یا ٹورسٹ ویزا پرپاکستان گئے تھے ان میں بہت سارے کسی نہ کسی جنگجویانہ کارروائی میں جھٹ گئے ہیں ۔ڈی جی پی نے بتایا کہ لائن آف کنٹرول سے واپس آئے 17 نوجوان مختلف تصادم آرائیوں میں مارے گئے ہیں ،یہ وہ افراد تھے جو پاسپورٹ پر گئے تھے مگر بندووق لے کر واپس آئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ13لوگ ابھی بھی سرگر م ہیںجو پاسپورٹ پرگئے تھے اور جنگجویانہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیںجبکہ17لوگ ابھی  پاکستان سے لوٹے نہیں ہیں۔دلباغ سنگھ نے بتایا سٹوڈنٹ ویزا پر اسی لئے حال ہی میں سختی کی گئی ہے تاکہ اس طرح کی کارروائیوں کو روکا جا سکے ۔انہوں نے کہاپاکستان میں قلم سے زیادہ بندوق کو اہمیت دی جاتی ہے ۔دلباغ سنگھ نے بتایا پاکستان کسی نہ کسی طرح سازشیں کر رہا ہے اور ہر ایک کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا ۔انہوں نے بتایا چار افراد کا گروپ در اندازی کر کے مژھل سیکٹر سے در اندازی کر کے آیا تھا لیکن چاروں کو ایک تصادم میںشمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں23/24جولائی کے درمیانی رات کے دوران مارا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھی250سے300جنگجویہاں لاچنگ پیڈوںپر در اندازی کرنے کے تاک میں بیٹھے ہیں ۔ڈی جی پی نے بتایا سیز فائر سے کوئی نقصان نہیں ہوا اور سب لوگ اس قدم سے خوش تھے تاہم پاکستان کی جانب سے پھر ایک بار در اندازی کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور کئی جنگجوئوں گروپوں کو اس پار دھکیل دیا گیا ہے ۔ایک سوال کے جواب انہوں نے بتایا تھنہ منڈی میں گزشتہ دنوں ہوئے انکوانٹر میں مارے گئے دو میں سے ایک کا شوپیان کے ایک کنبے نے ان کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد ڈی این اے نمونے حاصل کئے گئے ہیں جبکہ دوسرے جنگجوئوں کے بارے میں کسی نے کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پاکستانی ہوسکتا ہے ۔