تعلیم سے اخلاق اعلیٰ ہوں ہمارے!

تعلیم انسانیت کی اعلیٰ صفات سے روشناس کرتی ہے ۔ یہ ذہن کی جہالت دور کرتی ہے ،بند پڑے دلوں کو نورِ حق سے کھول دیتی ہے ۔ تعلیم سے منور سماج ترقی کے اعلیٰ منازل طے کرتے ہوئے چلا جاتا ہے ۔ تعلیم کوئی سوداگری نہیں، جس سے ایک بڑی خوبصورت ڈیزائن کردہ سرٹیفکیٹ پر چند پیسوں کے عوض دستخط کر کے بیچ دیا جائے بلکہ یہ بنجر زمین کو آباد کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے ۔ حقیقی معبود کی پہچان دلانے میں راہ فراہم کرتی ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ جتنی لوٹ کھسوٹ، گھوٹالے ، بد اعمالیاں و بد عنوانیاں، رشوت خوری، و دیگر جرائم پڑھے لکھے لوگوں نے انجام دئے ہیں، اَن پڑھ لوگ اس کا تصّور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہاں تعلیم سے انکار کرنا میرا مقصد قطعاً نہیں ہے بلکہ تعلیم وہ طاقت ہے جو انسانی زہن سے جہالت اور اندھیرے کے پردے کو چاک کر دیتی ہے اور اس سے روشنی کی طرف صحیح رُخ کے تعین کا فیصلہ کرنے میں مدد کرتی ہے لیکن تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین تربیت کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔
آج کل کے تعلیمی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ،جب کہ حقیقی مقصد سے کوسوں دور ہے ۔ جو تعلیم انسان کو اپنے مالک حقیقی کی پہچان نہ دلا سکی، جو مقرر شدہ حدود میں زندگی بسر کرنے کا شعور نہیں بخشتی اور اخلاقی اقدار کو نہیں سنوارتی، وہ تعلیم نہیں کہلاتی بلکہ جہالت کے سودا گری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ آج کے دور میں انسانی ضروریات اور ایجادات نے صنعت و تجارت اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں وسعت فراہم کی ہے۔ علم و ہنر اور تحقیق و جستجو کے زاویوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ انٹرنیٹ جیسی سستی اور آسان رسانی نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج ( Global Village) بنا دیا ہے ۔ اس کا احساس ضرور ہوتا ہے کہ انسان اپنی ترقی اور علم کی اس انتہا کو پہنچ چکا ہے جس سے اگر انسانی اخلاق و اقدار کے ڈھانچے میں نہیں ڈھالا گیا تو اس پورے معاشرے کی تباہی یقینی ہے اور بہت سی حد تک ہم اس اندھی ترقی کے تباہ کن نتائج سے آشنا بھی ہو چکے ہیں۔
انسان نے جہاں جدید علم سے آسمانوں تک اپنی کمنڈ ڈالی ہے وہی یہ انسان اخلاقی طور آسمان سے زمین پر گر چکا ہے ۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم نہ دینے سے بچوں میں منفی سرگرمیاں پرورش پا رہی ہیں ۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ دنیا میں ایک مسلمان کی اپنی حیثیت اور شناخت ایک داعی اور قائد کی طرح ہے۔ داعی اور قائد اگر تعلیم یافتہ اور بے دار نہ ہو تو وہ کسی قوم اور قافلے کی رہنمائی کبھی نہیں کرسکتا ہے ۔ جدید علوم کے حاصل کرنے کا مقصد صرف اپنی ضروریات زندگی کو بہ آسانی پانا نہیں ہے بلکہ دوسروں کے مفاد کے خاطر اپنی زندگی وقف کرنا حقیقی انسانیت ہے ۔ ان تعلیمی اوقات کے دوران اگر بچے کو کوئی ٹھوس اخلاقی تعلیم نہ دی جائے تو اس کا انسانی اقدار کے اوصاف سے غافل ہونا کوئی بعید نہیں ہے اور جو دنیا میں آنے کے اصل مقصد سے محروم رہا، وہ اپنی باقی کی زندگی میں اپنی اس غیر اخلاقی دنیاوی اور مادی تعلیم کی کامیابی اور ناکامی جیسے دونوں صورتوں میں بڑا فساد برپا کر سکتا ہے ۔
شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ نے طلباء کو یہ بات باور کرائی کہ اس مادہ پرست دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر نہ رہ جانا بلکہ تربیت کے اس زمانہ میں یہ ضرور یاد رکھنا کہ  ؎
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم سے صداقت ختم ہو جائے وہاں منافقت ڈھیرے جما لیتی ہے ۔عدل جس کا شیوہ نہ ہو وہاں ظلم و ستم کا راج شروع ہوتا ہے اور پھر جس قوم سے شجاعت کا جنازہ اٹھ جائے تو پھر اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں رہتی، چوروں اور لٹیروں کی چاکری اس کا مقدر بن جاتی ہے ۔ زندہ ضمیر لوگوں کی اول سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ سرکاری اسکولوں و کالجوں کے علاوہ نیم سرکاری اداروں میں بھی اخلاقی تعلیمی نِصاب کو شامل کیا جائے تاکہ آئے روز بے راہ روی جیسی برائیوں کا قلع قمع کیا جا سکے اور اِن اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء و طالبات کو جدید علوم کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار کی تعلیم و تربیت سے پختہ ذہن بنایا جائے ۔لیکن ہمیں اپنی ذاتی سطح پر رسمی تعلیم کے ابتدا سے ہی بچوں کو اخلاقی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہیے ۔
آج کل کئی ایسے اسکول بھی کُھل چکے ہیں جہاں جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی نصاب تعلیم کو بھی عملایا جاتا ہے۔ لیکن ایسے اداروں کو قابل قبول فیس وصول کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلباء کو داخلہ مل جائے ۔ اسلامی فکر پیدا کرنے کے لیے بچوں کو اسلامی شاندار ماضی سے آگاہ کریں ۔ انہیں اپنے اسلاف کے عمدہ کارناموں سے جوڑ کر ان کا تعلق اور نسبت سیرت محسن انسانیت معلم أعظم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و سلم سے استوار کیا جائے ۔ اسکولوں میں بچوں کو دائمی کتاب قرآن مجید اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روشناس کیا جائے ۔
بدن سے روح جاتی ہے تو بچھتی ہے صف ماتم
مگر کردار مر جائے تو کیوں ماتم نہیں ہوتا
الغرض ہر حال میں اللہ رب العالمین سے ڈرتے ہوئے زندگی کا سبق حاصل کیا جائے تاکہ ان کے اندر یہ اوصاف بچپن کے دور میں ہی نشوونما پائیں ۔ اس لیے ان کی تربیت کا عمل جس قدر شفاف اور کارآمد ہو اسی قدر قوم کو بہتر مستقبل دیکھنے کو ملے گا ۔ بچوں کی تربیت اس طرح کی جائے کہ وہ جس میں کسی بھی اخلاقی برائی کا اثر پائیں، اُس سے دور رہنا پسند کریں ۔ تعلیم کی اصل روح یہی ہے کہ بچوں کو روز مرہ تدریس کے دوران صداقت ، دیانت، امانت، عدل و انصاف، حق شناسی، ہمدردی و اخوت، ایثار و قربانی،  فرض شناسی، وفائے عہد، پابندی ٔحدود جیسے اوصاف سے ان کی زندگی نکھارنے کی کوشش کی جائے ۔ اس طرح ان کے ظاہری و باطنی زندگی کے لباس میں چار چاند لگ جائے، ان کے دلوں میں پرہیزگاری اور ذہن میں خوف خدا گھر کر جائے ۔ 
(ہاری پاری گام ترال۔رابطہ- 9858109109)
(ساجد میاں!مضمون کے درمیان میںکسی درس گاہ کے کلاس روم میں پڑھتے ہوئے بچوں کی تصویر لگانا)