تعلیم دماغ کو روشن کرتی ہے | حکمت زندگی کی سلامتی بن جاتی ہے فکر و فہم

محمد شبیر کھٹانہ

تعلیم اور حکمت پر چند لائنیں لکھنے سے قبل حکمت کی تعریف لکھنا مناسب ہو گا ۔اب حکمت سادہ الفاظ میں حکمت یا wisdom تجربات ومشاہدات سے حاصل شدہ معلومات اور ان سے پیدا ہونے والی سمجھ ،سوچ ،سوجھ بوجھ اور درست فیصلہ کرنے کی اہلیت کو حکمت کہا جاتا ہے۔ نفسیات کی زبان میں حکمت سے مراد وہ صلاحیت ہے جو تجربے بصیرت اور انعکاس(reflection) سے پیدا ہوتی ہے اور سچ اور حقیقت کا فہم و ادراک کر کے درست گمان یا فیصلوں کو نافذ کرنا حکمت کہلاتی ہے۔ عقل،لاشعور، خیال ،معارف، دانائی شعور ادراک سب مل کر حکمت پیدا کرتے ہیں ۔

حکمت کے اردو معانی عقل و دانش، دانائی، مصلحت ،خوبی ،بھلائی، بہتری، علاج معالجے کا علم ،کسی چیز کی حقیقت، تدبیر ترکیب ،علم میں مشاہدہ، غوروفکر، فلسفہ حکیمانہ قول ،علم عرفان کے اصول۔یہ سب حکمت میں شامل ہیں ۔اس کی تعریفیں کچھ اس طرح ہیں، حکمت وہ علم ہے جس کے مطابق عمل کیا جائے۔ حکمت ایک ایسی صلاحیت ہے کہ اللہ تعالی جس کے دل میں رکھتا ہے تو وہ دل روشن ہو جاتا ہے۔ اس کی دل کی آنکھوں میں دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے، دل میں احساس اور درد پیدا ہو جاتا ہے اور پھر دل کی آنکھوں سے دیکھ کر ہی وہ مکمل انصاف کر سکتا ہے ۔

دل کی اس کیفیت سے ہی دل کے اندر ہر ایک جاندار خاص کر انسانوں کے لئے درد دل پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے فرائض کو اچھی طرح سمجھ کر اپنی قابلیت میں اضافہ کر کے دوسروں کے لئے درد دل سے کام کرتا ہے ۔ثابت ہوتا ہے کہ دل کی آنکھوں سے دیکھ کر ہی ایسا انسان اصلیت کو سمجھ کر انصاف کرنے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے ۔

جب دل روشن ہو جاتا ہے تو پھر اس دل میں عاجزی انکساری حلیمی صبر برداشت اور پھر ضرورت کے وقت نظر انداز کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے، یہ تمام خوبیاں ﷲ کو بہت پسند ہیں، تبھی ان خوبیوں کے پیدا ہونے سے ایک شخص کی سوچ سمجھ ،سوجھ بوجھ بہت ہی اچھی ہو جاتی ہے، اس کا انداز گفتگو بہت ہی اچھا ہو جاتا ہے، اس کی قابلیت اس قدر ہو جاتی ہے کہ اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ دوسروں کے دلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، جب اس کے دل میں دوسروں کے لئے درد ہوتا ہے تو پھر وہ دوسروں کا پورا لحاظ رکھتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا ہی خوب لکھا ہے:
مختصر اتنا کہ دو حرفوں سے بنا ہے دل
طویل اتنا کہ اس میں سارے جہاں کا درد ہے
حکمت کا ایک مطلب اﷲ تعالی سے ڈرنا بھی ہے۔ اب جس کا دل روشن ہو جائے گا اور وہ حق اور ناحق میں فرق سمجھنا شروع کرے گا تو اس کے دل میں ہر وقت ا ﷲ کا خوف اور ڈر پیدا ہو جائے گا ،تبھی تو اس کی قابلیت پوری طرح کام کرنا شروع کر دے گی جب ایک شخص کو اﷲ تعالی شاندار قابلیت سے نواز دیتا ہے تو پھر وہ ہمیشہ اپنے سے چھوٹے کے ساتھ شفقت سے پیش آتا ہے،اپنے ہم عمر کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے اور اپنے سے تمام بڑوں کی وہ ہمیشہ عزت کرتا ہے، چاہیے کوئی عمر کے لحاظ سے بڑا ہو یا پھر عہدے کے لحاظ سے وہ سب کی عزت کرتا ہے ۔

جب دل روشن ہو جاتا ھے تو پھر ایسے شخص کے دل ودماغ میں اس طرح کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اس کو ہر دوسرا شخص اپنے آپ سے قابل اور لائق نظ آتا ہے مگر وہ محنت کر کے دوسروں سے قابل اور لائق بننے کی پوری کوشش میں رہتاہے تو اس طرح حقیقت میں وہ متعلقہ اچھی اچھی کتابیں پڑھ کر دوسروں سے قابل اور لائق بن جاتا ہے۔

جس کا دل روشن ہو جاتا ہے اور ایک خاص معیار کی قابلیت اس میں پیدا ہو جاتی ہے تو پھر ایسا شخص ہر دوسرے شخص کی قابلیت میں اضافہ کرنے کے لئے کوشش کرتا ہے یا پھر دوسروں کی قابلیت میں بھی اضافہ کرواتا ہے تو اس طرح سماج ایسے شخص سے بے شمار فیضیاب ہوتا ہے ۔

جب ایک انسان تعلیم حاصل کرتا ہے یا پھر علم سیکھتا ہے تو اسی علم سے ایک تعلیم یافتہ شخص کے اندر وہ تمام تر خوبیاں اور صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں جن کی بدولت وہ شخص علم و حکمت کا ماہر بن جاتا ہے۔ ثابت ہوا کہ علم سے حکمت پیدا ہوتی ہے تو پھر ہر اعلی تعلیم یافتہ شخص کے لئے حکمت کا ماہر ہونا لازمی ہے کیونکہ تعلم ہی کی بدولت حکمت کی تمام تر خوبیاں اور صلاحیتیں ایک تعلیم یافتہ شخص کے اندر پیدا ہوتی ہیں جب اس کے ساتھ تجربہ یا عہدہ جڑ جاتا ہے تو پھر ایک تعلیم یافتہ شخص کی حکمت کو چار چاند لگ جانا ضروری ہو جاتا ہے یا اس کے تجربے یا عہدے کے مطابق اس میں حکمت زیادہ ہونا ضروری ہے کیونکہ جتنا ایک شخص کا عہدہ بڑا ہو گا اتنی ہی اس کی ذمہ واریاں زیادہ ہو گی اور پھر ان ذمہ واریو کو پوری قابلیت سے نبھانے کی لئے اس مین اتنی ہی زیادہ حکمت کی ضرورت درکار ہوتی ہے ۔علم کی بدولت ایک تعلیم یافتہ شخص کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے دل ودماغ کے روشن ہونے سے وہ شخص سلیقہ گفتگو سیکھتا ہےاور حکمت ایک تعلیم یافتہ شخص کو الفاظ کا انتخاب کرنے اور پھر ان الفاظ کو ادا کرنے کا سلیقہ بھی سیکھاتی ہے۔ یہ تو الفاظ ہی ہوتے ہیں جو کسی بھی دوسرے انسان کے دل میں اتر کر اس کے دل ودماغ پر اثر پزیر ہوتے ہیں اور پھر اس کے دل پر قبضہ کر لیتے ہیں ۔
جب الفاظ پھولوں مانند خوشبودار ہوں کہ ان الفاط کے دوسرے کا کانوں میں پڑنے سے وہ بات کہنے والے کی ہر بات کو مان جائے تو پھر الفاظ کا انتخابات بڑی سوچ سمجھ کر کرنا لازمی ہو جاتا ہے اب جو شخص جتنا تعلیم یافتہ ہو وہ اتنا ہی حکمت کا ماہر بھی ہو اور پھر جس شخص کی کے پاس جتنی حکمت زیادہ ہو وہ اتنے ہی اچھے الفاظ کا انتخاب کر کے دوسروں پر قبضہ بھی بہت ہی اچھی طرح کر سکتا ہے یا اپنی مناسب بات دوسروں کو منوا سکتاہے ۔اس آرٹیکل کے لکھنے کا مقصد کہ ہے کہ اس کو اس ذی عزت اخبار میں پبلش کر کے اس کے زریعہ سے تمام ٹیچینگ سٹاف ممبران کو اس بات سے آگاہ کیا جا سکے کہ ان کی تعلم کے مطابق ان کے لئے حکمت کا ماہر بننا لازمی ہے اور پھر جو معاملات قلم کے نوک سے پھولو کی مانند خوشبوں دینے والے الفاط لکھنے سے حل کروائے جا سکتے ہیں یا پھر میٹھے الفاظ بولنے سے حل کروائے جا سکتے ہیں پھر حکمت کے مطابق کوئی بھی دوسرا طریقہ استعما ل نہ کیا جائے ۔

جب پر امن ماحول میں اسکولوں کا نظام اچھی طرح چل سکتا ہے تو پھر حکمت کے مطابق ہر ایک ٹیچینگ اسٹاف ممبر کو پوری کوشش کر کے تمام اسکولوں میں پر امن ماحول قائم کرنے میں اپنا پورا رول ادا کرنا چائیے تا کہ پر امن ماحول میں بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن پڑھائی جا سکے۔

محکمہ تعلیم کے تمام عہدیداران خاص کر آفیسر ان کو اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اپنی حکمت اور تجربہ کا بھرپور استعمال کرنا چاہیے، قابلیت تجربہ اور شائستگی کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنے کے لیے پھولوں جیسی خوشبو دینے والے الفاظ کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ آفیسر کسی بھی صورت حال کو ہر لحاظ سے پوری طرح اپنے کنٹرول میں لے سکیں۔
(رابطہ۔ 9906241250 )