تعلیم۔کیا امتحانات تک ہی محدود ہوتی ہے؟

 بلا شبہ تعلیم جہاں ایک آفاقی تصور ہےوہیں تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ علم، مہارت، اقدار یا رویوں کے علم کے حصول کو آسان بنایا جاتا ہے۔ تعلیم مختلف سیاق و سباق میں پائی جاتی ہے، اِسے مختلف شکلوں میں پیش کیا جاسکتا ہے اور یہ مشمولات میں بھی مختلف ہوسکتی ہے ، تاہم مقصد ایک ہی ہوتا ہے۔ باقاعدہ تعلیم ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوسکتی ہےاور ہر ثقافتی سیاق و سباق، تعلیم کی راہ میں فرق بھی پیدا کرتا ہے اور یہ فرق اِسے مختلف اقسام ،درجہ بندی اور خصوصیات میں بانٹتی ہے ،جیسےرسمی ،غیر رسمی،معاشرتی،فکری، اقداری ،جذباتی ،جسمانی،مخلوط ،آن لائن وغیرہ۔بغور جائزہ لیا جائےتو دنیا بھر میں تعلیم رسمی اور غیررسمی انداز میں دی جاتی ہے۔لیکن ہمارے یہاں جو نظامِ تعلیم جاری وساری ہے، اُس کا بنیادی حصہ امتحانات ہیں اور بغیرامتحانات کے یہاں تعلیم کا تصور کُلی طور محال ہے۔ چھوٹی کلاس سے لے کر بڑے کلاسوں تک زیر تعلیم طلبا و طالبات اسی دوڑ میں لگے رہتے ہیں کہ انہیں کسی بھی طرح امتحان میں پاس ہونا ہے۔ ایک بچہ جب اسکول میں داخل ہوتا ہے تو اس کو سب سے پہلے چیز جو سکھائی جاتی ہے ،وہ یہ ہے کہ اُسے امتحان پاس کرنے کے لئے پڑھنا ہے۔ ماں باپ بھی اس پریشانی میں رہتے ہیں کہ اُن کا بچہ ہر امتحان میں زیادہ سے زیادہ نمبرات لائیں،بڑی ڈگریاںحاصل کریںاور آگے چل کر بڑے سے بڑا کارنامہ انجام دے۔ گویا ہمارے یہاںکا نظامِ تعلیم محض رسمی ہےاور یہ رسمی تعلیم باقاعدہ منصوبہ بندی کے مطابق دی جاتی ہے،جو تعلیمی مراکز میں پڑھائی جاتی ہے وہ نہ صرف منظم انداز میں دی جاتی ہےبلکہ ارادتاً دی جاتی ہے،یعنی اس تعلیم کو قانون کے ذریعےباقاعدہ بنایا جاتا ہے،جس کے تحت لوگوں کو پیشہ ورانہ طور پر تربیت دی جاتی ہےاورپھر مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد سرٹیفکیٹ یا ڈپلومہ یا مختلف ڈگریاں فراہم کی جاتی ہیں۔اس کے برعکس غیر رسمی تعلیم، تعلیم کی ایسی قسم ہے جو ارادی اور منظم تو ہے لیکن یہ رسمی دائرے سے باہر ہے۔ یہاں کوئی قانون موجود نہیں اور نہ اِسے حکومتی شعبے کے ذریعہ باقاعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کو سرٹیفکیٹ کے ذریعے پہچانا توجاسکتا ہے ، لیکن اس کی کوئی پیشہ ورانہ قیمت نہیں ہے۔ غیر رسمی تعلیم زندگی بھر کے لیے ہوتی ہے۔ جوتدریسی مراکز کے بجائے معاشرتی میدان میں دی جاسکتی ہے، مثلاً جب والدین اپنے بچے کو اقدار کی تعلیم دیتے ہیںتو یہ وہی چیز ہے جس کو تاریخی لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ تعلیم کی وہ قسم ہے جو زندگی بھر مسلسل جاری رہتی ہے، یہاں تک کہ اُن حالات میں بھی جب آپ اور ہم اِس سے واقف ہی نہیں ہوتے ہیں۔یعنی یہ اقداری تعلیم ایک دوسرے کے ساتھ بقائے باہمی کے لیے ضروری ہے اوراس میں اخلاقی تعلیم بھی شامل ہوتی ہےاور اس علم کا بنیادی مقصد ہے کہ انسان ایک بہترین سانچے میں ڈھل جائےتاکہ وہ بغیر امتحانات کےا پنی علمی صلاحیتوں ، یادداشت ، استدلال اور تنقیدی رائے کو بہتر بناکر ثقافتی و معاشرتی فروغ کی حوصلہ افزائی بھی کرے۔اب یہاں یہ سوال ابھرتا ہےکہ کیا امتحان ہی پڑھائی ہے؟ آنے والی سطروں میں ان وجوہات کی بات ہوگی، جنہوں نے پڑھائی کو صرف امتحانات تک محدود کر دیا ہے۔ 
پہلی بات پڑھائی کا غلط تصور:۔ ہمارے یہاں علم یا پڑھائی کو کچھ مخصوص چیزوں کا نام دیاگیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ دبدبہ امتحانات کا ہے۔ ہمارے سماج میں یہ چلن عام ہے جو امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھائے، وہی تعلیم یافتہ ہے اور جو اس میں فیل ہو جائے، وہ کسی کام کا نہیں۔ ایک لحاظ سے امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھانا بھی ضروری ہے، مگر اگر امتحانات کے دوران کوئی بچہ بیمار ہوجاتا ہے یا اُ سے کوئی گھریلو حادثہ پیش آتا ہےیا وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا پاتا ہے،تو اس موقع پر ہم پڑھائی کو امتحانات تک محدود کر دیتے ہیں۔
دوسری بات ہے مادیت:۔ ہاں! یہ ٹھیک ہے کہ علم روزگار کا ذریعہ ہو، مگر بات تب بگڑ جاتی ہے جب علم صرف پیسے کمانے کا ذریعہ بنے۔ ایک طالب علم کو پہلے سے ہی سکھایا جاتا ہے کہ پڑھائی کا آخری مقصد ہے دولت کمانا، اچھی نوکری حاصل کرنا، بہن بھائیوں کی شادی کروانا، مکان بنانا، گاڑی خریدنا، لذیذ پکوان کھانا، اور ساتھ ساتھ اپنےبچوں کا مستقبل سنوارنا، وغیرہ تعلیم کا بنیادی مقصد ہے۔اب اگر علم کا معنی یہ سب چیزیں ہیں، تو پھر امتحانات کا ہی بول بالا ہوگا۔ طالب علم کے ذہن میں یہ باتیں بٹھا دی جاتی ہیں کہ کونسا امتحان اچھی زندگی کا باعث ہے۔ وہ اس کے لئے تن من سے کام کرتا ہے اور اس کو پار کرنے کے لئے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑتا ہے۔ اس سے امتحانات سبقت لے جاتے ہیں اور علم کہیں دور اپنا چہرہ چھپا لیتا ہے۔ 
تیسری بات ہے دوسروں کی نقالی:۔ یہ بات میری سوچ کے مطابق سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ دوسروں کی دنیا میں امتحانات سب کچھ ہوسکتے ہیں، مگر ہماری دنیا میں اس کا رواج نہیں ہے۔ اس سے نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے۔ ہمارا کام تھا کہ علم کو اللہ کے لئے حاصل کرے، مگر ہم نے اس کو دوسروں کی خوشنودی کے لئے حاصل کیا ہے۔ انسانیت سے پرے امتحانات کسی اور قوم کا شیوہ ہوسکتا ہے، مگر ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے۔ یورپ کے کسی ملک میں اگر کوئی لڑکا یا لڑکی کوئی نمایاں کارکردگی دکھائے تو اس کارکردگی کو ہمیں بہت باریک بینی سے دیکھنا چاہئے۔ کیا اس میں بُرائی کا عنصر موجود تو نہیں ہے؟ اس بات کو گہرائی میں جان کر ہی ہم علم کو ترقی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ 
چوتھی بات ہے آخرت کی فراموشی:۔ جو قوم اس دنیا کو ہی اصل سمجھے، اُن کے لئے دنیاوی امتحانات ہی سب کچھ ہیں۔ اُن کی ساری کوششیں اِس دنیا کی بناوٹ پر خرچ ہوگی۔ اس کے برعکس جو قوم آخرت کا شعور رکھتی ہو، اُس کے لئے دنیاوی امتحانات زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہوتے ہیں۔ وہ لوگ دنیاوی امتحانات کو عام سی چیز مان کر چلتے ہیں۔ ان کے سامنے ایک اعلیٰ مقصد ہوتا ہے جس کو پانے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو تولیںتو ہم آخرت کا حِس ہونے کے باوجود دنیاوی امتحانات میں ایسے پھنس چکے ہیں کہ اب ہمیں کسی اور امتحان کی فکر ہی نہیں رہی ہے۔ ہم خودہی اپنے بچوں کو سکھاتے رہتے ہیں کہ یہاں کے امتحانات ہی اصل ہیں، باقی کچھ بھی نہیں ہے۔ نعوذ باللہ اب ہم نے یہ مان لیا ہے، جو یہاں کامیاب نہیں ہوتا ہو وہ کہیں بھی کامیاب نہیں ہوسکتا ہے! 
آخری بات ہے دکھاوا:۔ یہ بیماری لگ بھگ ہر کسی کو لگ چکی ہے۔ ہر فرد چاہتا ہے کہ اس کا بچہ دوسروں سے الگ ہو۔ بول چال میں، نمبرات میں، کلاس میں، وغیرہ۔ وہ بچہ اس لائق ہو یا نا ہو، وہ آگے ہونا چاہئے۔ ملازمت کے شعبے اور نمبرات کے شعبوں میں یہ چیزیں زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔ اس سے بچہ وہی کرتا ہے جو پورا سماج اس سے چاہتا ہے۔ وہ اُس دوڑ کے سوا کچھ دیکھ نہیں پاتا ۔ اس کا براہ راست اثر اس کی تمام زندگی پر پڑتا ہے، وہ دنیاوی امتحانات کو اصل زندگی سمجھ کر راہ راست سے بہت دور چلا جاتا ہے۔ 
وقت کی ضرورت ہے کہ ہم ان امتحانات کو ہی اصل نہ مانے۔ ہاں! امتحانات کو بھی اعلیٰ پوزیشن سے حاصل ضرور کریں،مگر اپنے حدف کو نہ بولے۔ موقع ہو یا نہ ہو، موقع کی تلاش کرنا دانائی ہے اوریہی اصل زندگی ہے۔ تو آیئے عہد کریں کہ ہم ایک حاضر دماغی کی زندگی گزارنے کی کوشش کریںگے، جس میں امتحانات ایک عام سی شئے ہو نہ کہ موت و حیات کا مسئلہ۔ 
رابطہ۔7889346763(حاجی باغ، زینہ کوٹ، سرینگر)
�������