تعلیمی نظام میں علم اور اقدار کی ضرورت جِدت اورتخلیق میں قوم کی تعمیر کا راز پنہاں:لیفٹیننٹ گورنر

نیوز ڈیسک

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سکاسٹ جموں میں امر اجالا گروپ کی طرف سے منعقدہ ‘ہونہار طلبا’ ایوارڈ تقریب میں شرکت کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے تمام طلبا کو مبارکباد دی اور ان کی مستقبل کی کوششوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، طالب علم کے لیے سب سے بڑی طاقت تنقیدی سوچ ہے، اور تجسس ہی اصل شناخت ہے۔ تنقیدی سوچ اور تجسس طالب علم کو ہمت، دیکھ بھال اور تعاون کی اقدار حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ تعلیمی نظام میں علم اور اقدار دونوں وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس متاثر کن عمر میں، کلاس روم کو طلبا کی ذہنی صلاحیت کو ابھارنا اور ان کی شخصیت کو نکھارنا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سکولوں پر زور دیا کہ وہ جدت، تخلیق، لچک اور تجربات کو فروغ دیںکیونکہ اختراع اور ایجاد کا کلچر طلبا کو مستقبل کے چیلنجوں سے اعتماد کے ساتھ نمٹنے اور مختلف صلاحیتوں میں قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل بنائے گا،کوئی بھی خطہ، کوئی بھی قوم اسی وقت ترقی کرے گی جب نوجوان نسل کو تنقیدی سوچ اور تجسس کی آبیاری کے لیے مناسب ماحول ملے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے طلبا سے کہا کہ اپنی آزاد سوچ، انفرادی ترقی پر توجہ مرکوز کریں اور علم کی وسیع صلاحیت کو کھولنے کے لیے اپنے سوالات کے جوابات تلاش کرنا کبھی نہ چھوڑیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے تعلیم کے شعبے میں متعارف کرائی گئی اصلاحات اور گزشتہ دو سالوں میں جموں و کشمیر میں تعلیمی شعبے کو تبدیل کرنے کے لیے قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق لیے گئے اہم فیصلوں پر روشنی ڈالی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ پچھلے سال اندراج کی مہم میں 14.5 فیصد اضافہ ہوا۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ ہم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کر رہے ہیں، صنفی فرق کو ختم کر رہے ہیں، اٹل ٹنکرنگ لیبز اور کمپیوٹر ایڈیڈ لرننگ سینٹرز تیار کر رہے ہیں، اسکالرشپ فراہم کر رہے ہیں، انفرادی ترقی کے لیے ہاتھ بڑھا رہے ہیں اور معاشرے کے تمام طبقات کے لیے معیاری تعلیم کو یقینی بنا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آج 70,000 لڑکے اور لڑکیاں 14 مختلف ٹریڈز میں پیشہ ورانہ تربیت لے رہے ہیں اور اپر پرائمری سکول میں 1420 کمپیوٹر ایڈیڈ لرننگ سینٹرز بچوں میں ، تنقیدی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔