تعلیمی ادارے 11 ماہ بعد دوبارہ کھل گئے | 9 ویں سے بارہویں جماعت کے طلاب کی سکولوں میں واپسی

پونچھ//کورنا وائرس کے خطرات کی وجہ سے بند رہنے کے بعد 1فروری 2021 سوموار سے تقریبا گیارہ ماہ تک بند رہنے کے بعد نویں سے بارھویں جماعت تک کے بچوں کے لئے اسکول کھول دئے گئے جہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے۔ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سابقہ سال مارچ سے تمام تعلیمی ادارے بند تھے۔پیر کے روز جب اسکول کھلے توپورے جموں خطہ کے ساتھ ساتھ پونچھ کے بچوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت کوش ہیں کہ ان کا مزید تعلیمی نقصا ن نہیں ہوگا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب ان کے اساتذہ ان کو بہتر طریقہ سے پڑھائیں گے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے پرنسپل ماڈل گورنمنٹ ہائر سکنڈری اسکول بوائز پونچھ نے کہا کہ تعلیمی اداروں کا دوبارہ کھولنے کا کوئی آسان فیصلہ نہیں ہے لیکن وزارت صحت کے مشورے کے بعد محکمہ تعلیم کی اعلی قیادت نے ایس او پیز کے تحت تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تعلیمی نظام آگے بڑھ سکے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ، اسکولوں کے منتظمین اور والدین سمیت بالغ طلبہ کی بھی یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اییس او پیز پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پرنسپل ہونے کے ناطے وہ اپنے اسکول میںایس او پیز پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ان کے اسکول کی طلبہ کی تعداد ساڑھے بارہ سو ہے ۔جن سبھی کو اسکول بھی ایک ساتھ بلانا خطرناک ہوگا اس لئے وہ بچوں کو مرحلہ وار بلا ئیں گے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق ایس او پیز کے اہم نکات طلبہ کی تعداد میں کمی کرنا ہے تاہم یہ کلاس روم کے سائز پر منحصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ کلاس رومز میں سماجی دوری کو یقینی بنانا، طلبہ اور اسکول کے عملے کا ماسک پہننا، اداروں میں ماسک کے بغیر داخلہ نہیں ہونے دینا یہ ان کے لئے ایک چیلنج ہے ۔انہوں نے والدین کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ماسک پہننے سمیت ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی بچے کوکھانسی اور بخار کی علامات  پائی جا رہی ہیں تو اسے اسکول نہ بھیجیں، کورونا وائرس کی شدید علامات کی صورت میں ان کا ٹیسٹ کروائیں اور اگر رپورٹ مثبت نکلی تو تعلیمی ادارے کو آگاہ کریں، بچوں میں سماجی دوری کو یقینی بنائیں اور انہیں ہینڈ سینیائٹرز استعمال کرنے کی تجویز دیں، مزید یہ کہ ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں میں بھی بچوں کو اسکول منتقل کرتے ہوئے سماجی دوری برقرار رکھینے کی ہدایت کریں۔