تعلیمی اداروں کو پیٹنٹ فیس میں 80فیصد رعایت ملے گی

نئی دہلی//خودکفیل ہندوستان مہم کی سمت میں ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے حکومت نے تعلیمی اداروں کو پیٹنٹ درخواست اورپراسیکیوشن فیس میں 80 فیصد چھوٹ کا اعلان کیا ہے ۔ محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت (ڈی پی آئی آئی ٹی) نے جمعرات کو کہا کہ یہ قدم ملک میں دانشورانہ اثاثہ کی ترقی کے لیے ماحول کو مزید بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے ۔ محکمہ نے ایک بیان میں کہا، "پیٹنٹ کی درخواست اورپراسیکیوشن کی فیس میں 80 فیصد چھوٹ کا فائدہ تعلیمی اداروں کو بھی دینے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔" مرکز نے اس حوالے سے پیٹنٹ رولز میں ترمیم کی ہے ۔ توقع ہے کہ اس سے تعلیمی اداروں میں تحقیق کرنے والے طلباء وطالبات اور پروفیسرز کو اپنی نئی نئی حصولیابیوں کو پیٹنٹ کرنے کی ترغیب ملے گی۔ حکومت نے ملک میں دانشورانہ املاک (پیٹنٹ) کو فروغ دینے کے لیے اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو درخواست فیس میں 80 فیصدکی چھوٹ پہلے ہی دے رکھی ہے ۔ابھی پیٹنٹ کا دعوی کرنے والی فیس بہت زیادہ ہے اور اس سے ایجاد کا جوش ختم ہو جاتا ہے اور وہ پیٹنٹ کے لیے درخواست نہیں کرپاتے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ محکمہ اس معاملے میں صنعت اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پیٹنٹ دفاتر میں دعووں کی تحقیقات کو تیز کرنے کے لیے انسانی وسائل کو بڑھا رہی ہے اور درخواست کا عمل آن لائن کر دیا گیا ہے ۔ وزارت کا دعویٰ ہے کہ پیٹنٹ درخواستوں کی جانچ پڑتال میں 2015 میں اوسطا 72 ماہ لگتے تھے ۔ اب وقت کم ہوکر 12-30 ماہ رہ گیا ہے ۔ اسٹارٹ اپ یونٹس کے لیے ریپڈ تحقیقاتی سسٹم کے تحت ، ایک درخواست کی جانچ پڑتال 41 روز میں کردی گئی جو اب تک کسی معاملے میں کم از کم وقت ہے ۔