تعطل برقرار :کاروان امن بس کے بعدآر پار تجارت بھی معطل

 بارہمولہ،راجوری //اوڑی سے کارواںامن بس کے بعد آرپار تجارت دوسرے ہفتے بھی معطل رہی۔ کمان پل اوڑی سے چلنے والی سرینگر مظفر آباد تجارت گزشتہ ہفتے معطل رہنے کے بعد اس ہفتے دوبارہ معطل کی گئی۔ معلوم ہو ہے کہ  21 جولائی کو آرپار تجارت کے دوران اوڑی پولیس نے سلام آباد ٹریڈ سنٹر پر تلاشی کے دوران مظفرآباد سے آئی ایک ٹرک میں66.5 کلو گرام براون شگر جس کی قیمت 3سوکروڑ روپے بتائی جاتی ہے ،ضبط کی تھی جس کے بعدپولیس نے یوسف شاہ ساکنہ چھتر مظفرآباد نامی ٹرک ڈرائیور کوحراست میں لیا تھا۔ذرایع نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے پاکستانی زیر انتطام کشمیر کی حکام نے سلام آباد ٹریڈ سنٹر حکام کو بزریعہ خط آرپار تجارت معطل کرنے کی اطلاع دی تھی تا ہم اس ہفتے چار روزہ آرپار تجارت جو منگل سے جمعہ تک جاری رہتی ہے، کے حوالے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے حکام نے آرپار تجارت دوبارہ سے بحال کرنے کی کوئی بھی اطلاع فرہم نہیں کی ہے جس کی وجہ سے آج مسلسل دوسرے ہفتے بھی آرپار تجارت معطل رہا۔ادھر آرپار تجارت مسلسل دوسرے ہفتے معطل رہنے کے بعدآرپار تجارت سے وابستہ تاجروں میں مایوسی چھا گئی ہے۔آرپار تجارت کے جنرل سکریٹری ہلال احمد ترکی نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ہندستان اور پاکستانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ آرپار تجارت کے بحالی کے حوالے سے بات چیت کریں تا کہ یہ تجارت جلد از جلد بھر بحال ہوجائے۔ادھرپونچھ کے چکاں داباغ کے راستے بس سروس کے بعد تجارتی سلسلہ بھی بدستور منقطع ہے ۔ مسلسل چوتھے ہفتے بھی پونچھ راولاکوٹ کے درمیان کسی قسم کی کوئی تجارتی سرگرمی نہیں ہوئی ۔ذرائع نے بتایاکہ منگل کے روز بھی پچھلے تین ہفتوں کی طرح آر پار تجارت نہ ہوسکی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بس سروس بھی معطل ہے جس کے نتیجہ میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے116مسافر پونچھ جبکہ جموں کشمیر کے تین مسافر پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں درماندہ ہیں ۔