تصوف کیا ہے؟

ایک   ضعیف العمر شخص کو زدوکوب کرتے ہوئے قید خانہ کی طرف لے جایا جارہا تھا اور وہ انتہائی صبروضبط کے ساتھ خاموش تھا۔ ایک مشہور ولی اللہ اور صاحب کرامت حضرت ابوالحسن نوری رحمتہ اللہ علیہ نے قید خانہ میں جاکر اس سے پوچھا کہ اس قدر ضعف ونقاہت کے باوجود تم نے صبر کیسے کیا؟ اس نے جواب دیا صبر کا تعلق ہمت وشجاعت سے ہے، نہ کہ طاقت وقوت سے۔ ابوالحسنؒ نے پوچھاصبر کا مفہوم کیا ہے؟ اس نے بولامصائب کو اس طرح خوشی سے برداشت کرنا چاہئے جس طرح لوگ مصائب سے چھٹکارا پاکر مسرور ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا آگ کے سات سمندر پار کرنے کے بعد معرفت حاصل ہوتی ہے اور جب حاصل ہوتی ہے تو اول وآخر کا علم حاصل ہوجاتا ہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں رفتار جتنی تیز ہوتی ہے، اسی قدر اس کی حرکت نظر نہیں آتی۔ فرماتے ہیں تیز آندھی کو سب محسوس کرتے ہیں لیکن نسیم سحری جو دل کی کلیوں کے ساتھ مسیحائی کرتی ہے اور چمن کو حیات نو بخشتی ہے، اس طرح چلتی ہے کہ کسی کو خبر نہیں ہوتی۔حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے کہا کہ آپ سماع کے موقع پر اپنی جگہ سے جنبش نہیں فرماتے تو آپ نے یہ آیت پڑھی:(ترجمہ) تم پہاڑوں کو دیکھو گے تو ان کو کھڑا ہوا سمجھو گے حالانکہ وہ ابر کی طرح رواں دواں ہوں گے، تم ہماری رفتار نہیں دیکھتے جب رفتار تیز ہوجاتی ہے دیکھنے میں نہیں آتی، نسیم سحر اس طرح چلتی ہے کہ کسی کو خبر نہیں ہوتی۔
حضرت سیدسلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کی ذہنی ساخت اور افتاد طبع ایسی ہوتی ہے کہ ان کو اس طرز استدلال اور مقدمات کلامیہ اور منطقیہ سے فائدہ پہنچتا ہے اور اس کے بغیر ان کی تشفی نہیں ہوتی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ علم و یقین ان طریقوں پر منحصر ہے بلکہ یہ ایک دماغی کیفیت ہے جو خاص ماحول وتربیت کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دفعہ اپنی بات کے اظہار کے لئے فلسفی اصطلاحوں سے کام لینا پڑتا ہے۔ 
اگرچہ امر واقع یہ ہے کہ تصوف کی تشریح بیان کرنے اور سمجھنے میں کنفیوژن پیدا کرنے میں اس بات کو بڑا دخل ہے کہ یہاں کچھ لوگوں نے صوفی اصطلاحوں کی حقیقت کو نہ سمجھ کر انہیں فلسفیانہ اصطلاحوں میں ڈھالنے کی کوششیں کیں۔امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ آسمانی کتابوں کو سمجھنے اور ان سے صحیح طور پر تعلیم اخذ کرنے کے لئے انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان اور اصطلاحات کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔ وہ لکھتے ہیں:’’اس زبان کا سمجھنا جس جس میں انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے خطاب کیا اور ان کے الفاظ کا وہی مطلب لینا جو ان کی مراد تھی ضروری اور یقینی چیز ہے۔
 جو اس کے علاوہ دوسرا راستہ اختیار کرے گا وہ ان کے کلام کو اصل مفہوم سے ہٹادے گا اور ان پر جھوٹ باندھنے اور افترا پروازی کے جرم کا مرتکب ہوگا۔ تاہم امام تیمیہ یہ بات مانتے ہیں کہ دو چیزیں الگ الگ ہیں۔ ایک وہ جو عقلی حیثیت سے محال اور باطل ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ چیزیں ناممکن ہیں، اور ایک وہ جس سے عقل قاصر ہے، وہ اس کی حقیقت کو پہچان نہیں سکتی، ماورائے عقل چیزیں ہیں، اور مخالف عقل اور ماورائے عقل میں بڑا فرق ہے۔
جس چیز کی حقیقت سے انسان پوری طرح واقف نہیں ہے اس کو جھٹلانے اور اس کے وجود کا انکار کرنے کا رحجان انسانوں میں بہت قدیم اور عام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:ترجمہ: ان کفار نے ان چیزوں کو جھٹلایا جن کا ان کو پورا علم حاصل نہ تھا، حالانکہ ابھی تک ان پر ان کی پوری حقیقت منکشف نہیں ہوئی۔ (سورہ یونس۔39)۔
حضرت سیدسلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ یونانی فلسفہ نے اپنے مذہبی اعتقادات اور مشرکانہ تصورات کو فلسفہ کی مہیب اصطلاحات میں منتقل کردیا اور مسلمان علمائے فلسفہ نے جو یونان کی مذہبی تاریخ سے واقف نہیں تھے، ان کو علمی حقائق سمجھ کر اپنے غوروفکر کا موضوع بنالیا۔کچھ لوگ مرزا غالبؔ سے بوجوہ بدظن ہیں مگر اس کے شاعرانہ ہنر اور کمال کے قائل ہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مشہور عربی شاعر امرالقیس کی شاعرانہ پُرکا ری مانتے تھے مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ امرالقیس جہنم میں لے جانے والے شاعروں کا لیڈر ہوگا۔ بایں ہمہ عجیب بات ہے کہ میں جب غالب کا یہ شعر پڑھتا ہوں   ؎
میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا 
میری   آہِ آتشیں   سے   بالِ عنقا   جل   گیا 
یہ شعر پڑھ کر مجھے غالب کے تئیں کوئی بدظنی نہیں رہتی بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ ہی جانے اس کا کیا مقام تھا اور ہے۔ یہ شعر تو مقام فنا ئیت کا ترجمان لگتا ہے۔ ایسی باتوں کا اظہار بعض صوفیوں نے اس وقت کیا ہے جب وہ فنا کے مقام پر پہنچ گئے تھے اور کچھ نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم نہ مقیم ہیں اور نہ مسافر، جب کہ کچھ صوفیوں کا دعویٰ تھا کہ ہم فنا میں مقیم ہیں اور یکتائی میں سفر کرتے ہیں۔غالبؔ کے اس شعر سے مراد یہ لگتی ہے کہ وہ بتانا چاہتا ہے کہ میں نے نیستی کا وہ مقام پالیا ہے جو فنا کے مقام سے بھی آگے ہے۔ (فنا کے بعد کا مقام تو بقا ہے مگر اس شعر سے لگتا ہے کہ فنا اور بقا کے درمیان بھی کوئی مقام ہے جہاں غالبؔ کو رسائی ملی ہے)کیونکہ وہ کہہ رہا ہے کہ جب تک میں عدم میں تھا ، اس دوران میری آہ سے عنقا کا شہپر اکثر جل گیا ہے۔واضح رہے عنقا ایک خیالی پرندہ ہے اور موجود نہیں ہے تو ظاہر ہے وہ  عدم میں ہوا اور اس طرح آہِ آتشیں اور بالِ عنقا کا ایک جگہ جمع ہونا ظاہر کرتا ہے کہ آہ کی تاثیر سے عنقا کا پر بھی آگ کی زد میں آتا رہا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ غالبؔ کے ایسے ہی اشعار پر دلی میں لوگ کہا کرتے تھے کہ غالبؔ بے معنی شعر کہتا ہے جس پر غالبؔ نے اپنا کیش اپنی بے نفسی وبے نیازی کے پیرایئے میں یوںظاہر کیا    ؎
نہ  ستائش  کی  تمنا  نہ  صلے   کی   پرواہ 
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی 
اور یہ بھی کہا تھا    ؎
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالب  صریر  خامہ  نوائے   سروش    ہے
آخر میں یہ بات بتانا چاہوں گا کہ یہ دنیا رہنے والی چیز نہیں ہے بلکہ فنا ہونے والی ہے، نہ جاہ وحشم رہنے والا ہے اور نہ ہی مال و دولت اور حسن وشباب رہنے والے ہیں۔ جو ان چیزوں پر اتراتا ہے اور ان پر تکیہ لگائے بیٹھا ہے ،وہ سب سے بڑا احمق اور بے وقوف ہے، جس کے پلے یہ ابدی حقیقت پڑی ہو تو سمجھئے وہی صوفی یا درجہ ٔ احسان والا ہے۔شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں   ؎
بوم   نوبت    میزند    بر  طارم  افراسیاب
 پرده داری میکند در قصر قیصر عنکبوت
 یعنی اُلو افراسیاب کے میناروں پر نوبت بجائے جاتا ہے ۔۔۔ قیصر کے محل پر مکڑی نے جالے بن لیے ہیں۔
یا عمر خیام کے الفاظ میں   ؎ 
آن قصر که با چرخ   همیزد   پهلو
بر درگه آن    شهان  نهادندی   رو
دیدیم که بر کنگره‌ اش فاخته‌  ای
بنشسته همی گفت که کوکوکوکو
Do you remember the palace that
ranked high with heaven,
And at whose portal kings pressed their cheeks?
Now a dove perches on the top of
its battlements,
Crying: Coo coo! Where oh where?
کیا تمہیں یاد نہیں کہ شاہِ کسریٰ کے اس محل کی چھتیں آسمان سے باتیں کرتی تھیں اور اس کے دروازوں سے بادشاہ اپنے رُخسار لگایا کرتے تھے؟اب اس خستہ عمارت کے بکھرے پڑے کھنڈرات کے ایک کنگرے پر ایک حیران فاختہ بول رہی ہے کہ کو کو، کو کو، یعنی کہاں ہیں وہ؟ کہاں گئے ہیں وہ؟شیخ سعدی اور عمر خیام کے ان اشعار میں قیصر وکسریٰ کی داستان بیان ہوئی ہے۔ اب تم کہاں اور میں کہاں؟
بہت پہلے میں نے ایک نظم لکھی تھی جو اصل میں دعا اور فریاد ہے، اس کالم کا اسی نظم سے اختتام کرتا ہوں    ؎
فضل  پہ آتا  ہے جب  تو
ہر سُو کھلتی ہے خوشبو
دلوں سے اُبھرے  اللہ ھو
لا الہ الا اللہ 
اپنی   رحمت   کی  چادر
جب   تو  ڈالے  قطرے  پر
وہ   بھی  بنتا    ہے   گوہر 
لاا لہ الااللہ  
سب نے توڑ کے چھوڑا ہے
اپنا   منہ  بھی  موڑا   ہے
دل اب تجھ سے جوڑا  ہے
لاالہ الااللہ  
سب  پر  قادر  تیری ذات
لمحہ  ہو  یا  دن اور رات
دل میں رہتی ہے  یہ بات
لا الہ الااللہ  
تیری  عظمت  تیری  شان
مجھ سے کیا  ہوگی  بیان
میرا  ہے   اس   پر   ایمان
لا الہ الااللہ  
میں  تو  اک  بنجارہ  ہوں
گردش میں اک  تارہ  ہوں
چلتا   پھرتا    نعرہ    ہوں
لا الہ الااللہ 
حق وصداقت   کا     پیغام
اسی کو  کہتے  ہیں  اسلام
اسی سے بنتے ہیں سب کام
لا الہ الا اللہ  
سب سے اعلیٰ عالی شان
میرے   اللہ   کا  فرمان
پیار سے کہتا  ہے  قرآن
لا الہ الااللہ 
