تصاویر بتاتی ہیں کہ شمالی کوریا

واشنگٹن// پیانگ یانگ کے قریب ایک مرکز کی سیٹلائٹ تصاویر سے یہ اشارے ملے ہیں کہ شاید شمالی کوریا میزائل یا سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ سنم ڈانگ نامی مرکز کے قریب سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، یہ وہی علاقہ ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا نے زیادہ تر بلاسٹک میزائل اور راکٹس یہاں جمع کر رکھے ہیں۔ یہ خبر ایسی رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا جارہا تھا کہ سوہو میں واقع شمالی کوریا کی مرکزی راکٹ لانچ سائٹ دوبارہ تعمیر کی گئی ہے۔ سوہو کو ختم کرنے کا کام گذشتہ سال شروع ہوا تھا لیکن جیسے ہی امریکہ کہ ساتھ بات چیت شروع ہوئی تو اسے روک دیا گیا۔ جمعے کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا نے دوبارہ ہتھیاروں کے تجربے شروع کیے تو وہ بہت مایوس ہوں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں منفی انداز میں بہت حیران ہوں گا اگر انھوں نے کچھ ایسا کیا جو ہمارے سمجھوتے کے مطابق نہیں تھا۔ لیکن ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘ ’مجھے بہت مایوسی ہوگی اگر میں نے میزائل تجربہ ہوتے دیکھا۔‘ تجزیہ کاروں کا خیال ہے اس مرحلے پر زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ پیانگ یانگ میزائل تجربے کے بجائے سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ یہ ان وعدوں کی خلاف ورزی ہوگی جو شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ اْن نے صدر ٹرمپ کے ساتھ کیے تھے۔ سنم ڈانگ کے آس پاس بڑی گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھی جارہی ہے، ماضی میں ایسی سرگرمیوں کا مطلب تھا کہ شمالی کوریا کم از کم کسی قسم کے میزائل منتقل کرنے یا راکٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ کی تصاویر امریکی ریڈیو نیٹ ورک این پی آر کی طرف سے شائع کی گئی تھیں۔ ہنوئی میں صدر ٹرمپ اور کم جانگ ان کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد شاید شمالی کوریا امریکہ کا امتحان لے رہا ہے، اس امید پر کہ امریکہ اس لانچ کو رکوانے کے لیے کوئی بہتر ڈیل آفر کرے گا۔ ہماری نمائندہ کا مذید یہ کہنا ہے کہ ماہرین کے مطابق جو راکٹ سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں عموماً لانگ رینج میزائل کے لیے ان کا استعمال نامناسب سمجھا جاتا ہے۔ ویتنام کے دارالحکومت میں دونوں رہنماوں کے درمیان ایک بہت متوقع ملاقات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی تھی۔