تشدد کے شکار خاندانوں کی کفالت پورے سماج کی ذمہ داری:انجینئر رشید

کپوارہ //تشدد کے شکار خاندانوں اور شہداء کے بچوں کی کفالت کو پورے کشمیری سماج کی ذمہ داری بتاتے ہوئے عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے لوگوں سے بھروسہ مند خیراتی اداروں کی دل کھول کر معاونت کرنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ تشدد کا شکار ہونے والے لوگوں کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں تھا بلکہ وہ ایک سیاسی تنازعے کی نذر ہوگئے ہیں لہٰذا انکے لواحقین کی کفالت اور دیکھ ریکھ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ کشمیری سماج کو ذمہ داریوں کو سمجھنے اور سنجیدہ کردار نبھانے کی ضرورت ہے۔جموں کشمیر یتیم فاونڈیشن کے اہتمام اور دیگر کئی غیر سرکاری اداروں کے اشتراک سے منعقدہ ایک تقریب پر بولتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا ’’ہم مستحقین کی مدد کیلئے دوسروں پر تکیہ کرکے اپنی ذمہ داریوں سے نہیں بھاگ سکتے ہیں بلکہ ہمیں اجتماعی طور یہ بات سمجھنا ہوگی کہ 1989سے آج تک جو لوگ تشدد کا شکار ہوگئے ہیں انکا کوئی ذاتی ایجنڈا تھا اور نہ کوئی قصور بلکہ انکے خاندانوں،بالخصوص بچوں، پر ایک سیاسی تنازعہ کی وجہ سے مصیبتوں کے پہاڑ گر آئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ شہداء کے بچوں کی پورے سماج پر ذمہ داری ہے اور یہ بات یقینی بنائی جانی چاہیئے کہ انہیں بہتر سے بہتر تعلیم اور توجہ ملے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا محض زبانی بیانات اور بلند بانگ دعویداری سے نہیں بلکہ قابل اعتماد خیراتی اداروں کی دل کھول کر مدد کرنے اور انہیں مسحقین کی مدد کرنے کے لائق بنانے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’ہمیں خود کی حالت بھکاریوں کے جیسی نہیں کرنی چاہیئے اور ہمیں اپنی مدد آپ کا جذبہ پیدا کرکے سرکار پر انحصار کم کرنا چاہیئے‘‘۔انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو یکبار بڑی امداد دینے کی بجائے روزانہ،ہفتہ وار یا ماہانہ چندہ دینے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔خیراتی اداروں کو مشورہ دیتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ حاجت مندوں کی اس انداز سے مدد کی جانی چاہیئے کہ انکی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچے اور نہ ہی انہیں یہ تاثر لگنا چاہیئے کہ جیسے ان پر کوئی احسان کیا جا رہا ہو۔اس دوران تقریب کے حاشیئے پر بولتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ مزاحمتی قائدین کو این آئی اے کے سامنے رضاکارانہ طور پیش ہونے سے روکنے کیلئے سرکار نے بہانے بناکر خود کو بے نقاب کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولس حکام نے گزشتہ روز مزاحمتی قائدین کو کہیں بھی جانے کیلئے آزاد بتایا تھا اور اس بیان کے فوری بعد ان قائدین کو نظربند کردیا گیا جس سے سرکار کا ابہام،دوہرا معیار اور جھوٹ ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر پولس کا یہ کہنا، کہ مزاحمتی قائدین ریلی کی صورت میں دلی کیلئے روانہ ہونا چاہتے تھے،ایک بار پھر ثانت کرتا ہے کہ حریت کانفرنس کو بھاری عوامی حمایت حاصل ہے جسکے سامنے سرکار نے شکست تسلیم کر لی ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ اگر نئی دلی کو واقعی ایسا لگتا ہے کہ حریت کانفرنس پاکستانی امداد سے کھڑی ایک تنظیم ہے اور این آئی اے کی چھاپہ ماری کے بعد یہ تنظیم بے کار اور غیر متعلق ہوکے رہ گئی ہے تو پھ اسے ان قائدین کو دلی جانے سے روکنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس جذبات کی ترجمان تنظیم ہے جسکی اعتباریت کو تب تک ختم نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جب تک یہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کرتی رہے گی۔