تشدد اور بندوق سے نہیں ’بات چیت‘ سے مسئلے حل ہوتے ہیں: میجر جنرل اے کے سنگھ

سری نگر// ایک سینئر فوجی عہدیدار نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہتھیار اٹھانے والی نوجوانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور بندوق کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور مسئلوں کو صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ فوج کی کلو فورس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل اے کے سنگھ نے اتوار کے روز شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے ہندواڑہ میں منعقدہ ایک تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’کشمیر میں ہتھیار اٹھانے والے نوجوان کی تعداد بہت کم ہے۔ منان وانی کے بعد ایک اور نوجوان نے ہتھیار اٹھائے ہیں، لیکن ان کے گھر والوں نے ان سے واپس لوٹنے کی اپیل کی ہے۔ ان کے گھر والوں نے کہا ہے کہ یہ قدم ٹھیک نہیں ہے۔ تشدد اور بندوق کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہی مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر کے بیشتر نوجوان اس بات کو سمجھتے ہیں‘۔ وہ لولاب میں منان وانی کے بعد ایک اور نوجوان بلال احمد کی عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے سے متعلق ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ میجر جنرل اے کے سنگھ نے کہا کہ کشمیری نوجوان اپنی قابلیت سے ہر ایک شعبے میں نام کما رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’انڈین آرمی نے بہت پروگرام شروع کئے ہیں اور کشمیری نوجوان ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ کشمیری نوجوان ہر ایک شعبے میں اپنا نام کما رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ کشمیر میں آگے ہمیں اچھے حالات دیکھنے کو ملیں گے‘۔ انہوں نے کہا ’لولاب میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ صرف دو نوجوانوں نے بندوقیں اٹھائی ہیں۔ میں اس کو بڑا مسئلہ نہیں مانتا ہوں۔ کوئی نوجوان جب عسکریت پسندوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو ہماری یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کو مین اسٹریم میں واپس لایا جائے‘۔ لانچنگ پیڈس پر عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اے کے سنگھ نے کہا ’لانچنگ پیڈس پر عسکریت پسند ضرور موجود ہیں، لیکن میرے پاس ان کی صحیح تعداد موجود نہیں ہے۔ وہ دراندازی کرنے کے لئے بالکل تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔ لیکن بھارتی فورسز بھی ان کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے تیار ہیں‘۔