ترکی کی ثالثی ،یوکرین اور روس 200 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر رضامند

استنبول// ترک صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس نے 200 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر ہامی بھرلی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر طیب اردوان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی تھی اور یوکرین جنگ کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔اجلاس کے بعد اپنے ملک پہنچنے پر ترکیہ کے صدر نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ روس اور یوکرین نے 200 قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کرلیا ہے جو کہ بڑی خوش آئند بات ہے۔ترک صدر طیب اردوان نے مزید کہا کہ روسی صدر کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ جنگ کے فوری خاتمے کی خواہش رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ فروری سے جاری روس اور یوکرین کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کے بحران کا خدشہ ہے جب کہ اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔عالمی قوتوں نے روس سے تیل و گیس کی خریداری پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس سے خود روس کو بھی معاشی بحران کا سامنا ہے اور دو محاذوں پر یوکرینی فوج کے ہاتھوں پسپا بھی ہونا پڑا ہے۔ ادھرکریملن نے یوکرین میں اجتماعی قبریں ملنے کی خبر کو جھوٹ قرار دے دیا۔جاری کیے گئے بیان میں کریملن کا کہنا ہے کہ یوکرینی شہر ازیوم میں شہریوں کی اجتماعی قبریں ملنے کی خبریں جھوٹ ہیں۔کریملن کے مطابق روسی فوج شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمے دار نہیں ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یوکرین کی جانب سے پچھلے ہفتے ازیوم میں سینکڑوں اجتماعی قبریں ملنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ یوکرین نے رواں ماہ ازیوم شہر کا قبضہ روسی فوج سے واپس حاصل کیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یوکرین کی جانب سے روس سے جنگ کے بعد دوبارہ قبضے میں لیے گئے خارکیف کے شہر ازیوم سے 440 سے زائد لاشوں کی ایک اجتماعی قبر ملنے کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔ازیوم کے حوالے سے مقامی پولیس اہلکار کا میڈیا سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ یہ شہر روسی فوج سے واپس لیا گیا ہے، یہاں کہ کچھ لوگ گولہ باری اور فضائی حملوں میں مارے گئے تھے۔