ترکہ وانگام شوپیان میں7ماہ قبل نو عمرلڑکا کراس فائرنگ میں جان بحق ہوا

سرینگر//پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ضلع شوپیاں کے ترکہ وانگام علاقے میں7ماہ قبل نو عمرلڑکا محمد عمر کمہار اس وقت کراس فائرنگ میں جان بحق ہوا،جب مشتعل ہجوم نے جنگجوئوں کو فرار ہونے کا موقعہ فراہم کرتے ہوئے فوجی دستے پر پیٹرول بموں سے حملہ کیا۔ترکہ وانگام میں2مئی2018کو فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی جس دوران اگر چہ جنگجوفرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے،تاہم19برس کا نواجوان عمر کمہار جان بحق ہوا تھا۔ اس دوران پولیس نے انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن میں ایک رپورٹ پیش کی کہ اس روزعلاقے کے مرد و زن نے فوجی گشتی پارٹی پر پیٹرول بموں سے حملہ کیا،تاکہ علاقے میں چھپے جنگجوئوں کو فرار ہونے میں مدد ہو سکے۔پولیس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس دوران عمر کمارجنگجوئوں اور فوج کے درمیان کراس فائرنگ میں زخمی ہواور بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔پولیس کی یہ رپورٹ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو کی طرف سے اس واقعے میں کمیشن میں عرضی زیر نمبر SHRC/148/Sgr/2018 دائر کرنے کے بعد،متعلقہ ایس ایس پی اور ضلع ترقیاتی کمشنر کو بشری کمیشن میں رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کے نتیجے میں پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محاصرہ اور تلاشی آپریشن کے دوران اعلیٰ جنگجو کمانڈر زینت الاسلام کی سربراہی والے گروپ نے فوج پر فائرنگ کی اور مشتعل ہجوم نے بھی آپریشن کو درہم برہم کرنے کیلئے پیٹرول بم داغے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کراس فائرنگ کے دوران عمر کمہار زخمی ہوا،جس کو دمحال ہانجی پورہ اسپتال منتقل کیا گیا،جہاں وہ جان بحق ہوا۔اسے قبل پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی آر نمبر19/2918زیر دفعات148,149,336,307,332,353آر پی سی کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ2مئی کو فوج کے چیلی پورہ فوجی کیمپ سے وابستہ44آر آر پر جنگجوئوں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ فوج نے بھی جوابی کاروائی کی اور آستان محلہ ترکہ وانگام کو محاصرے میں لیا،جبکہ اس دوران ترکہ وانگام اور نواحی علاقوں کے ایک ہجوم نے سنگبازی کی اور پیٹرول بم داغے،تاکہ جنگجو فرار ہو۔رپورٹ کے مطابق کراس فائرنگ میں کچھ لوگ اور فوجی اہلکار زخمی ہوئے،جن میں عمر کمار بھی شامل تھا،جبکہ فوج نے جائے سے جھڑپ سے ایک بندوق بھی برآمد کیااور جنگجو تاریکی اور سنگبازی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوئے ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران جان بحق نوجوان عمر کمہارساکن پنجورہ اور دیگر لوگوںکے خلاف زیر دفعہ148.149,336کے تحت جرم ثابت ہواجبکہ کیس کی تحقیقات جاری ہے۔ عرض گزار محمد احسن اونتو نے پولیس کے دعوئے کو مسترد کرتے ہوئے کہا’’ یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی شہری ہلاک ہوتا ہے،تو پولیس کراس فائرنگ یا آوارہ گولی کی دلیل پیش کرتی ہے ‘ْ۔