ترنم ریاض کی افسانہ نگاری ۔ایک جائزہ

شوکت احمد راتھر
ترنم ریاض کا نام ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ خواتین افسانہ نگاروں میں سر فہرست ہے۔ نیزان کا شمار ملک کی اہم خواتین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے افسانے ادبی و معیاری ہونے کی وجہ سے ملک کے مشہور و معروف رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تخلیقات کو دنیائے ادب میں کافی سراہا گیا۔

ترنم ریاض نے ۹ اگست۱۹۶۰ ء کو سرینگر میں جنم لیا۔آپ کے والد کا نام چودھری محمد اختر خان ہے۔ چودھری محمد اختر خان خود بھی شعر و ادب سے کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ترنم ریاض نے ابتدا سے اعلی تعلیم تک کا سفر اپنی ہی ریاست میںطے کیا۔ ابتدائی تعلیم گرلز ہائی اسکول کرن نگر سرینگر سے حاصل کی۔ اس کے بعد زنانہ کالج سے بی اے کا امتحان امتیاز کے ساتھ پاس کیا ۔ پھر مزید تعلیم کے لئے کشمیر یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔یہاں سے ایم اے اردو ، بی ایڈ اور ایم ایڈ کی ڈگریاں حاصل کیں۔۱۹۸۳ ء میں ترنم ریاض نے ریاض پنجابی سے اپنی ازدواجی زندگی کا سفر شروع کیا۔

 ترنم ریاض کی شخصیت کو اللہ نے ایسے حُسن اور ذہانت سے نوازا ہے کہ اُن کی عظمت میں داخل ہونے والوں کی گردنیں عزت و احترام سے جھک جاتی ہیں۔خوبصورت چہرہ ، درمیانہ قد ، پُر نور آنکھیں اور بات کرنے کا ڈھنگ ایسا کہ لفظوں سے موتی بکھرنے لگتے ہیں اور آوازاس قدر میٹھی کہ ہر کوئی ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ ترنم ریاض ایک خلیق اور ملنسا ر خاتون ہیں۔ نرم و شریں گفتگو سے وہ لوگوں کا دل جیت لیتی ہیں۔ ادبی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ ترنم ریاض گھریلو فرائض کو بھی بخوبی نبھاتی ہیں۔

 ترنم ریاض ہمہ گیر شخصیت کی مالک ہیں۔ وہ بیک وقت افسانہ نگار ، ناول نگار، شاعرہ ، محقق ، نقاد اور مترجم بھی ہیں۔ اگر چہ انہوں نے شعروادب کے مختلف شعبوں میںخوب طبع آزمائی کی ہے ۔ لیکن بنیادی طور پروہ ایک کہانی کار ہیں۔ترنم ریاض نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ۱۹۷۳ ء میں کیا ۔ اُن کی پہلی کہانی روز نامہ ’’ آفتاب ‘‘ میں شائع ہوئی۔اس کے بعد ترنم ریاض نے مڑ کر واپس نہیں دیکھا اور ان کا ادبی سفر آج بھی رواں دواں ہے۔ان کی کہانیاں اور دیگر مضامین ہندو پاک کے موقر و معیاری اخبارات و رسائل کی زینت بنتی رہیں۔ جن میں’’ شیرازہ‘‘ ( کلچرل اکیڈمی سرینگر )’’ شعر و حکمت‘‘ ( حیدر آباد )’’ چہار سو‘‘ ( اسلام آباد )’’ شاعر‘‘( ممبئی )’’ ایوان اردو‘‘ ( دہلی)       ’’ صدا‘‘(لندن)’’ تخلیق‘‘( لاہور )’’ افکار‘‘(کراچی )’’ نیرنگ خیال‘‘ ( لاہور )’’پنچ دریا ‘‘(جالندھر)’’ جدید ادب‘‘ ( جرمنی ) وغیرہ قابل ذکر رسائل و جرائد ہیں۔ ترنم ریاض کے اب تک چار افسانوی مجموعے شائع ہوکر ادبی حلقوں میں کافی داد و تحسین حاصل کر چکے    ہیں۔ جن میں ’’ یہ تنگ زمین ‘‘(۱۹۹۸) ’’ ابابیلیں لوٹ آئیں گی ‘‘( ۲۰۰۰) ’’ یمبرزل ‘‘ (۲۰۰۴) اور ’’ مرا رخت سفر ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ افسانوی مجموعوں کے علاوہ دو ناول ’’مورتی ‘‘ اور ’’ برف آشنا پرندے ‘‘  تحقیق و تنقید کی دو کتابیں ’’ بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب ‘‘ اور ’’ چشم نقش قدم ‘‘ اور ایک شعری مجموعہ ’’ پرانی کتابوں کی خوشبو‘‘ منظر عام پر آچکے ہیں۔ مزید براں ان کے کئی تراجم کی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ترنم ریاض کی کہانیوں اور شاعری کا مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے ہیں۔ مثلاً پنجابی ، ہندی ، کشمیری ، عربی ، چینی ، تامل ، فرنچ ، وغیرہ۔ ترنم ریاض کی متعدد ادبی انجمنوں اور تنظیموں نے ان کی ادبی خدمات کے عوض اعزازات و انعامات سے نوازا ہے۔جن میں یو پی اردو اکادمی ایوارڈ ، دہلی اردو اکادمی ایوارڈ، کلچرل اکیڈیمی ایوارڈ ،ساحرا اکاڈمی لدھیانہ ایوارڈ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔درس و تدریس کے علاوہ ترنم ریاض برقی میڈیا سے وابستہ ہیں اور آل انڈیا ریڈیو میں نیوز ریڈر News reader   ہیں۔ترنم ریاض ۲۰ مئی ۲۰۲۱ء میں اس دنیا سے کوچ کر گئی۔ 

ترنم ریاض کا شمار عہد حاضر کے اہم اور نمائندہ افسانہ نگاروں میں کیا جاتا ہے۔اُ ن کا شمار اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو افسانے کو نئی جہتوں اور نت نئے تجربوں سے روشناس کیا۔وہ اکثر نئے اور اچھوتے موضوعات کا انتخاب کرنے کے بعدان موضوعات کو آپ بیتی اور جگ بیتی میں مدغم کر کے ایک نئے روپ ، ایک نئے انداز سے افسانوں میں پیش کرتی ہیں۔انہوں نے صنعتی شہروں کی گنجان آبادیوں میں نئے پیچیدہ مسائل سے جھوجھتے ہوئے انسانوں کا قریب سے مشاہدہ کیا اور ایسے موضوعات کو بھی چھیڑا جو شاید کشمیر میں رہ کر ان کے تخلیقی تخیل کا حصہ نہ بن سکتے ہیں۔ تنہائی ، اجنبیت ، بے گانگی ، عورتوں کے مسائل، نسائی نوعیت کے موضوعات ، شکست روابط اور اس طرح کے کئی موضوعات جو ان کے افسانوں میں جابجا ملتے ہیں۔

ترنم ریاض اپنی کہانیوں کے موضوعات کے انتخاب میں بہت  محتاط نظر آتی ہیں۔ان کے یہاں عصری زندگی کی عکاسی نیز اکیسویں صدی کی جدید تہذیب سے وابستہ مسائل کی نقاب کشائی بھی ملتی ہے۔ان کے موضوعات میں تنوع اور سادگی ہے۔ وہ فنی چابکدستی سے موضوع کو بکھرنے نہیں دیتی ۔وہ مختلف النوع واقعات کو اپنا موضوع بناکر قاری کو تحیر ، تجسس ، تازگی ، تہہ داری ، تڑپ اور ترسیل کے متنوع عناصر سے لطف و لذت عطا کرتی ہیں۔ان کے افسانوں میں جہاں شعلۂ حیات کی حرارت ہے جذبات کی تمازت ہے وہیں تہذیب و شائستگی کی شرافت بھی مضمر ہے جو ایک کامیاب افسانہ نگار ہونے کا بین ثبوت ہے ۔ اُن کے افسانوں کی فضا مانوس ہے۔ اسی فضا سے وہ علامتیں اور اشارے بھی چُنتی ہیں۔وہ جہاں ازدواجی زندگی پر لکھی گئی کہانیوں میں ایک ماہر نفسیات کی طرح باریک نکتوں پر فلسفیانہ بحث کرتی نظر آتی ہیں۔ وہیں طبقاتی کشمکش ، عصری انتشار اور اس سے پیدا شدہ صورت حال کو افسانہ کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔ظلم و جبر اور تشدد کے پس منظر میں لکھے گئے اُن کے افسا نے آشوب نامے سے کم نہیں ۔کشمیر باسی ہونے کے سبب ان کی کہانیوں میں ایک خاص مقامی رنگ ملتا ہے لیکن ان کی کہانیوں کے موضوعات محدود نہیں ہیں بلکہ وہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے حالات و واقعات کو بھی اپنی کہانیوں کا موضوع بناتی ہیں۔ انہوں نے جن موضوعات کو اپنی کہانیوں میں پیش کیا ہے ان میں ماں کی ممتا، گھروں میں صدیوں سے چلی آرہی ساس اور بہو کے بیچ اختلافات ، عورت کا جنسی اور نفسیاتی استحصال، بچوں کی محرومیاں، انسانوں کی محرومیاں،جانوروں کی محرومیاں،دیہاتی اور شہری زندگی کا موازنہ ، زندگی کی کشمکش ، عوام کا درد و کرب ، عسکریت پسندی سے متاثر زندگیاں اور دورحاضر کے مقامی سیاسی، سماجی اور معاشرتی مسائل وغیرہ جیسے موضوعات کی تصو یر کشی ملتی ہیں۔ان کے افسانوں میں گھر اور اس کے اندر ہونے والے واقعات و حادثات کی تصویر واضح طور نظر آتی ہے۔ چاہئے وہ ’’ خواتین حضرات ‘‘ کی سندر ی اور عاصمہ بیگم ہوں ’’ رنگ ‘‘ کی ماں یا ’’ باپ ‘‘ کا باپ ہوغرض سب کا اپنا اپنا درد ہے ، اپنے اپنے مسائل ہیں جسے مصنفہ نے اپنے افسانوں میں ابھارا ہے۔وہ ماحول کی شدت کو نہ صرف ابھارتی ہے بلکہ واقعہ کے ساتھ ساتھ کردار کے داخلی اور خارجی کیفیات پر بھی اپنی نگاہ رکھتی ہیں۔ذات کا کرب و انتشار جنس کی پامالی ، مختلف فکری روز کا باہمی ٹکراؤ اور آمیزش کے غیر فطری عوامل ، فطرت کی آزاد سے فرد کی بے ربطی ان کے افسانوں میں سمٹ آتے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیر میں پچھلے بیس تیس سال سے جو حالات بنے ہوئے ہیں ان حالات کا عکس بھی ان کی کہانیوں اور شاعری میں صاف طور پر جھلکتا ہے ۔ عتیق اللہ ترنم ریاض کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:۔

’’  ترنم ریاض کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو وہ کسک ہے جسے ایک ٹیس کی طرح ان کے افسانوں کے  بطن میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔اگر چہ ان افسانوں کا ماحول اور سارا سیاق بے حد خاموش آگیں ہے لیکن اسی خاموشی کے اندر جو بلا کا شور برپا ہے اسے ان کا قاری بہت محسوس کر لیتا ہے ۔ترنم ریاض میں چیزوں کو ان کے اندر اتر کر دیکھنے کی جو صلاحیت ہے وہ ایک افسانہ نگار کے لئے بڑی نیک فال ثابت ہوئی۔‘‘  ۱؎

ترنم ریاض نے اپنے افسانوں میں کشمیر کی زندگی ، اس کا درد ، کرب اور مسائل کو فنکارانہ انداز سے ابھارا ہے۔ افسانے’’ متاع گم گشتہ‘‘ ،’’ بابل ‘‘، ’’برف گرنے والی ہے‘‘ ،’’ میرا پیا گھر آیا‘‘ میں آنگن کی زندگی نمایاں ہے ان افسانوں میں ان کسک اور ٹیس کو با آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے جو کشمیری عوام کی زندگی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:۔

’’ ٹھہرے ہوئے بندوق بردار کے سامنے سے پہلی گاڑی کے گزرتے ہی ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس میں آگ لگ گئی ۔ پیچھے کی گاڑیاں توازن کھو کر ادھر اُدھر بکھرنے لگیں ۔ ان کے حفاظتی عملے نے چند لمحوں کے اندر اندر چاروں طرف اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں ۔ٹیلیفون بوتھ والے نے اندر سے دکان کا شٹر گرادیا تھا ۔ دلوّ کے علاوہ دو اور لوگ بھی دکان کے اندر گئے تھے۔ اب شاید کرفیو لگ چکا ہوگا ۔‘‘  ۲؎

ترنم ریاض ایک درد مند رکھنے والی حسّاس اور ذہین خاتون افسانہ نگار ہیں ۔وہ ایک تجربہ کار فنکارہ ہیں۔ ان کے افسانوں کے مطالعے کے بعد یہ بات صاف اور واضح ہوجاتی ہے کہ ترنم ریاض نے افسانہ نگاری کی مشاہیر سے ہٹ کر اپنی ایک جدا گانہ راہ اختیار کی ہے۔ جیسا کی پہلے ہی ذکر کیا جا چکا ہے کہ ترنم ریاض کے افسانوں کے موضوعات کچھ الگ یا ہٹ کر نہیں ہیں بلکہ عام زندگی کے ، گھریلو زندگی کے موضوعات ، ازدواجیزندگی میں پیار کرنے والے بھی اور ظالم شوہر بھی، بھائی بہن ، ساس بہو ، ماں کی ممتا ، گھریلو ملازم ، باہمی غلط فہمیاں اور ایسی کئی باتوں سے متعلق کرداروں کو ترنم ریاض نے اپنے قلم کی زینت بنایا ہے۔ترنم ریاض نے دیگر افسانہ نگاروں کی طرح عورت کو بھی اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔گھریلو زندگی میں پیش آنے والے تمام واقعات و حادثات اور مسائل کو ترنم ریاض نے نہایت فنی چابکدستی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ سنجیدگی کا اثر کہانی میں برابر قائم رہتا ہے ۔ ان کی تحریروں میں عریانیت یا فحاشی نہیں ملتی ہے ۔ ان کے اکثر افسانوں میں ایک مقصد اور پیغام پوشیدہ ہوتا ہے جس کو وہ اپنے افسانوں کے ذریعے قارئین تک پہنچانا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔(جاری)

(نیوہ پلوامہ،رابطہ۔ 7889605952  )

[email protected]